2

ایمنسٹی سکیم کا صدارتی آرڈیننس جاری : 30 جون کے بعد جرمانے

اسلام آباد:(عباس ملک) صدر مملکت عارف علوی نے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق ایمنسٹی سکیم آرڈیننس 2019 پر دستخط کردیئے ، جس کے بعد سکیم کا فوری اطلاق ہوگیا، یہ سکیم 15 مئی 2019 سے 30 جون 2020 تک جاری رہے گی، اس سکیم کے 5 مراحل ہوں گے ، پہلا مرحلہ 30 جون 2019، دوسرا 30 ستمبر 2019، تیسرا 31 دسمبر 2019، چوتھا 31 مارچ 2020 اور پانچواں مرحلہ 30 جون 2020 کو مکمل ہوگا۔ 30 جون 2018 تک ظاہر کئے جانے والے منقولہ اثاثہ جات پر ان کی مارکیٹ میں رائج قیمت کے 4 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، سکیم کے تحت ظاہر کی جانے والی جائیداد کی مالیت میں 150 فیصد مزید اضافہ کرکے اس پر 1.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، بیرون ممالک میں پاکستانیوں کے وہ خفیہ اثاثہ جات جنہیں ظاہر کرنے کے بعد پاکستان واپس نہیں لایا جائے گا، ان پر 6فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، اسی طرح 30 جون 2018 تک کئے گئے وہ اخراجات جنہیں انکم ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کیا گیا،کی مالیت کے 4 فیصد ٹیکس ادا کرکے انہیں قانونی بنایا جاسکے گا، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کے نظام میں کام کرنے والی صنعتوں و کاروباروں کو ان کی غیرظاہرکردہ فروخت پر 2 فیصد ٹیکس ادا کرکے قانونی بنایا جاسکے گا،جو افراد 30 جون 2019 کی ڈیڈلائن گزر جانے کے بعد اپنے اثاثہ جات ظاہر کریں گے انہیں 30 ستمبر2019 تک ظاہر کرنے کی صورت میں اصل ٹیکس کے ساتھ 10 فیصد اضافی جرمانہ (ڈیفالٹ سرچارج ) ادا کرنا ہوگا، جوافراد 31 دسمبر 2019 تک اثاثے ظاہر کریں گے ان پر 20 فیصد ڈیفالٹ سرچارج ادا کرنا ہوگا۔ 31 مارچ 2020 تک اثاثے ظاہر کرنے پر 30 فیصد اور 31 مارچ 2020 سے 30 جون 2020 کے درمیان اصل ٹیکس کے ساتھ 40 فیصد ڈیفالٹ سرچارج اداکرنا ہوگا۔ روزنامہ’ دنیا ‘کو دستیاب ایمنسٹی سکیم کے قانونی مسودے کی دستاویز کے مطابق منتخب عوامی نمائندے (پبلک آفس ہولڈرز) اس سکیم سے استفادہ نہیں کرسکیں گے ، پبلک سیکٹر کمپنی بھی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکے گی، جرائم سے کمائی گئی دولت ، سونا،قیمتی پتھر بھی اس سکیم کے تحت ظاہر نہیں کئے جاسکیں گے ، انعامی بانڈز، بیریئرسرٹیفکیٹ، سٹاک مارکیٹ کے حصص یا وہ اثاثہ جات جن کی ملکیت کے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں، وہ بھی اس سکیم کے تحت ظاہر کرکے قانونی نہیں بنائے جاسکیں گے ۔ پاکستانیوں کے بیرون ملک خفیہ اثاثہ جات اور ملک کے اندر قابل ٹیکس آمدن سے زائد مالیت کے فارن کرنسی اکائونٹس کو ظاہر کرتے وقت ان پر ڈالر میں ٹیکس جمع کروانا ہوگا۔ اگر کسی ٹیکس گزار کے ذمے ٹیکسوں کے بقایاجات ہیں تووہ ان کی ادائیگی کے وقت ان لینڈ ریونیو کے افسر کی جانب سے طے کردہ شرح سے ٹیکس ادا کرکے انکم ٹیکس آرڈیننس، سیلز ٹیکس ایکٹ اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت ڈیفالٹ سرچارج سے استثنیٰ حاصل کرسکتے ہیں، پاکستان میں ظاہرکئے جانے والے اثاثہ جات پر کسی الائونس، ٹیکس کریڈٹ اور کٹوتی کی اجازت نہیں ہوگی، ایمنسٹی سکیم کے تحت منقولہ وغیرمنقولہ اثاثہ جات کو قانونی بنائے جانے کے بعد پاکستان کا کوئی ادارہ ان کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کرسکے گا، پہلے مرحلے میں اثاثے ظاہر کرنے کیلئے ٹیکس کی ادائیگی 30 جون 2019 کی رات 12 بجے تک کی جاسکے گی، بیرون ممالک سے لائے جانے والے منقولہ اثاثہ جات، جن میں فارن کرنسی اکائونٹس میں موجود رقم بھی شامل ہے ، کو ظاہر کرنے سے قبل انہیں مالک کے روپیہ یا ڈالر اکاؤنٹ میں جمع کروانا لازمی ہوگا، غیرملکی اثاثہ جات پر ٹیکس غیرملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا، پاکستان کے اندر بنائے گئے تمام منقولہ وغیرمنقولہ اثاثہ جات جیسے گاڑی، گھر،پلاٹ، بنگلہ،فارم ہائوس، باغ، ہائوسنگ سکیم، پلازہ،بینک اکاؤنٹس میں رکھی گئی رقم، بے نامی گھرکے ظاہر کرنے پر ایف بی آر کے طے کردہ فیئرمارکیٹ ویلیو سے 150 گناقیمت بڑھاکر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔گھر،پلاٹ،زرعی رقبہ یا ہاؤسنگ سکیم ہونے کی صورت میں ڈپٹی کلکٹر کے ریٹ سے 150 فیصد مزید رقم شامل کرکے اسی بنیاد سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ دیگر اثاثہ جات اگر انہیں مارکیٹ میں فروخت کیلئے پیش کیا جائے تواسی قیمت کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اگر کسی ٹیکس گزار نے سابقہ ایمنسٹی سکیم کے تحت اپنے گوشوارے ظاہر کئے ہیں اور ان کی مالیت کم ظاہر کی ہے تو انہیں ایک بار پھر موقع دیا گیا ہے کہ وہ اس سکیم کے تحت حقیقی مالیت کے حساب سے ٹیکس اداکرکے انہیں قانونی بنالیں۔ پاکستان میں ظاہر کی جانے والی رقم کو بینک اکاؤنٹ میں جمع کرواکر ظاہر کرنا ہوگا، اگر کسی کے پاس نقد زرمبادلہ موجود ہے تواسے بھی فارن کرنسی اکائونٹ میں جمع کروانا ہوگا، بے نامی اکاؤنٹس اور بے نامی اثاثہ جات کے وہی معنی ہوں گے جو بے نامی ایکٹ میں ظاہر کئے گئے ہوں گے ، غیر ظاہر کردہ اخراجات سے مراد وہ اخراجات ہوں گے جو انکم ٹیکس آرڈیننس2001کے تحت سال2018تک کئے گئے اور انہیں انکم ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کیا گیا، اس سکیم کے تحت ایف بی آر کو موصول ہونے والی تمام معلومات کو صیغہ راز میں رکھنا ہوگا ۔ آرڈیننس جاری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں