28

نواز شریف اب واپس نہ آئے تو عدالت کے مجرم ہوں گے، شہزاد اکبر

اسلام آباد:  وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نواز شریف اب واپس نہ آئے تو یہ عدالت کے مجرم ہوں گے جب کہ بیان حلفی پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کا کیس بن سکتاہے۔اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل انور منصور خان نے پریس کانفرنس کی، اس دوران شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہونے والی وعدہ خلافی ہمارے سامنے ہیں، سپریم کورٹ سے یہ صادق اور امین نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ لے چکے ہیں، ان کے 2 صاحب زادے اور ان کے سمدھی بھی مفرور ہوچکے ہیں لہذا انڈیمنٹی کی شرط ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے رکھی گئی جب کہ عدالت نے انڈیمنٹی بانڈ کی جگہ بیان حلفی رکھ دیا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ سزا یافتہ مجرم کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکتا لہذا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک بار باہر جانے کی اجازت دی، کابینہ کے فیصلے میں 4 نکات تھے، فیصلہ کیا گیا کہ ایک دفعہ اجازت مخصوص مدت کے لیے ہوگی اور مدت پوری ہونے پر واپس آئیں گے، حکومت پر لازم تھا کہ ان کی واپسی یقینی بنائے کیوں کہ ماضی میں بھی یہ وعدہ خلافی کرچکے ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے کابینہ کے فیصلے کو ہی برقرار رکھا ہے، انڈیمنٹی کی شرط کو معطل کیا گیا مسترد نہیں، بیان حلفی پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کا کیس بن سکتاہے اور اب واپس نہ آئے تو یہ عدالت کے مجرم ہوں گے۔اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ان کا ماضی ٹھیک نہیں اس لئے عدالت نے بیان حلفی لیا، عدالت نے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے، توسیع کے لیے انہیں دوبارہ عدالت جانا پڑے گا، نوازشریف کی ضمانت کی تاریخ سے 4 ہفتے کا وقت شروع ہوگیا، جب کہ شورٹی بانڈز کا معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس حوالے سے عدالت فیصلہ کرے گی۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کابینہ کی 3 شرائط میں سے 2 عدالت نے مان لی ہیں، عدالت نے 5 سوال بھی رکھ دیے ہیں، سزا معطلی کا مطلب سزا ختم ہونا نہیں، عدالتی فیصلے کے مطابق نوازشریف علاج کراکے واپس آجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں