45

جعلی وزیر اعظم کو نہیں مانتی،یہ کرسی کی توہین : مریم نواز

اسلام آباد ،لاہور: مسلم لیگ (ن) نے عید کے بعد مہنگائی، بیروزگاری اور کاشتکاروں کے مسائل کے خلاف ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنے کہاکہ جعلی اور کٹھ پتلی وزیراعظم کو نہیں مانتی کیونکہ یہ اس کرسی کی بھی توہین ہے ۔ببانگ دہل کہتی ہوں کہ ووٹ کو عزت دو ہی بیانیہ ہے ۔پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں مسلم لیگ (ن) کا مشاورتی اجلاس چیئرمین راجہ ظفرالحق کی زیر صدارت ہوا، سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف،سینیٹر پرویز رشید، احسن اقبال، ایاز صادق، سردار یعقوب ناصر، رانا تنویر، حمزہ شہباز، مریم نواز، مشاہد اللہ خان ، پیرصابرشاہ، مرتضٰی جاوید عباسی،مریم اورنگزیب ،عبدالقادر بلوچ، سابق گورنر زبیر عمر، مفتاح اسماعیل ، خرم دستگیر، میاں جاویدلطیف، طلال چوہدری، ارکان پارلیمنٹ اور پارٹی کے مرکزی عہدیداروں نے شرکت کی ،اجلاس میں ملکی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، بڑھتی مہنگائی، ڈالر ، تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کااظہار کیا گیا، ذرائع کے مطابق مریم نواز نے گزشتہ روز بلاول بھٹو کے افطار ڈنر کے موقع پر اپوزیشن رہنمائوں سے ہونیوالی ملاقات، گفتگو بارے اجلاس کو آگاہ کیا، اجلاس میں تنظیم سازی بارے احسن اقبال نے بریفنگ دی، پارٹی میں خالی عہدوں پر نامزدگیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مہنگائی، ڈالر اور تیل و گیس قیمتوں کیخلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں سے مل کرحکمت عملی بنائی جائے گی، اجلاس نے نوازشریف کی صحت بارے تشویش کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی، اجلاس میں سب کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شریف خاندان کیخلاف سیاسی انتقامی قرار دیا گیا ، مسلم لیگ ن نے یوم تکبیر پر28 مئی کو اسلام آباد میں پہلا جلسہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، مریم نواز، حمزہ شہبازاوردیگر رہنما اسلام آباد جلسے سے خطاب کریں گے ،مرحلہ وار ملک بھر میں احتجاجی جلسے کیے جائیں گے ، مریم نواز جلسوں سے خطاب کریں گی۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ عید کے بعد عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے لندن سے بذریعہ ٹیلی فون اجلاس کے شرکا سے خطاب کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے ، اجلاس میں چند مطالبات سامنے آئے جو ہم چاہتے ہیں کہ حکومت بجٹ میں شامل کرے اور عوام کے بھی سامنے لائے ۔انہوں نے کہا مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم اجرت 20 ہزار روپے کی جائے ، بجلی اور گیس کے نرخ 31 مئی 2018 کی سطح پر واپس لائے جائیں کیونکہ نرخ بڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتیں بھی مئی 2018 کی سطح پر واپس لائی جائیں کیونکہ اس سے کاشتکار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ واپس لیا جائے اور انہیں اس سطح پر لایا جائے جو قابل برداشت ہو، آنے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے اور کسی ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہ کیا جائے ۔حکومتی پالیسیاں ملک دشمن ہیں، مہنگائی کے خلاف عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے ،ملک میں گھبرانے کا وقت آ چکا ہے ،گھبرانا نہیں تو کوئی اور کہتا ہے ،مسئلے کاحل الیکشن ہے تونئے الیکشن کا مطالبہ کریں گے لیکن فیصلہ اے پی سی کرے گی ، عوام کے مسائل کاحل حکومت کوگرانے میں ہے توحکومت کوگرانے کا مطالبہ کریں گے ۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ کی چوری سے بننے والی حکومت کی وجہ سے بحران ہے جب تک اصل ووٹ رکھنے والی جماعتوں کی حکومت نہیں آئے گی مسائل حل نہیں ہونگے ،ووٹ کی عزت نہیں کی جائے گی تو یہی حال ہو گا جو اب ملک کا ہو رہا ہے ۔ببانگ دہل کہتی ہوں کہ بیانیہ ایک ہی ہے کہ ووٹ کو عزت دو، شہبازشریف کا بیانیہ بھی وہی ہے ، بیان کرنے کا فرق ہو سکتا ہے ۔ اگر کسی کا خیال تھا کہ بیانیہ ٹھیک نہیں تو وہ اب بھی نواز شریف کے بیانیے پر آ گیا ہے ۔نواز شریف کا بیانیہ پاکستان کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے ، اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو آئین کی روح سے متصادم ہو۔مسلم لیگ (ن) کی فعالیت کو اب سب دیکھ لیں گے ۔اب پارٹی میں جان نظر آئے گی، شہبازشریف نوازشریف کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں۔ دونوں بھائیوں میں کسی بھی قسم کا اختلاف نہیں ہے ۔ مریم نواز نے کہا کہ علیمہ خان اور دوسروں کی پراپرٹی نکل آتی ہے ،مریم نواز نے کہا اگر ایک شخص کہتا ہے آئین پر عمل کرو تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو جعلی سزائیں اور جعلی مقدمے بھگت رہے ہیں، قبل ازیں مریم نواز نے مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شرکت کیلئے پا رلیمنٹ ہائوس پہنچیں تو ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ پارلیمنٹ میں بطور رکن کب آرہی ہیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بہت جلد انشا اللہ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کے پاس جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں رہا، اس حکومت کو کسی اپوزیشن یا دشمن کی ضرورت نہیں،حکومت خود ہی گر جائے گی اس سے پہلے کے کوئی اس کو گرائے ۔پہلی بار پارلیمنٹ آئی ہوں اس سے پہلے کبھی پارلیمنٹ نہیں آئی، ملک کو جمہور کی بالادستی پارلیمان کی بالادستی اور عوام کی بالادستی کے اصولوں پر ہی چلنا ہے ۔ لاہور سے سیاسی رپورٹر کے مطابق مریم نواز نے کہاکہ جعلی اور کٹھ پتلی وزیر اعظم کو نہیں مانتی یہ اس کرسی کی بھی توہین ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں