27

سرکاری خزانے سے بیرونی دوروں کی بھی تحقیقات , ملک لوٹنے والوں سے مجرموں کی طرح نمٹنے کا وقت آگیا : عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک لوٹنے والوں سے مجرموں کی طرح نمٹنے کا وقت آگیا ہے ، قوم ملکی خزانہ لوٹنے والوں کی ستائش کرنا بند کرے ۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا منی لانڈرنگ کرنیوالوں کو پروٹو کول نہیں ملنا چاہیے ، وقت آگیا ہے کہ قوم منی لانڈرنگ کرنیوالوں سے مجرموں جیسا سلوک کرے ، منی لانڈر نگ کرنیوالوں نے قوم کو غربت میں دھکیلا، جبکہ عوام کی دولت لوٹنے والوں سے خصوصی برتاؤ ہوتا ہے ۔عمران خان نے کہا منی لانڈرنگ کرنیوالوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، آج منی لانڈرنگ کرنیوالے جمہوریت کے پیچھے پناہ لینا چاہتے ہیں۔ ادھر وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کمیشن آف انکوائری سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں سابقہ ادوار میں لئے گئے قرضوں کے غلط استعمال کی تحقیقات کیلئے کمیشن کے ضابطہ کار (ٹی او آرز)کے مسودے پر غور کیا گیا۔وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کمیشن آف انکوائری پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)کے سینئر افسر شامل ہونگے ۔ کمیشن آف انکوائری میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، آڈیٹرجنرل آفس اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) کے سینئر افسر بھی شامل ہونگے ۔اعلامیے کے مطابق انکوائری کمیشن تحقیقات کریگا کہ 2008 سے 2018 تک قرضے 24 ہزار ارب تک کیسے بڑھے ، کمیشن رقم خرچ کرنیوالے متعلقہ وزرا سمیت تمام وزارتوں اور ڈویژنز کا بھی جائزہ لے گا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ کمیشن خوردبرد پائے جانے پر رقم ریکور کرکے خزانے میں واپس لانے کیلئے بھی کام کریگا، کمیشن ذاتی استعمال اور فائدے کیلئے سرکاری خزانے کے غلط استعمال کی بھی تحقیقات کریگا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ سرکاری خزانے سے ذاتی بیرونی دوروں، بیرون ملک علاج کے اخراجات، اعلیٰ حکام کے نجی مکانوں کو کیمپ آفسز ڈکلیئر کرکے سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کی بھی تحقیقات ہونگی۔اعلامیے کے مطابق کمیشن کو بین الاقوامی شہرت کے فرانزک آڈیٹر، ماہرین کو معاونت کیلئے کمیشن میں شامل کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ حتمی ٹی او آرز اور کمیشن کے سربراہ کا اعلان اسی ہفتے کردیا جائے گا۔ دنیا نیوز ذرائع کے مطابق ماضی میں آئی جی سمیت مختلف عہدوں پر تعینات رہنے والے شعیب سڈل کو انکوائری کمیشن کا سربراہ بنانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔بعدازاں وزیراعظم کی زیرصدارت ایک اوراجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کو اپوزیشن کیخلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا اپوزیشن کی تنقید پر کھل کر جواب دیں تاکہ انہیں پروپیگنڈا کرنے کا موقع نہ ملے ۔ وزیراعظم عمران خان سے حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھراور میرپور خاص ڈویژنز سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنیوالوں میں محمد میاں سومرو، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، غوث بخش مہر، نزہت پٹھان، لعل چند، جے پرکاش، صابر حسین قائمخانی، صلاح الدین اور سائرہ بانو شامل تھیں۔ ملاقات کے دوران صوبہ سندھ کی مجموعی صورتحال، صوبہ میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور لوگوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا حکومت سندھ کے عوام کو درپیش مسائل سے مکمل آگاہ ہے ،اور وہ جلد صوبہ کا دورہ کریں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں