30

ٹانگوں سے محروم شخص نے 17 ہزار درختوں کا جنگل قائم کردیا

بیجنگ: چین میں دونوں ٹانگوں سے محروم 70 سالہ باہمت شخص نے اپنی محنت اور مستقل مزاجی  سے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ انہوں نے 19 سال کی مسلسل محنت سے 17 ہزار درخت لگا کر ایک بنجر مقام کو سرسبز جنگل میں تبدیل کردیا ہے۔ ما سین شیاؤ سابقہ فوجی ہیں اور گھٹنوں سے نیچے تک دونوں ٹانگوں سے محروم ہیں۔ ریٹائرہونے کے بعد وہ بیمار ہوگئے اور 1985 میں ان کی دائیں اور 2005 میں ان کی بائیں ٹانگ کاٹ دی گئی جبکہ مزید سات بڑے آپریشن بھی کئے گئے جس کے بعد وہ ملازمت کے قابل نہیں رہے اور پینشن کی آمدنی سے وہ بمشکل اپنی دوا خرید سکتے تھے۔ واضح رہے کہ 1974 میں میں ان کے خون میں سمیت (زہریلا پن) پیدا ہوگیا تھا جس سے وہ بار بار آپریشن سے گزرے۔ 2000 کی ابتدا میں انہوں آمدنی کے لیے درختوں کی افزائش شروع کی اور ایک بنجرعلاقے پر پورا جنگل کاشت کردیا۔ لیکن جنگل کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ما سین شیاؤ نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اسے اب آنے والی نسلوں کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔’ میں ان درختوں کو نہ کاٹوں گا اور نہ ہی فروخت کروں گا۔ جب تک میری آخری سانسیں برقرار ہیں میں شجرکاری کرتا رہوں گا۔ آخر میں یہ سبز دولت مستقبل کے لوگوں کے لیے چھوڑ جاؤں گا،‘ سین شیاؤ نے بتایا۔ اب بھی وہ صبح 5 بجے اٹھتے ہیں اور پنیریاں اور دیگر سامان لے کر گھر سے نکل جاتے ہیں۔ پھاؤڑے اور دستانے پہن کر وہ زمین کھودتے ہیں اور ان میں پودے لگاتے ہیں۔ پھر وہ رینگ رینگ کر اپنے ہر پودے کے پاس جاکر اسے پانی دیتے ہیں۔ اس دوران وہ اکثر چوٹ کھاتے ہیں اور اب انہیں یاد ہی نہیں کہ وہ ٹانگوں سے معذوری کی بنا پر کتنی مرتبہ گر کر حادثوں کے شکار ہوچکے ہیں۔ اگرچہ شروع میں انہوں نے اپنی طرف سے ادھار میں پودے اور سامان لینا شروع کیا تھا لیکن 2008 میں ذرائع ابلاغ میں تشہیر کے بعد بہت سے لوگ ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے اور یوں شجرکاری کا سلسلہ مزید پھیلتا چلاگیا۔ انہوں نے تائی ہینگ پہاڑیوں پر 17 ہزار سے زائد درخت لگائے ہیں جس میں انہیں 19 برس لگے ہیں۔ اپنے خاندان کی جانب سے مخالفت کے باوجود وہ روز شجرکاری کرتے ہیں اور ان کا بنایا ہوا جنگل تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں