76

ٹیم انتظامیہ اور سینئرز کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی

لاہور:  ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور سینئرز کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی جب کہ اوور ہالنگ کے عمل میں وسیع پیمانے پراکھاڑ پچھاڑہوگی۔ ورلڈکپ میں عمومی اور خاص طور پر بھارت کے خلاف انتہائی ناقص کارکردگی نے پاکستان کرکٹ میں ہلچل مچادی ہے، بلند بانگ دعوؤں کیساتھ میگا ایونٹ کا آغاز کرنے والی ٹیم انگلینڈ کیخلاف جیت کے سوا دیگر میچز میں آسانی سے ہتھیار ڈالتی رہی،ٹیم میں گروہ بندی، ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے کپتان سرفراز احمد اور کھلاڑیوں کیساتھ اختلافات سمیت تنازعات کی بازگشت بھی سنائی دی۔ اہم مقابلوں سے قبل کرکٹرز کے سیرسپاٹوں اورشیشہ بار میں جانے کے واقعات بھی سامنے آئے،ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات انتہائی معدوم ہوچکے ہیں،اس صورتحال نے پی سی بی حکام کے ماتھے پر شکنیں بھی بڑھادی ہیں۔ کسی دور میں بولنگ کو پاکستان کی قوت کہا جاتا ہے، کئی بار بولرز نے بیٹسمینوں کی ناکامی کے بعد معمولی ہدف کا بھی دفاع کرتے ہوئے پاکستان کوکامیابیاں دلائیں لیکن چیمپئنز ٹرافی کے سوا تمام سیریز اور پھر ورلڈکپ میں بھی بولنگ بے دانت کا شیرنظر آئی، خاص طور پر نئی گیند سے وکٹیں حاصل کرکے حریفوں کو دباؤمیں لانے میں مکمل ناکامی ہوئی۔ اوپنرز ہی اپنی ٹیموں کو بہترین آغاز اور بڑے اسکور کی بنیاد فراہم کرکے پاکستانی بولنگ کی قلعی کھولتے رہے،کسی وقت عالمی نمبر ون بولر کی پہچان رکھنے والے حسن علی کا شمار اب ورلڈکپ کے ناکام ترین پیسرز میں ہورہا ہے، دیگر بولرز کی کارکردگی میں بھی تسلسل نہیں،جنید خان، فہیم اشرف جیسے بولرز کی کارکردگی کا گراف بھی اوپر کے بجائے نیچے رہا ہے، وہ بالآخر باہر بٹھا دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق اب بولنگ کوچ اظہر محمود کے بھی باہر بیٹھنے کا وقت آگیا ہے،انھیں اپنے اصل وطن انگلینڈ کیلیے بوریا بسترباندھنا ہوگا، ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ورلڈکپ سے قبل معاہدے میں توسیع کی خواہش ظاہرکی تھی لیکن بورڈ حکام انھیں فارغ کرنے کا سوچ رہے ہیں، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے پہلے ہی ورلڈکپ کے بعد ٹیم کے ساتھ مزید کام کرنے سے معذرت کرلی تھی، فیلڈنگ کوچ گرانٹ بریڈبرن کی بھی کوئی افادیت نظر نہیں آئی۔ پاکستان کا شمار ورلڈکپ میں ناقص ترین فیلڈنگ کرنے والی ٹیموں میں ہورہا ہے، ان کی ضرورت بھی باقی نہیںرہے گی، فٹنس ٹرینر گرانٹ لوڈن اور فزیو تھراپسٹ کلف ڈیکن بھی مکی آرتھر کیساتھ جہیز میں آئے تھے، دونوں کی رخصتی بھی ہوجائے گی۔ انضمام الحق کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کا کنٹریکٹ 15 جولائی کو ختم ہو جائے گا، ذرائع اس میں بھی توسیع کا امکان نہیں، شعیب ملک پہلے ہی ورلڈکپ کو اپنے ون ڈے کیریئر کا اختتام قرار دے چکے تھے، 3میچز میں 8رنز بنانے کے بعد ان کو جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں بھی اتارے جانے کا امکان نہیں، آل راؤنڈر صرف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اس فارمیٹ میں ملک کی نمائندگی کا موقع نہ دیے جانے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ سال میں ایک دو بہتر اننگز کی بدولت کیریئر کو طول دینے والے محمد حفیظ کوبھی رخصتی کا پروانہ جاری کیے جانے کا امکان ہے،سرفراز احمد شدید ترین تنقید کی زد میں ہیں جس کے بعد ان کیلیے کپتانی بچانا آسان نہیں رہا، ان کے متبادل کے نام پر غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ورلڈکپ ختم ہونے کے بعد پاکستان کی پہلی سیریزستمبر میں سری لنکا کے ساتھ ہے،خاصا وقت میسر ہونے کی وجہ سے پی سی بی چند ماہ تک مٹی ڈالو پروگرام جاری رکھتے ہوئے منیجمنٹ اور ٹیم کے پوسٹ مارٹم کا سلسلہ جاری رکھا جائیگا، بورڈ میں ایک عرصہ سے بیٹھے پرانے دانشور نئے مشورے دینگے، اوور ہالنگ کا عمل ستمبر سے قبل مکمل کرکے سری لنکا کیخلاف سیریز کی تیاری کی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں