17

ارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کے انتخابات ، میڈیا پروفیشنلز بل پر غور ، سفارشات

پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کے انتخابات ، میڈیا پروفیشنلز بل پر غور ، سفارشات
پارلیمنٹ کی ڈائری
تحریر : پارلیمنٹ سے عباس ملک
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئی باڈی منتخب کر دی گئی ہے اس دوران چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے انتخابی عمل کا جائزہ لیا۔ ایوان بالا اور ایوان زیریں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی تنظیم پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی (پی آر اے) کے انتخابات میں صدیق ساجد صدر اور آصف بشیر چوہدری سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت میں ہونے والے انتخابات میں فاؤنڈر پینل، ورکنگ جرنلسٹس پینل اور فرینڈز پینل نے حصہ لیا۔ الیکشن کے نتائج آنے کے بعد صدر کی کرسی چوہدری صدیق ساجد کے حصے میں آئی۔ نائب صدر احمد نواز، سیکرٹری جنرل آصف بشیر چوہدری، جوائنٹ سیکرٹری میاں منیر، فنانس سیکرٹری انتظار حیدری اور سیکرٹری اطلاعات کی نشست پر ملک سعید احمد کامیاب قرار پائے۔ گورننگ باڈی کے ممبران میں زاہد یعقوب خواجہ، اورنگزیب خان کاکڑ، عاصم یاسین، عائشہ ناز، صباح بجیر، رانا طارق اور حافظ عبدالماجد کو کامیاب قرار دیا گیا۔دوران ووٹنگ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پولنگ بوتھ آئے اورانتخابی عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی آر اے کی نومنتخب قیادت پارلیمان اور صحافیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرئے گی۔ انتخابات مکمل ہونے پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پریس گیلری پارلیمان کا اہم جزو ہے، پارلیمان کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی عوام کے منتخب نمائندوں اور عوام کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرکے اہم قومی ذمہ داری سر انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی کو عوام تک پہنچانے میں پی آر اے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے فروغ اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے آزادی صحافت ضروری ہے۔ قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی اور سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے کامیاب عہدیدران کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیدران صحافیوں کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کرکے متعلقہ فورم سے حل کیلئے معاون ثابت ہونگے۔پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آراے) کے سابق صدر بہزاد سلیمی نے نو منتخب صدر پی آراے چوہدری صدیق ساجد،حافظ طاہر خلیل اور کاشف رفیق سے ملاقات کی اور انہیں انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ ملاقات میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پی آراے کی بیرونی مداخلت سے پاک، آزاد، خود مختار صحافتی تنظیم کی حیثیت برقرار رکھنے، فیصلہ سازی میں مشاورت سے آگے بڑھنے اور صحافی برادری کے بنیادی مسائل کے مستقل حل سے متعلق قانون سازی کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے جاری کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق بھی کیا گیا۔سابق صدر بہزادسلیمی نے نومنتخب صدر چوہدری صدیق ساجد کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انتخابات لڑنے والے تمام پینلز نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا، انتخابی عمل کی تکمیل کے ساتھ ہی حسب روایت تمام انتخابی پینل ختم ہوچکے، انشائاللہ ہم سب متحد رہتے ہوئے کارکن صحافیوں کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز بل پر غور ہوا پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے بل پر اپنی سفارشات پیش کیں،اس موقع پر سیکرٹری پی آر اے آصف بشیر چوہدری نے بل کی مختلف شقوں پر کمیٹی کو بریفنگ دی، کمیٹی نے کہا یہ سفارشات مرکزی کمیٹی کو بھجوائیں گے۔کنوینر کمیٹی لال چند نے کہا کہ یہ صحافیوں کا بل ہے اس لیے صحافیوں سے ہی مشاورت کررہے ہیں، ہم صحافیوں سے متعلق قانون سازی کو التواء کا شکار نہیں کرنا چاہتے، صحافی ہی اصل سٹیک ہولڈرز ہیں بل قومی اسمبلی سے جلد منظور کروائیں گے۔شازیہ مری نے کہا کہ پی ایف یو جے اور نیشنل پریس کلب نے بھی اپنی سفارشات دے دیں ورکنگ جرنلسٹس کے حقوقِ کا تحفظ بہت ضروری ہے۔صدر پی آر اے نے کہا کہ بیورو کریسی بل کی راہ میں دس سال سے رکاوٹ ہے پارلیمنٹ اونرشپ لے،ہم نے وکلاء سمیت قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد سفارشات مرتب کی ہیں۔۔سیکرٹری پی آر اے آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ صحافیوں کے جان و مال سمیت ان کے روزگار کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بل کے تحت بننے والے کمیشن میں پی آر اے کو بھی نمائندگی دی جائے، پی ایف یو جے کے ساتھ مختلف شہروں کی بار کونسل کا نمائندہ بھی شامل کیا جائے۔
دریں اثناء تحریک انصاف کو حکومت میں آئے تین برس ہو چکے ہیں اور اب اس نے چوتھے سال میں قدم رکھ دئیے ہیں۔تین سالہ کار کارکردگی بتانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ایک کنونشن بھی منعقد کیا گیا جس میں حکومتی کار کردگی کی بڑی بڑی خوبیاں بتائی گئیں۔ تین سالہ کار کردگی کو اگر ایک فقرے میں بیان کیا جائے تو اس طرح کہیں گے کہ گلاس آدھا خالی ہے جبکہ تحریک انصاف اس طرح کہہ رہی ہے کہ گلاس آدھا بھرا ہو اہے۔ تحریک انصاف کے ایک مخلص کارکن اور پندرہ برسوں سے زائد عرصے سے تحریک انصاف کے ساتھ جڑے رہنے والے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہوئے رہ جاتے ہیں کیونکہ پارٹی میں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں اور نہ ان کی عمران خان صاحب تک پہنچ ہی ممکن ہے۔ وہ دوست کہتے ہیں کہ ایسے لوگ پی ٹی آئی حکومت سے فائدے لے رہے ہیں جن کا اس جماعت اور اس کی جدو جہد سے دور دور تک کا تعلق بھی نہیں۔ اس لئے اگر سچ کہا جائے تو کار کردگی عوام کی نظروں میں صفر ہے مگر حکومت اس بات کو تسلیم نہیں کر رہی اور کہہ رہی ہے کہ کارکردگی بہترین ہے ۔
گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف حکومت کی 3 سالہ کارکردگی کے حوالے سے شہر اقتدار اسلام آباد میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان قوم سے تین سال کی کارکردگی سے متعلق آگاہ کیا جس کے بعد سیاسی و حکومتی حلقوں میں بیانات کی بارش میں مسلسل اضافہ دینے میں آیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب میں اپنی تین سالہ کارکردگی سے متعلق مختلف نکات سامنے رکھے۔عمران خان نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو 20 ارب ڈالر خسارہ تھا آج 1.8 ارب ڈالر ہے۔انہوں نے کہا جب ملک مقروض تھا ہم نے حکومتی اخراجات کم کیے۔ انہوں نے کہا کہ 10سال بعد 18 فیصد انڈسٹری میں اضافہ ہوا جبکہ سیمنٹ کی 42 فیصد سیلز بڑھی۔?گاڑیوں سے متعلق عمران خان نے بتایا کہ کاروں کی 85 فیصد سیلز بڑھی ہے۔ وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ جب اقتدار سنبھالا تو ٹیکس وصولی 3800 ارب تھی جو اب 4700 ارب روپے ہوگی ہے۔ مزید عمران خان کا تین سالہ کارکردگی سے متعلق کہنا تھا کہ 3سال قبل زرمبادلہ ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے آج 27 ارب ڈالر ہیں،اقتدار سنبھالا تو 20 ارب ڈالر خسارہ تھا آج 1.8 ارب ڈالر ہے۔یہ تھی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی کارکردگی رپورٹ جو انہوں نے پیش کی جسے اپوزیشن جماعتوں نے مکمل مسترد کر دیا جبکہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر جلسوں اور دھرنوں کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو حکومت اور فوج کا باہمی اتفاق ، بہترین کمبی نیشن ہی واحد وہ نکتہ ہے جس نے تحریک انصاف کی حکومت کو گرنے سے بچا رکھا ہے ورنہ ماضی میں کئی مثالیں ہمارے سامنے رہی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں