43

ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خاتون کی زمین پر قبضے کے ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ملک کے کیا حالات آگئے، قانون نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملتان کی رہائشی خاتون کی زمین پر قبضے پر ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت کی، جہاں عدالت نے چاروں ملزمان منور حسین،مظہر حسین،طاہر حسین اور شاہد مظہر کی ضمانت قبل گرفتاری کی درخواست خارج کردی۔ ضمانت قبل گرفتاری کی درخواست خارج ہونے کے بعد پولیس نے چاروں ملزمان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا،ملزمان پر قادر پور ملتان میں عمارہ ناصر نامی خاتون کی زمین پر قبضہ اور توڑ پھوڑ کا الزام ہے۔ اس موقع پر اپنے ریمارکس میں جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ملک کے کیا حالات آگئے، قانون نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں، خاتون کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی۔ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ملزمان نے کمشنر سے زمین کی نشاندہی کیسے کروائی، زمین کی نشاندہی کرنے کا کمشنر کا اختیار کہاں سے آ گیا ، یہ تو دیوانی معاملہ ہے، زمینوں پر قبضہ کے معاملات کا سدباب ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں