13

عدلیہ پر حکومتی حملے ناکام بنانے میں کسی کمزوری کا مظاہرہ نہ کیا جائے :نواز شریف

لاہوراسلام آباد: مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے مرکزی رہنمائوں کو ہدایت کی ہے کہ عدلیہ پر حکومتی حملے ناکام بنانے میں کسی کمزوری کا مظاہرہ نہ کیا جائے ۔ آج قومی اسمبلی اور سینٹ کی پارلیمانی پارٹی مشترکہ اجلاس میں عدلیہ پر حکومتی حملے کی جوابی حکمت عملی تیا رکرے اور دیگر اپویشن جماعتوں کیساتھ بھی رابطے کئے جائیں۔ عوام میری صحت کی فکر نہ کریں ،آئین و قانو ن کی بالا دستی کی جنگ بڑی کاز ہے اور اس کیلئے جتنی سزائیں ہوں کاٹنے کیلئے تیار ہوں۔گزشتہ روزان خیالات کا اظہارا نہوں نے جیل میں ملاقات کیلئے آنیوالے پارٹی رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں انکی والدہ بیگم شمیم اختر، صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر،حمزہ شہباز اور دیگر عزیز و اقارب ، پارٹی رہنمائوں شاہد خاقان عباسی، راجہ ظفر الحق ،سردار ایاز صادق،طلال چودھری،رانا ثنا اﷲ، پرویز رشید ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، خرم دستگیر، رفیق رجوانہ، کرنل (ر) مشبر جاوید،عطاء اﷲ تارڑ، رانا مشہود اور دیگر نے ملاقات کی اور انکی صحت کے بارے میں دریافت کیا ۔ اس موقع پر ملک کی مجموعی صورتحال خصوصاً حکومت کی جانب سے معزز عدلیہ کے ججز کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے مزید کہا کہ ن لیگ عدلیہ کا احترام کرتی ہے ۔ عدلیہ بحالی تحریک میں ن لیگ نے پہلے بھی اہم کردار ادا کیا تھا ۔پارٹی عدلیہ کے معزز جج صاحبان پر حکومتی تہمتوں کے پلندے کو بے نقاب کرے اور بھرپور مزاحمت کرے ،میں ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہوں، اپنی پروا نہیں، یہ ملک وقوم کو بچانے کا وقت ہے ۔ میرے ساتھ جو ہونا تھا ہوگیا، جو ہوگا اﷲ مالک ہے ، آپ آئینی ادارے کو بچانے کیلئے بھرپور صلاحیتیں استعمال کریں۔ووٹ کو عزت دو کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں۔ یہ پیغام ہے کہ عوام میری صحت کی فکر مت کریں، میرا مقصد بہت بڑا ہے ۔نوازشریف نے مریم اورنگزیب کو شعر کی صورت میں پیغام لکھ کر دیا ،یہ حادثات نہ سمجھیں ابھی کہ پست ہوں میں ،شکستہ ہوکے بھی ناقابل شکست ہوں میں ۔ نواز شریف نے کہا کہ عوام دیکھ لیں یہ ہے نیا پاکستان۔ پارٹی رہنمائوں نے نواز شریف کو اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں پرپولیس تشد دکے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ جس پر نواز شریف نے اسکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی جمہوری حکومت میں نہتے ، پرامن سیاسی کارکنوں پر بہیمانہ تشدد کی امید نہیں کی جا سکتی۔تحریک انصاف والوں نے کئی ماہ اسلام آباد کو مفلوج کئے رکھا مگر آج ان سے کارکنوں کا اپنی قیادت سے اظہار یکجہتی کیلئے آنا برداشت نہیں ہو سکا۔ نواز شریف نے ابتر معاشی صورتحال اور مہنگائی پر بھی تشویش ظاہر کی ۔بعدازاں ن لیگ کی نائب صدرمریم نواز نے ٹویٹس میں بتایاکہ چند دن سے والد کی طبیعت خراب ہے اور تین بار انجائنا کا اٹیک بھی ہوا مگر انہوں نے مجھے تاکید کی کہ ان کیلئے کسی بھی طرح کا ریلیف لینے کیلئے انکی بیماری کی تشہیر نہ کی جائے ،والدنے کہا یہ معاملہ اب اللّہ اور انکے درمیان ہے ۔مریم نواز نے کہا کہ ریکارڈ پر رہے کہ پچھلے دنوں مجھے نوازشریف کی طبیعت کی خرابی کی خبر کسی ذریعہ سے ملی تھی اور پورا ہفتہ کوشش کے بعد بھی ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے بتایا کہ اجازت نہ دینے کے احکامات’’اوپر‘‘ سے یعنی ظالمِ اعظم کی طرف سے جاری ہوئے ، چھوٹے اور کم ظرف انسان سے اور توقع بھی کیا؟۔دریں اثنا ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ٹویٹ میں کہا کہ نواز شریف کو ایک ہفتہ کے دوران تین سے چار بار انجائنا کا اٹیک ہوا۔ جیل کی خراب صورتحال اور گرمی کی شدت سے نواز شریف کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوا ،انکا شوگر لیول بھی ڈسٹرب ہوگیا ہے ۔ ن لیگ کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کو جمعرات کے علاوہ نواز شریف سے ملنے سے روک دیا گیا ہے ۔ نواز شریف کی ملاقاتوں کے سلسلہ میں پولیس کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ عیدالفطر کے موقع پر کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کیلئے 150 افراد کے ناموں پر مشتمل فہرست جیل حکام کے حوالے کی جا چکی ہے ۔ تاہم سپرنٹنڈنٹ کا موقف ہے کہ چاہے 500 مزید نام اور آ جائیں مگر ملاقات کیلئے جیل میں داخلے کی اجازت اسی کو ہو گی جس سے نواز شریف ملنا چاہیں گے ۔ نواز شریف سے ملاقات کے بعد کارکنوں کو انکا پیغام سناتے اورمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ نا اہل او رنالائق اعظم سوچی سمجھی سازش کے تحت عدلیہ اور پارلیمنٹ کو مفلوج کررہا ہے ،ججز کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کیخلاف آج سینئر قیادت کا مشترکہ اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کیلئے حکمت عملی بنائی جائیگی ،نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم عدلیہ پر حملے کو برداشت نہیں کرینگے اور ہدایت کی ہے کہ عدلیہ کے دفاع کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کردار ادا کیا جائے ۔ وہ شخص جو تین مرتبہ ملک کاوزیر اعظم بنا اس سے بلٹ پروف گاڑی کے ذاتی اور غیر ضروری استعمال کی پوچھ گچھ ہو رہی ہے ،یہ ثابت ہو گیا کہ ان گاڑیوں کی خریداری میں کوئی کمیشن ، کک بیک اور گھپلا ثابت نہیں ہوتا ۔ جس وزیر اعظم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑی وہ کیوں بلٹ پروف گاڑی استعمال کر رہا تھا ؟۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ڈکٹیٹر نے عدلیہ پر حملہ کیا آج جعلی وزیر اعظم بھی آمرانہ سوچ رکھتا ہے لیکن ہم اسکے حملے کو ناکام بنائینگے ۔رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ جعلی وزیراعظم کو اب بوریا بستر لپیٹنا ہوگا، ڈو مور کا مطالبہ نہ ماننے پر چیئرمین نیب کونشانہ بنایا گیا۔چیئرمین نیب سلیکٹڈ وزیراعظم کے کہنے پر اپوزیشن پر ظلم کر رہا تھا۔طلال چودھری نے کہا کہ پہلے چیئرمین کا لٹھا مشہور تھا اب چیئرمین کی ویڈیو مشہور ہوگئی ۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ہر ادارے میں سلیکٹڈ لوگ بھرتی کرنا چاہتا ہے ۔ دریں اثنا ن لیگ کے مشترکہ پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کا اہم اجلاس آج پارلیمنٹ ہائوس میں اپوزیشن لیڈرکے چیمبرمیں طلب کرلیا گیا جس کی صدارت راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کرینگے ۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے معزز ججز کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کے معاملہ پر تفصیلی غور ہوگا۔ عدلیہ پر حملے کی مزاحمت اور اس کو ناکام کرنے کی حکمت عملی مرتب کی جائیگی۔بعدازاں دیگراپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں