34

مریخ پر میتھین گیس دریافت

اٹلی: زمین کے پڑوسی سرخ سیارے مریخ سے ایک اور اہم خبر آئی ہے کہ وہاں میتھین گیس کی حتمی تصدیق ہوچکی ہے۔ اگرچہ 16 جون 2013 کو مریخ پر اتاری گئی کیوریوسٹی خلائی گاڑی نے مریخ پر میتھین کی جانب اشارہ کیا تھا لیکن اب ایک اور آزادنہ ذریعے سے اس کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کے مارس ایکسپریس مشن نے مریخی مدار میں گردش کے دوران وہاں موجود مشہور گڑھے ’گیل کریٹر‘ سے بھی میتھین گیس کی خبر دی ہے۔ اٹلی میں قومی فلکی طبیعیات انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر مارکو گویرانا نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ دو الگ الگ مشنز نے مریخ کے ایک ہی مقام پر آزادانہ ذرائع سے میتھین گیس کی خبر دی ہے۔ اس سے قبل خود سائنسداں دو دھڑوں میں تقسیم تھے۔ ایک گروہ کا کہنا تھا کہ مریخ پر میتھین گیس کے بعض آثار موجود ہوسکتے ہیں جبکہ دوسرا گروہ اس سے انکاری تھا۔ ہماری زمین پر بھی میتھین کی بڑی مقدار ایک تو قدرتی ذرائع (گیسی ذخائر) کی صورت میں موجود ہے تو دوسری جانب چھوٹے بڑے جانوروں کے سانس لینے اور ڈکارنے یا فضلے سے اور جانداروں کے گلنے سڑنے کے عمل سے بھی میتھین پیدا ہوتی رہتی ہے۔ لیکن نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں مثلاً مشتری، زحل، یورانس اور نیپچون پر بھی میتھین گیس ملی ہے۔ مثلاً پلوٹو میں میتھین کی برف ہے اور سیارہ زحل کے چاند ٹائٹن پر مائع میتھین دریافت ہوئی ہے۔ لیکن مریخ پر اس سے قبل میتھین کے آثار نہیں ملے تھے اور اب ماہرین کےلیے اس کا راز جاننا قدرے بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ اس سے قبل بھی 2004 میں مارس ایکسپریس آربٹر نے فوریئر اسپیکٹرومیٹر کی بدولت پہلی مرتبہ مریخ پر میتھین کا اشارہ دیا تھا۔ تاہم اب اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ یہ تحقیق مشہور جریدے نیچر جیوسائنسس میں شائع ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں