51

ندھ ہائیکورٹ نے احکامات کے باوجود صدر پاکستان کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے احکامات کے باوجود صدر پاکستان کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دس پندرہ دن میں جواب جمع کرائیں، پھر ہم دیکھیں گے،جواب آنے پردیکھنا ہوگاعارف علوی آرٹیکل 62 پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں عارف علوی کے صدرپاکستان بننے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی،درخواست گزار عظمت ریحان نے عدالت کے رو برو موقف اختیار کیا کہ عارف علوی نے 1977 میں دائر سول سوٹ کے ریکارڈ میں جعل سازی کی، موجودہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے بھی عارف علوی کیخلاف حکم جاری کیا تھا،درخواست گزار نے کہا کہ ہاکس بے پر نمک بینک کے دعوے میں خود کو”ٹرسٹی” ظاہر کیا،ڈاکٹرعارف علوی نے خود کو علویہ تبلیغ ٹرسٹ کا “کو ٹرسٹی” ظاہر کیا، 1977 سے عدالت میں زیر سماعت کیس میں تین بار عارف علوی نے حلف نامہ میں غلط بیانی کی،عدالتی ریکارڈ میں جعل سازی کرنے والا ملک کا صدر نہیں بن سکتا، عارف علوی نے جعلی دستاویزات پرہاکس بے میں 1810ایکڑ زمین کے کیس کا فیصلہ اپنے حق میں کرایا، درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ میں جعلسازی کرنےوالا ملک کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ صدر پاکستان عارف علوی کو نااہل کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں