44

مصر: الاخوان کے 6 ارکان کو سنائی گئی سزائے موت کا معاملہ مفتیِ اعظم کے سپرد

قاہرہ: مصر کی ایک فوجداری عدالت نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے چھ ارکان کو قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سنائی گئی سزائے موت کا معاملہ غیر پابند حتمی رائے کے لیے ملک کے مفتیِ اعظم کو بھیج دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قاہرہ کی فوجداری عدالت نے کہا کہ یہ تمام چھ مدعاعلیہان ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد کی ہلاکت اور دوسرے الزامات میں قصور وار پائے گئے تھے اور انھیں اس مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس مقدمے میں کل 70 مدعاعلیہان کو ماخوذ کیا گیا تھا۔ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ مصر کی عدالتوں نے جولائی 2013ء میں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے الاخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت سیکڑوں رہ نماؤں اور کارکنان کو تھوک کے حساب سے قید اور پھانسی کی سزائیں سنائی ہیں۔ وہ اس وقت مختلف جیلوں میں قید بھگت رہے ہیں لیکن اب تک کسی بڑے رہ نما کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا ہے۔ قاہرہ کی فوجداری عدالت نے گذشتہ سال الاخوان کے 75 ارکان کو 2013ء میں احتجاجی دھرنوں اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے محمد بدیع سمیت سینتالیس افراد کو ان ہی الزامات میں عمرقید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان پر ریاست کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور تشدد کی شہ دینے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں