77

اے پی سی: پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اسمبلیوں سے استعفے کی مخالفت کردی

اسلام آباد:  ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے آل پارٹیز کانفرنس میں اسمبلیوں سے استعفے کے بارے جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کی تجویز کی مخالفت کر دی ہے دونوں بڑی جماعتوں نے موقف اختیار کیا کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ ملکی مسائل کا حل نہیں ہے، پارلیمنٹ سے باہر رہ کر اپنا موقف بہتر طریقے سے نہیں دے سکیں گے، پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر موثر اور مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق حکومت کیخلاف آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا اجلاس اسلام آباد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 25 جولائی 2018ء کو ہونے والے عام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی، اس دن کو ملک بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام میں پیشرفت نہیں ہوئی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم یک زبان ہو کر فیصلے کریں۔ انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز دی۔اجلاس سے خطاب میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں اس سے بدترین بجٹ نہیں دیکھا۔ ہم اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ صادق سنجرانی کو تبدیل کیا جانا چاہیے، اپوزیشن نے یہ اقدام نہ اٹھایا تو عوام اعتماد نہیں کریگی۔اے این پی نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کیلئے کمیٹی بنانے کی بھی تجویز دی۔ میاں افتخار کا کہنا تھا کہ ہم تحریک سے متعلق پلان تیار کریںگے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت ہے، حکومت گرانے سے پہلےچیئرمین سینیٹ کو ہٹایا جائے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اپوزیشن کے ہونے چاہیں۔اجلاس کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اے پی سی میں ابھی مباحثہ ابتدائی سطح پر ہے، اجلاس میں مختلف رہنماؤں نے تقاریر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، تاہم ایجنڈے کے اہم نکات پر بات چیت ہونا باقی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ اے پی سی میں کیا فیصلے ہوئے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی بات چیت جاری ہے۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے؟ تو مریم نواز نے انشا اللہ کہتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے کچھ نہ کیا توعوام مایوس ہونگے، ہمیں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان میں عوام کے نمائندہ حکمران موجود نہیں، نام نہاد حکمرانوں کا ٹولہ 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کے بعد مسلط ہوا، ان انتخابات کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں