4

نوازشریف نے پاکپتن دربار اراضی عدالتی حکم کیخلاف پرائیویٹ شخص کو الاٹ کی :سپریم کورٹ

اسلام آباد:(عباس ملک) پاکپتن دربار اراضی کیس میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ پر فریقین سے 15 دن میں جواب طلب کرلیا۔ کیس کی سماعت عید کے بعد تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ نواز شریف کے وکیل نے رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے موقف اپنایا کہ رپورٹ ایک شخص نے بنائی ۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے مقدمے کے فریقین کو15دنوں میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کا مفصل جواب دینے کی ہدایت کی۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس د یئے کہ سرکاری زمین کا تحفظ ہونا چاہیے ، زمین کی الاٹمنٹ کی سمری اس وقت کے وزیرعلیٰ نواز شریف نے منظور کی، زمین کی الاٹمنٹ کا فیصلہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی تھی، سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے ایک سمری پر دستخط کر کے اراضی ایک پرائیویٹ آدمی کو دے دی؟ حقائق جاننے کیلئے معاملے پر جے آئی ٹی بنوا کر تحقیقات کرائیں۔ نوازشریف کی جانب سے رفیق رجوانہ ایڈوکیٹ پیش ہوئے اور بتایا کہ اراضی سجادہ نشین کو صرف دیکھ بھال کیلئے دی گئی لیکن سجادہ نشین نے آگے فروخت کردی۔زمین واپس لینے کا نوٹیفکیشن سیکرٹری اوقاف نے جاری کیا تھااس لئے نوازشریف کا معاملے میں کوئی کردارنہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سرکاری زمین کا تحفظ ہونا چاہیے ، الاٹمنٹ کا فیصلہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی تھی ۔ درخواست گزار کے وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ اوقاف صرف دیکھ بھال کرتا ہے ، اوقاف کی اپنی کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔پنجاب کے سرحدی علاقوں میں الاٹ کی گئیں زمینوں سے متعلق تنازع کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی اور بارڈر ایریا میں غیر متعلقہ افراد بشمول کمیٹی کے ارکان کو این او سی کے بغیر زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے اور کمیٹی کو این او سی کے حوالے سے تمام معاملات حل کرنے کی ہدایت کی ۔ جسٹس گلزار احمد نے ریما رکس دیئے کہ انڈیا میں سرحد سے 20 میل کا علاقہ کسی کو الاٹ نہیں ہوتا جبکہ پاکستان میں بارڈر کی دیوار کے قریب کاشت کار جا کر کاشتکاری کرتے ہیں۔بارڈر ایک حساس علاقہ ہوتا ہے ، آپ کہاں تک نظر رکھیں گے ، اگر آپ عام آدمی کو جا کر بارڈر پر بٹھا دیں تو وہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے ۔فاضل جج نے بارڈر ایریا سکیورٹی کمیٹی کے وکیل کو کہا کہ آپ کو ایریا کا تعین کرنا ہوگا، چیزوں کو مزید خراب مت کریں، ہمارے پاس اتنی چیزیں آتی ہیں سب کو صحیح کرنا ہمارا کام نہیں ، جو قانون کا کام ہے وہ قانون کو کرنے دیں۔ بارڈر کمیٹی میرٹ پر تمام چیزوں کو دیکھے اور حل نکالے ۔اتھارٹیز اگر بفر زون بنانا چاہتے ہیں تو بنائیں ،بارڈر ایریا بہت ہی نازک جگہ ہے ۔ بارڈر ایریا میں واٹر پارک سکیورٹی رسک ہو سکتاہے ۔سماعت کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ بارڈر ایریا سکیورٹی کمیٹی معاملے کا از سر نو جائزہ لے ،غیر متعلقہ افراد بشمول اراکین کمیٹی کو کی گئیں الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں اورایک سال میں کمیٹی این او سی کے حوالے سے تمام معاملات حل کرائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں