238

شانگلہ کہ پسماندہ گی کا ذمدار کون

شانگلہ کہ پسماندہ گی کا ذمدار کون
تحریر رضاشاہ۔شانگلہ
شانگلہ میں ترقیاتی منصبوں میں ہونے والے کرپشن میں اہم شخصیا ت پر ہاتھ ڈالنے کے امکانات انتہائی با خبر زرایع سے معلوم ہوا ہے کہ شانگلہ میں کرپٹ عناصر کے ناموں کو حتمی شکل دے دگئی ہے جس میں مقامی ناظمین کے علاوہ سیاست کے ساتھ ٹھکیداری اور اس میں بے تحاشا کرپشن کے خلاف کام کرنے والے ادارے بہت جلد حر کت میں انے والے ہیں شانگلہ کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی عوامی حلقوں نے کرپٹ عناصر کے خلاف کاروائی کو خوش آیند قرار دیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ شانگلہ کے عوام کے خون چوسنے والے اگر قانون کے گرفت میں اجاے اور شانگلہ کے غریب عوام کی لوٹی ہوئی دولت واگزار کراےٗ کیونکہ شانگلہ کے عوام غربت کے لکیر سے نچیے زندگی گزار رہے ہیں شانگلہ کے عوام کو صرف کویلہ کانوں سے لاشوں کے تحفے ملتے ہیں لیکن شانگلہ کے منتخب اور غیر منتخب سیاسی قوتوں نے
کھبی یہ نہیں سوچاکہ کویلہ کانوں میں جوانی برباد کرنے والے جوانوں کیلے شانگلہ میں متبادل روزگار کا انتظام کرنا ہمارا فرض ہے لیکن یہ صرف مگرمچھ کے انسو بہانے والے ہیں اور عوام کا اس سے کوئی فکر نہیں ان کی نطرین صرف اپنی ذاتی مفادات پر مرکوز ہوتی ہیں اور یہی سے عوام کی بے بسی اور لا چارگی شروع ہو جاتی ہے شانگلہ کی عوام کی بد قسمتی کہیے کہ ان پر اہمشہ ایسے لوگ مسلط ہوجاتے ہیں جو عوام کا خون چوس چوس کر توندیں نکال دیتے ہیں ان سیاسی سورماوں کی وجہ سے تمام ادارے بے لگام ہو چکے ہیں تعلیم کے حوالے سے شانگلہ کے عوام کو وہ سہولیات میسر نہیں جو کہ محکمہ تعلیم کا بنیادی حق ہے سیاسی مداخلت کی وجہ سے کوئی ادارہ اپنی کارکردگی کا مظاہرہ احسن طریقے انجام نہیں دے سکتے جبکہ محکمہ تعلیم میں کرپشن نے اپنی جڑیں وسیع کر دی ہے اور اس میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے اس کے بر عکس اگر دوسرے سرکاری محکموں کی موجودہ حالات زار پر ایک نظر ڈالا جاے تو ایسا معلوم ہو جایگا کہ ضلع شانگلہ میں حکومت نام کی کوئی شیے موجود ہی نہں ارباب اختیارہم کب تک ٹھوکریں کھاتے رہنگے کیا ہمیں جینے کاحق حاصل نہیں شانگلہ کو جس بے دردی کے ساتھ لوٹا گیا لیکن کسی میں پوچھنے کی ہمت نہیں ہمارے بیورو کریٹ سیاستدانوں کے زر خرید بن چکے ہیں کس کس چیز کا رونا رویا جاے یہاں تو اوے کا اوا ہی بگڑا ہوا ہے جو بھی مقتدربن جاتا ہے عوام اس کے لیے نوالے بن جاتے ہیں کول کہ مامئینواں میں جلتی جوانیاں کسی کو نظر نہیں اتی کیا کھبی کسی مقتدرنے ان جواں بیواوں اور نومولو بچوں کی محرومی اور ازیت ناک زندگی کا احساس کھبی کیا ہے نہیں کھبی نہیں اور نہ ایندکرینگے بلکہ بعض لوگوں نے تو اس سے کاروبار بنادیا ہے قدرت نے شانگلہ کو انتہالی فیاضی کے ساتھ قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے لیکن اس طرف کسی نے بھی توجہ نہیں دی سیاحت کی وازارت تین سال تک شانگلہ کے ساتھ رہا لیکن سیاحت کے حوالے سے یہاں کولی منصوبہ نہیں بنا شانگلہ میں ایسے ایسے سیاحتی مقامات ہے کہ انسان ودطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے جبکہ ہمارے بڑے صاحبان شانگلہ کو جوں کے توں رکھنا چاہتا ہے کفایت شعاری کے نعری لگانے والی حکومت اس پر نطر کیوں نہیں رکھتی کہ مرمت اور وایت واش کے نام پر لاکھوں روپے سرکاری افسران کے دفاتر اور رہایش گاہ پر خرچ کیے جاتے ہیں بیوروکریسی کو بھی لگام دینا ہوگا ہم اپنی محرمیوں کی زمہ دار سیاستد انوں کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کو بھی ٹہراتے ہے تاہم یہ ضرور ہے اگر ہمارے سیا ستدان قوم کے خیر خواہ ہوتے تو بیوروکریسی بھی اس سے قابو کرتی بدقسمتی سے ہمارے سیاستدان سرکاری افسران پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اجتماعی مفادات کی بجاے اپنے چہتوں کو نوازنے کافریضہ انجام دیتے ہیں اور یہی سے ہمارے زاول کا اغاز ہوتا ہے ہمارے بزرگ فناس میں زلیل واخوار ہورہے ہیں پیسہ پھیبک تماشہ دیکھ والامعاملا ہے فایل پر وزن نہ ہوتو پھر ادھر ادھر اڑجاتا ہے ایک گھنٹے کا کام ایک ہفتے میں بھی پورہ نہیں ہوتا پولیس اصلاحات کے باوجود مقامی ٹاوٹ تھانوں کے ارد گرد چکر لگا ے ہوے نظر اتے ہے تاہم اتنا ضرور ہوا ہے کہ ایسے لوگوں کی کسی نہ کسی حد تک حو صلہ شکنی ہولی ہے لیکن پھر بھی عادت سے مجبور یہ دلال اندر کی جھانکنے کی کوشش کر تے ہیں کیا ہم یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ ہمارے ستارے کب تک گردش میں رہنگے مقفل لیگسبوں کا تالاکب کھلے گا کون ایے گا کیا کولی منجرہ رونما ہوگا ورنہ حقیقت میں سب کو ازمالیا گیا ہے ہر کسی نے کسی نہ کسی صورت میں اقتدار میں رہنے کا اعزاز حاصل کیا ہے تا ہم کسی نے بھی شانگلہ کی محرومیوں کا ازالہ کرنا مناسب سمجا جبکہ اپنی ذات اور احباب کو نوازنے کا سلسلہ جاری رہا اور عوام پیستے رہے تختیاں لگانے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلتیاس کے لیے انتھک جہد و جہید اور لازوال قربانی کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے صاحب اختیار طبقہ میں نہیں ان لوگوں کو صرف اور صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے متحرک ہوتے ہیں جتنی خرابیان ہے۔اسطراح ٹی۔ایم۔اے الپوری۔ٹی۔ایم۔اے پورن۔ار۔ڈی۔ڈی اکاونٹ افس۔سی۔ایند ڈبلیو۔پبلیک ہیلتھ اور دیگر محکموں میں اس وقت قانون کی د ھجیاں اڑلی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوام مایوس اور بے بس ہے صوبالی حکمومت میں اہم حثیت سے کام کرنے والے وازیر صاحب کو اس طرف بھی توجہ دینا چاہیے ہمارے خیال میں احتساب نییچلے سطح سے اوپر تک ہونا چاھیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر ڈیڈک چیر مین کی زمداریاں بھی احسن طریقے نہیں نھبالی جارہی ہیں جس کی وجہ سے عوام میں روز بروزتشویش بڑھتی جارہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں