33

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کا چانس موجود ہے، وزیر قانون فروغ نسیم

اسلام آباد(عباس ملک سے )  وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سزا معطل ضرور ہوئی لیکن اپنی جگہ موجود ہے۔ یہ عبوری حکم ہے، عدالت کا ابھی تفصیلی فیصلہ آنا ہے۔وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ ایڈیمنٹی بانڈ لینا کابینہ کا فیصلہ تھا۔ کابینہ نے اتفاق رائے سے نواز شریف کو چار ہفتے کی اجازت دی تھی۔ عدالت میں شہباز شریف نے ایڈیمنٹی بانڈ کے بجائے انڈر ٹیکنگ کو مان لیا۔ انہوں نے کہا کہ کریمنل جسٹس سسٹم کا ٹاسک وزیراعظم نے مجھے سونپا تھا، اس کی بہتری کے لیے کام شروع ہو چکا ہے۔وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایڈیمنٹی بانڈ ضمانتی بانڈ نہیں تھا۔ شہباز شریف کے وکلا سے ایڈیمنٹی بانڈ یا حلف نامہ مانگا تھا۔ عدالت جا کر شہباز شریف کے وکلا حلف نامے پر مان گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر نواز شریف واپس نہیں آئیں گے تو شہباز شریف پر توہین عدالت لگ سکتی ہے۔ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عبوری حکم میں عدالت زیادہ تر اپیل نہیں سنتی، فیصلے کے خلاف اپیل کی ضرورت پڑی تو کریں گے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایک بار کی اجازت دی۔ جب فائنل فیصلہ آئے گا، تب دیکھا جائے گا کہ قانونی چارہ جوئی کرنی ہے یا نہیں فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ملک میں زیادہ تر تباہی منی لانڈرنگ اور کک بیکس کی وجہ سے ہو رہی تھی۔ اب منی لانڈرنگ نہیں ہو رہی، اس لیے معیشت میں استحکام آ رہا ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈٰیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی آئی۔ معاشی اشاریوں میں بہتری یقنیناً معاشی ٹیم کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔ معاشی اشاریوں میں بہتری کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔ وزیراعظم نے معاشی اشاریے بہتر ہونے پر معاشی ٹیم کو مبارکباد دی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ غریب اور مستحق افراد کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ موثر معاشی پالیسیوں سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جیل اصلاحات موجودہ حکومت کا عزم ہے۔ عمر رسیدہ قیدی اور معمولی جرائم کی خواتین قیدیوں کا ڈیٹا اکٹھا جبکہ کریمنل جسٹس سسٹم کو ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دو نہیں ایک پاکستان کی طرف بڑھنے کے لیے قوانین کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ کابینہ نے وزیراعظم کے انسانی ہمدردی کے فیصلے کو قابل تحسین قرار دیا۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت کے پاس توہین عدالت کا کوئی اختیار نہیں، یہ عدالت کا اختیار ہے۔ حکومت کا نواز شریف کے لیے کیا گیا فیصلہ کا بیشتر حصہ ہائی کورٹ میں تسلیم کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں