31

انصاف کی بنیاد سچ , دو چار گواہوں کو سزا ہوگی تو کچھ بہتر ہوگا : چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے 8 افراد کے قتل کے ملزموں کی سزائے موت کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران جھوٹی گواہی کے بارے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہمارے لئے تو یہ آفاقی پیغام ہے کہ اللہ کیلئے سچی گواہی دو، چاہے ماں، بہن،بھائی یا بیٹے کیخلاف ہی کیوں نہ ہو لیکن یہاں تو سچ کا کچھ پتا ہی نہیں جبکہ نظام انصاف کی بنیاد سچ پر ہوتی ہے ، دو چار گواہوں کو سزا ہو گی تو کچھ بہتر ہو گا،کچھ جھوٹے گواہ کیس بھگت بھی رہے ہیں۔عدالت نے تین ملزموں مہندی خان،میاں خان اور لیاقت علی کی اپیلیں منظور کرکے انہیں بری کر دیا جبکہ دوملزموں لعل خان اور عرفان کی بریت کے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف مدعی کی اپیل خارج کر دی ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے مدعی کے وکیل کو کہا 2005 میں کھاریاں ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر 8 افراد کو قتل جبکہ 5 افراد کو زخمی کر دیا گیا تھا لیکن آپ نے ایف آئی آر میں 30 ملزموں کو نامز د کر دیا،کیا یہ الزام آپ 35 یا 40 افراد پر لگا دیتے تو ہم مان لیتے ۔چیف جسٹس نے مقدمے میں 30 ملزموں کو نامزد کرنے پر سوال اٹھایا اور مدعی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ جتنے لوگوں پر الزام لگادیں گے تو ہم انہیں پھانسی پر چڑھا دیں گے ،جب 8 لاشیں پڑی ہو ں تو اللہ یاد آنا چاہیے ،کچھ تو سچ بولیں۔ سرکاری وکیل نے ملزموں کی بریت کی اپیلوں کی مخالفت کی۔سرکاری وکیل نے کہا 8 افراد کو قتل کرنا 2 یا 4 لوگوں کا کام نہیں ہو سکتا،یہ ایک منظم منصوبہ تھا جس میں پورا گروہ شامل تھا ۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد سزائے موت کے تین ملزموں کو بری کردیا ۔دوہرے قتل کے دوسرے کیس میں چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ وقوعہ ذاتی دشمنی کا ہے اور ذاتی دشمنی کے مقدمات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی جاسکتیں۔ تین رکنی بینچ نے ملزم عمران کیخلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے سزائے موت کے فیصلے کو بحال رکھا ۔وکیل نے دلائل میں کہا واقعہ سرے بازار ہوا اور بہت سے لوگوں نے بھی دیکھا جس پر چیف جسٹس نے کہا ذاتی دشمنی کے واقعات ایسے ہی ہوتے ہیں،گھر میں گھس کر کر کوئی نہیں مارتا۔عدالت نے زیر دفعہ 302 کے تحت ملزم عمران کی سزائے موت کو بحال رکھا ۔ملزم نے 2007 میں نارووال میں ساتھیوں سمیت فائرنگ کرکے محمد ارشد اور محمد امین کو قتل کردیا تھا ۔مقدمہ میں نامزد ایک ملزم زاہد عرف ٹیڈا مفرور ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں