41

نئی ٹی وی چینلز کو لائسنس کا اجرا روکنے کے حکم میں توسیع

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی بی اے کی درخواست پر پیمرا کو نئے ٹی وی چینلزکو لائسنس کا اجرا روکنے کے حکم میں تیس مئی تک توسیع کردی۔ عدالت نے فریقین سے آئندہ سماعت پرحتمی دلائل طلب کر لیے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے نئے ٹی وی لائسنس کے اجرا کے خلاف پی بی اے کی درخواست کی سماعت کی۔ پیمرا کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پی بی اے کی پیمرا کے سامنے زیرالتوا درخواست کا فیصلہ تین مئی کو کردیاگیا ہے۔ نئے ٹی وی لائسنس کے لئے 181 کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا 58 کو 52 بلین روپے کے لائسنس دئیے گئے عدالتی حکم امتناع کے باعث 42 کمپنیاں ابتدائی 15 فیصد رقم ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پیمرا پہلے موجود چینلز کو ریگولیٹ کرنے کی بجائے مزید لائسنس کیوں دینا چاہتا ہے۔ جو کچھ روزانہ چینلز پر ہو رہا ہے کیا پیمرا اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہے۔یہ اہم معاملہ ہے عدالت مختلف پہلو دیکھ سکتی ہے۔ دیکھا جائے گا کہ پیمرا کے اس اقدام سے انفارمیشن کے حوالے سے بنیادی انسانی حقوق متاثر تو نہیں ہو رہے۔ وکیل پی بی اے فیصل صدیقی نے کہا کہ پیمرا کا اور کوئی مقصد نہیں صرف پیسے کے لیے یہ سب کچھ کررہا ہے۔ عدالت نے لائسنس اجراء کے حوالے سے پیمرا کا حتمی فیصلہ عدالتی حکم سے مشروط کرتے ہوئے سماعت تیس مئی تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں