3

قومی اسمبلی : زارداری کی گرفتاری بلاجواز , شہباز شریف : شورشرابہ , اجلاس ملتوی

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں سابق صدر آصف زرداری کی گرفتاری کیخلاف اپوزیشن نے شدید احتجاج ،شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی کی،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سابق صدر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر نیب سے تعاون کررہے تھے ان کی گرفتاری بلاجواز ہے ۔بلاول کو تقریر نہ کرنے دینے پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کیا۔پیر کی سہ پہرقومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا، شمالی وزیر ستان میں شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیب آصف زرداری کو ہراساں کر رہا ہے ،ایک کے بعد ایک اپوزیشن کے رکن قومی اسمبلی کو اٹھایا جارہا ہے ، کیا حکومتی اراکین پر نیب کیسز نہیں ہیں لیکن ان کے ساتھ الگ سلوک اور ہمارے ساتھ الگ رویہ رکھا ہوا ہے ۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ آصف زرداری نیب میں پیش ہوتے رہے ، ہر سوال کا جواب دیتے رہے اور انہوں نے کوئی تاخیری حربے استعمال نہیں کیے ، کاش نیب اس چیز کو سراہتا۔شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری آپ سے پوری جماعت کی طرف سے اور یہاں بیٹھے حزب اختلاف کے اراکین کی طرف سے گزارش ہے کہ آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرکے ماضی کی روایت کو برقرار رکھیں۔ او آئی سی ا جلاس کے اعلامیے میں کشمیر کا ذکر تک نہ تھا۔ ایسے فورم کے اعلامیے میں کشمیر کا ذکر نہ ہونا افسوس کی بات اور ہماری ناکامی ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم کے ایک حالیہ ٹویٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے وزیر توانائی عمر ایوب کو کہا کہ مبارک ہو آپ نے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کر دیا ہے لیکن یہ صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ چیئرمین نیب نے جو انٹرویو میں میرے اوپر الزامات لگائے ہیں اگر وہ ایک چھوٹا سا ثبوت بھی دکھا دیں تو سیاست چھوڑ دونگا ، چیئرمین نیب کے انٹرویو سے ثابت ہوا نیب اور پی ٹی آئی میں چولی دامن کا ساتھ ہے ، وقت آگیا ہے چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کیا جائے اور معاملات پر وضاحت لی جائے ورنہ نیب کے مقدمات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہے گی، فواد چودھری کا عہدہ چھین لیا گیا اور وہ ڈپریشن میں آگئے ہیں ۔اسپیکر نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی اہم وزارت ہے ۔اسپیکر نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو تقریر کا موقع دیا ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے او آئی سی کے جاری اعلامیہ میں کشمیر کا ذکر شامل نہ ہونے کی بات کی، یہ اجلاس کیوں بلایا گیا یہ دیکھا جائے ۔یہ غیر معمولی نوعیت کا اجلاس تھا ہم نے کشمیر پر خصوصی اجلاس کرانے کا مطالبہ کیا کیونکہ یہ خطے کا فلیش پوائنٹ ہے اور پاکستان اس سے لاتعلق نہیں ہو سکتا۔یقیناً گزشتہ دور میں بجلی کے نئے منصوبے لگے ۔ لوڈشیڈنگ کم ہوئی تاہم گزشتہ سال رمضان میں لوڈشیڈنگ ہوتی رہی تاہم ٹرانسمیشن لائن کو بہتر نہ کر سکے اور دوگنا لاسز کو مکمل کنٹرول نہ کر سکے ۔جو آپ نے بہتری کی اس کا ہم اعتراف کرتے ہیں اور جو ہم نے بہتری لائی اس کی تحسین ہونی چاہیے ۔وزیر داخلہ نے کہاکہ گرفتاری سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ذاتی وضاحت کے لئے فلور وفاقی وزیر شیخ رشید کودیدیا جبکہ پیپلزپارٹی کے ارکان کامطالبہ تھا کہ بلاول بھٹو کو بولنے کا موقع ملنا چاہیے ۔تاہم ڈپٹی سپیکر بضد رہے کہ شیخ رشید کومائیک دے چکا ہوں پہلے وہ بات کریں گے اور بعد میں بلاول، جس میں پی پی ارکان نے ایوان میں شدید ہنگامہ کھڑا کر دیا،مسلم لیگ ن نے پی پی ارکان کا بھرپور ساتھ دیا، ارکان نے گو نیازی گو کے نعرے لگائے ۔ڈپٹی اسپیکر صورتحال کے سامنے بے بس ہوگئے اور انہوں نے اجلاس آج سہ پہر پانچ بجے تک ملتوی کر دیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں