6

کوئی بھی راتوں رات چٹکی بجا کر مسائل حل نہیں کر سکتا :شاہ محمود

ملتان (صفدربخاری) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت گرانا مسئلے کا حل نہیں ، اگر یہ حل ہوتا تو کوئی بھی حکومت نہیں چل سکتی ، اپوزیشن اپنی باری کے لیے اگلے 5سال انتظار کرے ۔ وزیر خزانہ اسد عمر ہوں یا کوئی اور ہو وہ راتوں رات چٹکی بجا کر مسائل حل نہیں کر سکتا، وہ بتدریج اقدامات اٹھا رہے ہیں جن سے معیشت میں ٹھہراؤ آنا شروع ہو جائے گا اور آنا شروع بھی ہو گیا ۔ملتان میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ملک کے معاشی بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی تو تجارتی خسارہ انتہائی حدوں کو چھو رہا تھا، مالیاتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا ، ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری بے تحاشہ حد تک گر چکی تھی، قرض میں کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اس بات کا ذکر کر چکے ہیں 1948 سے لے کر 2008 تک سابقہ حکومتوں نے 6ہزار ٹریلین کا قرض اکٹھا کیا ، جب کہ اگلے 10سالوں میں ملک مجموعی طور پر 30 ہزار ٹریلین کا مقروض ہو گیا، 24ہزار ٹریلین کے اضافے کا ذمے دار کون ہے ؟ لہٰذا تحریک انصاف کی 8ماہ کی حکومت کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔وزیر خارجہ نے اپوزیشن کو پیغام دیا کہ آپ 5سال انتظار کیجیے جیسے پچھلی اپوزیشن کو 5سال انتظار کرنا پڑا تھا، 5 سال بعد ہم اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے اور پھر عوام فیصلہ کریں گے ، عوام کا ہر فیصلہ ہم کھلے دل سے قبول کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو(نیب) ایک خود مختار ادارہ ہے ، وہ حکومت کے تابع نہیں ہے ، ہم اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں نہ دباؤ میں لا سکتے ہیں اور وہ ہماری مرضی کے فیصلے بھی نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب سے قوم توقع کرتی ہے کہ وہ بغیر رعایت اور دباؤ کے کرپشن فری پاکستان کی منزل کی جانب بڑھتا چلا جائے گا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں ہیں جو پورس کے ہاتھی ہیں، سندھ مارچ کریں یا پنجاب آئیں ،یہ بلاول کا سیاسی حق ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان نے افغانستان کے معاملات میں کبھی مداخلت کی اور نہ آئندہ کرے گا۔ ہم افغان امن کے لیے سہولت کار کا کردار اداکررہے ہیں اور دوست ملک کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ افغان امن مذاکرات کااگلا مرحلہ دوحہ میں ہورہاہے ،ہمیں امید ہے کہ امریکا اورطالبان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔ حکومت گرانا مسئلے کا حل نہیں ،اپوزیشن اپنی باری کے لئے اگلے 5سال انتظار کرے 5 سال بعد اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے جو فیصلہ ہو گا قبول کرینگے ، گفتگو 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں