17

مریم نواز نے حکومت سے میثاق معیشت کی مخالفت کردی

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے میثاق معیشت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مینڈیٹ چرا کر برسراقتدار آنے والی حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش نہیں کی جاتی۔مسلم لیگ (ن) میں اختلافات سامنے آگئے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز نے شہباز شریف کی جانب سے حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میثاق معیشت دراصل مذاق معیشت ہے، معیشت کا بیڑا غرق کرنے والے کے ساتھ نہ کسی قسم کی بات چیت کرنی چاہیے نہ میثاق کرنا چاہیے، مینڈیٹ چرا کر آنے والی حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش نہیں کی جاتی۔رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور میرا بیانیہ ہے کہ جعلی جعلی ہے، شہباز شریف کی اپنی رائے ہے، میں میثاق معیشت کی مخالفت کرتی ہوں، شہبازشریف بھی پارٹی فیصلے کے پابند ہیں اور ان کے پیش نظر ایسے معاملات ہوتے ہیں جو میرے سامنے نہیں ہوتے، پارٹی میں بھی باتیں ہوتی ہیں، آخری فیصلہ نوازشریف کا ہوتا ہے۔مریم نواز نے قرضہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کو شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قرضہ کمیشن صرف قرضوں نہیں تمام گرانٹس پر بھی بننا چاہیے، یہ کمیشن نہیں جے آئی ٹی ہے، اس میں آئی ایس آئی کا کیا کام اور نیب کو شامل کرنا کیا پیغام دے رہا ہے، میں نہیں چاہتی قومی سلامتی کے اداروں کو سیاست میں گھسیٹا جائے، کیوں اداروں کو متنازع بنایا جا رہا ہے، کمیشن ذاتی مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے، اس پر کسی قسم کا سیاسی دباؤ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ قرضے کی تحقیقات کسی بین الاقوامی ادارے کو کرنی چاہیے، جس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونی چاہیے۔مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کو دل کا عارضہ 20سال پرانا ہے، انہیں 3 ہارٹ اٹیک ہو چکے ہیں، تیسرا ہارٹ اٹیک نوازشریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا، اڈیالہ میں نواز شریف کو ہارٹ اٹیک سے لاعلم رکھا گیا، جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بلا کر کہا گیا نوازشریف کی طبیعت خراب ہے، نواز شریف نے مجھے اڈیالہ چھوڑ کر اسپتال جانے سے انکار کر دیا، کارڈیالوجسٹس پر گھبراہٹ طاری تھی۔ نوازشریف کے ذاتی معالج کو ایمرجنسی میں لاہور سے بلوایا گیا، ان کے ذاتی معالج کو بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ہو سکتا ہے لیکن ڈاکٹرز دباوَ میں ہیں، ڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کا کیس پیچیدہ اور ہائی رسک ہے، نوازشریف کے دل میں 7 اسٹنٹ ہیں، ان کو ایک اور بائی پاس کی ضرورت ہے، اسپتال لے جا کر نواز شریف کے چھوٹے چھوٹے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری سب پر ہوگی۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ دل کا مریض ہونے کے باوجود نواز شریف کو ضمانت نہیں دی گئی، کیوں عدلیہ کا دروازہ باربار کھٹکھٹانے کے باوجود ریلیف نہیں مل رہا، نوازشریف سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، خاندان کے 5 افراد کے علاوہ کسی کو ملنے کی اجازت نہیں، ملاقاتیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں ہوتی ہیں، جیل میں ہر بات سنی جا رہی ہے، ہماری باتیں سننے کے لیے ایک شخص کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ شرم آنی چاہیے قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں، کون سے مہذب معاشرے میں باپ بیٹی کی باتیں سنی جاتی ہیں۔رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ جعلی وزیر اعظم چھوٹا آدمی ہے، نالائق اعظم کو سمجھا چاہیے وہ شکست کھا گیا ہے، یہ آج بھی نوازشریف کی طاقت سے ڈر رہے ہیں۔ نوازشریف پر کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، نواز شریف کہتے ہیں کہ انہیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ نا تو یہ مصر ہے اور نا ہم نواز شریف کو محمد مرسی بننے دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں