6

حاملہ ماں اور بچے کی نگرانی کرنے والی سولر جی پی ایس بریسلیٹ

کینیا: کینیا اور دیگر افریقی ممالک میں خانہ بدوش اور جانوروں کو چرانے والی خواتین اکثر اپنا خیال نہیں رکھ پاتیں اور اس طرح خود ان کی اور بچوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والی ایک بریسلیٹ بنائی گئی ہے جس میں جی پی ایس نظام موجود ہے۔ کینیا کی جنگلات اور میدانوں میں ایک بڑی آبادی خانہ بدوش ہے جو مویشیوں کے ساتھ ایک سے دوسرے مقام تک طویل سفر کرتی ہے۔ ابتدائی طور پر 50 حاملہ خواتین کو  شمسی توانائی سے چلنے والے بریسلٹ لگائی گئی ہیں جس میں جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) ٹریکر بھی نصب ہے۔ ان میں بعض خواتین ایسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں جہاں ڈاکٹر اور اسپتال کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ گزشتہ برس فروری میں شروع کیے گئے اس پروگرام میں اب تک 168 حاملہ خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔ صحت کی ٹیم کسی گاؤں اور قصبے میں  جانے سے قبل گاؤں کے سربراہ یا کسی رضاکار سے رابطہ کرتی ہے، جو خواتین کو ایک مقام پر جمع کرتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر اور نرس آکر ان کا معائنہ کرتے ہیں اور دوا تجویز کرتے ہیں۔ اس طرح ایک وقت میں 150 کے لگ بھگ خواتین کا معائنہ اور علاج ہوتا ہے۔ اگر کوئی خاتون راہ میں ہوں تو جی پی ایس انہیں اس سے باخبر کرتا ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم اس کا انتظار کرتی ہے۔ ہر معائنے پر کئی نئی خواتین کے امید سے ہونے کا انکشاف ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو جنسی طریقے سے پھیلنے والے امراض کےلیے بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کینیا کی دیہی خواتین کے مطابق جی پی ایس بریسلیٹ سے ان کی رجسٹریشن کے بعد مسلسل ان کی صحت کو دیکھا جاتا ہے اور ان کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں