43

25 جولائی کو دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یوم سیاہ منایا جائیگا , قومی قرضہ کمیشن مسترد, عوامی رابطہ مہم چلائی جائیگی : اعلامیہ , نیا چیئرمین سینیٹ لایا جائیگا : اے پی سی

اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ کو آئینی اور قانونی طریقے سے ہٹاکرنیا چیئرمین سینیٹ لانے کا اعلان کر دیا گیا ،25جولائی کو دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یوم سیاہ منایا جائیگا ،قومی قرضہ کمیشن کو مسترد کر دیا گیا اور عوامی رابطہ مہم چلا ئی جائیگی۔اے پی سی کے اختتام پر مولانا فضل الرحمن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں 12 نکاتی اعلامیہ جاری کیا، مو لانا فضل الر حمن نے کہا اے پی سی میں ہرسیاسی جماعت نے اپنا نقطہ نظرپیش کیا،طویل اجلاس میں متفقہ طور پر متعدد قراردادیں منظور کی گئیں،جن امورپراتفاق ہواوہ قوم کے سامنے رکھناچاہتے ہیں۔ 1۔ اجلاس نے بجٹ 2019 کو عوام ، تاجر ،صنعت ، صحت اور تعلیم دشمن قرار دے کر مسترد کر دیااور اعلان کیا کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی،عوام کو جعلی مینڈیٹ، دھاندلی زدہ اور نااہل حکومت کی پیدا کردہ اذیت ناک مہنگائی اور معاشی مشکلات کے کرب سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی،اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی تاکہ رائے عامہ کو عوام دشمن ایجنڈے کے خلاف منظم کیا جا سکے ،اجلاس نے حکومت کا دھاندلی سے بجٹ منظور کرانے کی کوششوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈربھی جاری کئے جائیں تاکہ وہ اپنے عوام کی نمائندگی کر سکیں۔ 2۔اجلاس نے پارلیمان آئین اور سول حکمرانی کی بالادستی پر زور دیا۔ججوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ریفرنس کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ریفرنس کو فوری واپس لیا جائے ۔اجلاس نے عدلیہ میں اصلاحات ، ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر نظر ثانی اور ازخود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ 3۔ اجلاس نے عوام کے جمہوری حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ،اجلاس نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قانون سازی کی جائے ، وہ لوگ جو سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں کئے گئے ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے ، تشدد کے استعمال کے خلاف قانون سازی کی جائے ۔سابقہ قبائلی علاقہ جات میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے 20 جولائی 2019 کو ہونے والے انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کے حالیہ نوٹیفکیشن کے تحت فوج کو پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعینات کرنے اور سمری ٹرائل کا اختیار دیا گیا ہے ،یہ نوٹیفکیشن فی الفور واپس لیا جائے ،اجلاس نے مطالبہ کیا کہ سابقہ قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی سال سے قائم حراستی مراکز کو عام جیلوں میں تبدیل کر کے ان میں قید لوگوں کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے ۔اجلاس نے میڈیا پر علانیہ اور غیر علانیہ پابندیوں اور سنسر شپ کی مذمت کی اور ان پابندیوں کو فوراً ہٹانے کا مطالبہ کیا۔اجلاس نے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس کے لئے فوری قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ۔ 4۔ اجلاس نے پارلیمانی نظام حکومت اور 18 ویں ترمیم کے خلاف علانیہ اور پس پردہ کوششوں کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ ہر ایسے اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی جس کا مقصد پارلیمانی نظام حکومت کو کمزور کرنا ہو۔ 5۔اجلاس نے منصفانہ اور غیر جانبدار احتساب پر زور دیا اور جاری یکطرفہ اور انتقامی احتساب کو مسترد کر دیا ۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ احتساب کا ایک نیا مؤثر قانون بنایا جائے جس کے تحت محض چند مخصوص طبقوں کا نہیں بلکہ تمام افراد کا ایک ہی قانون اور ایک ہی ادارے کے تحت احتساب کیا جا سکے جو قومی خزانے سے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ 6۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اداروں کو ملکی سیاست میں ہر گز مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، اجلاس نے مجوزہ قرضہ انکوائری کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے اسے پارلیمان پر حملہ اورغیر قانونی وغیر آئینی قرار دیا ۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ تمام حقائق کو عوام کے سامنے لانے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ،جس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی تعداد برابر ہو جو 2000 سے لے کر اب تک تمام گرانٹس اور قرضہ جات کے حصول اور اس کے استعمال کی تحقیقات کرے ۔ 7۔ اجلاس نے قرار دیا کہ مجوزہ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل ایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی آئینی ادارہ نیشنل اکنامک کونسل کی موجودگی میں کوئی ضرورت نہیں ،یہ اقدام اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے ، اجلاس نے اسے مسترد کر دیا 8۔اجلاس نے اپوزیشن کے تمام ممبران نے الیکشن 2018 میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے فی الفور مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ جان بوجھ کر اس کمیٹی کو غیر فعال بنا دیا گیا ہے اجلاس نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ 25 جولائی 2019 کو دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف متفقہ طور پریوم سیاہ بنایا جائے گا۔ 9۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ کل جماعتی رہبر کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی اور اس اعلامیہ کے نکات پر عمل در آمد کو یقینی بنائے گی۔اجلاس نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہٹا کر نیا چیئرمین سینیٹ لایا جائے گا اوررہبر کمیٹی سینیٹ کے نئے چیئرمین کے لئے متفقہ امیدوار کا نام بھی تجویز کرے گی۔ 10۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان میں حالیہ واقعات کے بارے میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ 11۔ اجلاس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات پر پابندی اور ان کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی نہ دینے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق نواز شریف کے ساتھ ملاقات اور ان کے ذاتی معالج کو فی الفور رسائی دی جائے اور مطالبہ کیا کہ نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر اسیران کو بنیادی دستوری اور قانونی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ 12۔اجلاس نے موجودہ حکومت کے آئین پاکستان کی اسلامی دفعات کے خلاف اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مولانافضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ہم آغاز چیئرمین سینیٹ سے کریں گے اوراختتام حکومت کے خاتمے پرہوگا،رہبر کمیٹی لاک ڈاؤن کے حوالے سے فیصلہ کرے گی تو اس پر عمل کرینگے ،تمام صوبوں میں عوامی رابطہ مہم چلائیں گے ،25 جولائی کو یوم سیاہ ابتدائی ایونٹ ہوگا، اس کے بعد بڑے جلسے شروع کئے جائیں گے ،استعفوں کے حوالے سے رہبرکمیٹی فیصلہ کرے گی توعمل کیا جائے گا،ہم سمجھتے ہیں پارلیمنٹ میں بیٹھے حکومت کے اکثر ارکان جعلی ہیں،رہبرکمیٹی اے پی سی کی روح ہے ،میثاق معیشت ایک تجویز ہے جس کا مخاطب حکومت نہیں ریاست ہے ،حکومت تو تباہی کی ذمہ دار ہے ، اس سے کیسے میثاق معیشت کیا جاسکتا ہے ،نیشنل ایکشن پلان کی طرح نیشنل اکنامک پلان کی تجویز ہے ،ملک کی معیشت ہچکولے کھارہی ہے اسے بچانا ہے تو میثاق کرنا پڑے گا،چیئرمین سینیٹ احتجاجی تحریک کا آغاز ہے ،اے پی سی احتجاج کی قرارداد ہے ، باقی کچھ روٹین کے معاملات ہیں ۔ قبل ازیں اسلام آباد میں جے یو آئی (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن کی رہا ئش گاہ پر آل پارٹیزکانفرنس 8گھنٹہ سے زائد جاری رہی ، جس میں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضا گیلانی، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق، شیری رحمن، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر،اسفند یار ولی ، میاں افتخار ،امیر حیدر خان ہوتی ،میر حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی ،آفتاب شیرپاؤ،راجہ ظفرالحق ،مولانا عبدالغفور حیدری ،نیئرحسین بخاری، شاہ اویس نورانی،مرتضیٰ جاویدعباسی ،اکرم خان درانی ،رحمت اللہ کاکڑ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا 25 جولائی 2018کو ہونے والے عام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی، اس دن کو ملک بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منانا چاہیے ،دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں ،عوام دشمن بجٹ پیش کیا گیا ،مہنگائی اور عوامی مسائل میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ، وقت آ گیا ہے کہ ہم یک زبان ہو کر فیصلے کریں،تمام اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلیوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے ، عوام کی مشکلات اور حکومت کے خاتمے کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہوگا ،حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے سڑکوں پر بھی آنا پڑے تو نکلنا چاہیے ،اس حکومت کو گرانا ہی بہتر ہے ۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا حکومت دھاندلی کے ذریعے آئی ، عوام کو مہنگائی سے بچانا ہے ، اس کے لئے حکومت کوگرانا پڑا تو گرائیں گے ،سڑکوں پر بھی آنا پڑے تو نکلنا چاہیے ،تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر کسی لائحہ عمل پر متفق ہوں، رہبر کمیٹی قائم کی جائے ، جو میثاق معیشت اور قومی چارٹر تیار کرے گی،چوری کے ووٹوں سے حکومت بنی ،عوام کی تکالیف کی ترجمانی نہ کی تو بڑا برا ہو گا،ہمیں ہر وہ حربہ اختیارکرنا چاہیے جس سے عوام کو ریلیف ملے ، عوام دشمن بجٹ نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں، اس سے پہلے اتنا بد ترین بجٹ نہیں دیکھا ، حکومت کے ہاتھ روکنے کے لئے اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں،انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے کہا چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنا چاہیے ،صادق سنجرانی کو ہٹانے کا اقدام نہ اٹھایا تو عوام اعتماد نہیں کرے گی،حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کیلئے کمیٹی بنائی جائے ۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا نیب کی قید میں تمام اسیروں کو سیاسی قیدی قرار دیا جائے ،عوام کو اپوزیشن سے بہت سی توقعات ہیں، اگر قابل عمل لائحہ عمل عوام کے سامنے نہ رکھا تو مایوسی بڑھے گی، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کی تبدیلی پر بھی متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے ، یہ پہلی اینٹ جب سرکے گی تو جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والی حکومت کی بنیادیں ہل جائیں گی،تحریک انصاف کے لئے انصاف کا ایک ترازو ہے اور اپوزیشن کے لئے دوسرا، ہم ایسے احتساب کے آگے کیوں جھک رہے ہیں؟اپوزیشن تاریخ کی بدترین دھاندلی کے خلاف موثر آواز نہیں اٹھا سکی،عمران خان اور جعلی حکومت کی نالائقی اور نااہلی بے نقاب ہو چکی ہے ، جو عوامی مہر ان پر لگ گئی وہ کبھی مٹنے والی نہیں ،ہم کب تک وسیع تر قومی مفاد کے پیچھے چھپتے رہیں گے ؟ وقت آگیا ہے کہ اس اصطلاح کو تبدیل کریں، کیا وسیع تر قومی مفاد کا مطلب ظلم کو تسلیم کر لینا اور ظلم کے سامنے گردن جھکا دینا ہے ؟یہ نہ ہو کہ حکومت سے تنگ آئی عوام ہم سے کوئی امید باندھنے کے بجائے بپھر جائے اور اپنے فیصلے خود کرلے ، اگر یہ ہوا تو بات حد سے بڑھ جائے گی، آل پارٹیز کانفرنس کو عوام کو غیر مبہم اور واضح پیغام دینا چاہیے ، الفاظ کا ہیر پھیر نہیں ہونا چاہیے ،کوئی ایسا اقدام اٹھائیں کہ عمران خان تو جائے لیکن ایسا کوئی شخص پھر نہ آسکے ،ملکی معیشت بدحالی کا شکار ہے ،عوام ہماری جانب دیکھ رہے ہیں، آج اگر صحیح فیصلے نہیں کئے تو قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی،ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں انہیں سلیکٹ کرنے والوں سے ہے ، 70 سال میں ریکارڈ قرضہ اس حکومت نے 11 مہینوں میں لیا ہے ، اگر مسلم لیگ ن پنجاب سے ، پیپلزپارٹی سندھ سے ، مولانافضل الرحمٰن اور اے این پی خیبر پختونخوا سے اور نیشنل پارٹی اور اچکزئی بلوچستان سے آکر اسلام آباد بند کردیتے ہیں تو اس پر بھی بات ہونی چاہیے ۔نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو نے کہا جب تک اس ملک کو سکیورٹی سٹیٹ سے ویلفیئر سٹیٹ نہیں بنایا جائے گا ملک ترقی نہیں کرسکتا، مضبوط فورم تشکیل دے کر فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اے پی سی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا جعلی حکومت کوقبول نہیں کر نا چاہیے ، جتنے دن رہے گی پاکستان کی صورتحال دگر گوں رہے گی،عوام نئے بجٹ کی وجہ سے پس رہے ہیں ، ایک ایک دن میں روپے کی قدر پانچ پانچ روپے گر رہی ہے ، ڈالر بڑھ رہا ہے ، صرف جون میں قرضوں میں 14 ارب روپے کا اضافہ ہوا، یہ حکومت خود ہی گر جائے گی ہمیں تردد نہیں کرنا پڑے گا،چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے تمام مسائل حل تو نہیں ہونگے لیکن جعلی حکومت لرز جائیگی،نوازشریف ، شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور میں ایک ہیں، کوئی اختلاف نہیں ، ایک دوسرے کیساتھ اختلاف تو کرسکتے ہیں البتہ فیصلہ قیادت کا ہوتا ہے جو خوش دلی سے قبول ہوتا ہے ۔ اے پی سی سے قبل متحدہ اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا آئی ایم ایف کے بنائے ہوئے عوام دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں ، عوام کومہنگائی اور ملک کو معاشی بحران سے نکالیں گے ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا عوام دشمن بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دیں گے ، قومی اسمبلی کے 2 ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہو ئے ، حکومت دھاندلی سے بجٹ منظور کرانا چاہتی ہے ۔ اسلام آباد( شاکر سولنگی، طارق عزیز )پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی تحریک کے فیصلے میں رکاوٹ بن گئے ، چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تجویز اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے دی، بلاول بھٹو چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تجویز کے پہلے مخالف پھر حامی ہوگئے ،اے پی سی میں موجود ذرائع نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ تمام چھوٹی جماعتوں کا حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے پر اتفاق ہوگیا تھا،مسلم لیگ ن کی جانب سے مریم نواز نے بھی تحریک چلانے کی حمایت کی تاہم بلاول بھٹو زرداری نے تحریک چلاکر حکومت کو گرانے کی مخالفت کردی، اے پی سی میں شریک جماعتوں نے بلاول بھٹو کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے ،ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں نے تین نسلیں اسی جمہوری اور پارلیمانی نظام کی خاطر گنوائی ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ جمہوریت کی کیا قدر ہوتی ہے ؟ حکومت جس طرح اقتدار میں آئی اور اس کی عوام دشمن پالیسیوں پر بہت سے تحفظات ہیں، اس کے باوجود جیسی بھی حکومت ہے ،جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے ، اس کو اس وقت تک چلنے دیا جائے جب تک خود نہ گرجائے ، ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمانی اور جمہوری نظام مستحکم ہو، ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی تجویز اسفند یارولی نے دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے چیئرمین سینیٹ کو ہٹایا جائے ، تمام جماعتوں نے تجویز کی حمایت کی تاہم بلاول بھٹو نے پہلے حمایت سے گریز کیا بعد میں تمام جماعتوں کے متفق ہونے پر حمایت کر دی تاہم چیئرمین سینیٹ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کی حمایت نہیں کی بلکہ تجویز دی کہ پہلے مرحلے میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے قرارداد پیش کی جائے ،جس پر فرحت اللہ بابر نے کہا چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا اتنا آسان بھی نہیں جتنا ہمارے کچھ دوست سمجھ رہے ہیں، یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں ہے ، اگر چیئرمین سینیٹ کو ہٹایا جائے تو اگلا چیئرمین سینیٹ کون ہوگا؟ فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ ایک کمیٹی قائم کی جائے جو نئے چیئرمین سینیٹ کے نام پر تمام جماعتوں سے مشاورت کرے ، فرحت اللہ بابر کی تجویز پر کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اس کمیٹی کو رہبر کمیٹی کا نام مولانا فضل الرحمن کی تجویز پر دیا گیا، 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تجویز بھی مولانا فضل الرحمن نے دی، مولانا نے اے پی سی کے آغاز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی تھی، اس لئے 25 جولائی 2019 کو ملک بھر میں یوم سیاہ کے طور ہر منانا چاہیے ،مولانا کی اس تجویز کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا، انہوں نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز بھی دی، جس کی چھوٹی جماعتوں نے تو حمایت کی تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخالفت کی وجہ سے اس تجویز پر اتفاق نہ ہوسکا، ذرائع نے بتایا مریم نواز نے بھی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنایا اور اپوزیشن کی اے پی سی کے کسی بھی فیصلے کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیا جبکہ شہباز شریف کی تقریر بجٹ اور معاشی صورتحال پر فوکس رہی،دو بڑی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے اسمبلیوں سے استعفے سمیت حکومت مخالف تحریک کی چھوٹی جماعتوں کی خواش پوری نہ ہوسکی،ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے بار بار محسن داوڑ اور علی وزیر کا ذکر کرنے اور ان کے پروڈکشن آرڈر کا مطالبہ اعلامیہ میں شامل کرنے پر زور دینے پر فضل الرحمن برہم ہوگئے ،مولانا کی ناراضی کے باعث اعلامیہ میں محسن داوڑ اور علی وزیر کا نام لکھنے سے گریز کیا گیا، ایک موقع پر جب تحریک کا فیصلہ نہ ہوسکا تو رانا ثنااللہ نے فضل الرحمن سے پوچھا کہ مولانا آپ کے اسلام آباد لاک ڈاؤن کا کیا پروگرام ہے ؟ جس پر مولانا نے جواب دیا کہ میں تو احتجاج میں ہوں، ملین مارچ کر رہا ہوں، رانا ثنااللہ نے پوچھا کہ اسلام آباد کب آرہے ہیں؟ مولانا نے کہا ابھی کوئٹہ اورپشاور کا ملین مارچ کروں گا اس کے بعد اسلام آباد آؤں گا؟ رانا ثنااللہ نے پوچھا کہ مولانا آپ اکیلے اسلام آباد لاک ڈاؤن کریں گے ؟ جس پر مولانا نے کہا میں اکیلے آؤں گا تو دو ماہ تک آؤں گا لیکن اگر اپوزیشن جماعتیں ساتھ دیں تو کل صبح بھی آسکتا ہوں۔ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کسی عملی نتیجہ پر پہنچنے اور مشترکہ جدوجہد کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی،عام آدمی اور میڈیا نے جو توقعات اور امیدیں باندھ رکھی تھیں اے پی سی ان کے پاس سے بھی نہیں گزری، مشترکہ اعلامیہ جو 9 مختلف قرار دادوں پر مشتمل ہے ، اس میں کوئی حتمی فیصلہ اور حکمت عملی نہیں ،نوجوان قیادت مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا،پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی طرف سے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں مشترکہ جلسوں کو پذیرائی نہیں مل سکی،مولانا فضل الرحمن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آئندہ دو ماہ کے لئے انہوں نے اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے احتجاجی جلسوں کاشیڈول ترتیب دے رکھا ہے ، اس لئے فوری طور پر وہ مشترکہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں میں شامل نہیں ہوسکیں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا عید الاضحی،محرم، صفر تک کوئی بڑی سرگرمی ممکن نہیں ہے ، فوری طور پر شدید گرمی میں لوگوں کو اکٹھا کرنا بھی مشکل ہوگا،رپورٹ کے مطابق 8سے 10گھنٹوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس نے آئندہ کی حکمت عملی کیلئے رہبرکمیٹی بنانے پراکتفا کیا،کمیٹی کے لئے نام بھی فائنل نہیں کئے گئے ،مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کا موقف بڑا واضح اور دو ٹوک تھا کہ جعلی حکومت اور سلیکٹڈ وزیراعظم کو مزید وقت نہیں دینا چاہیے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں کی جارہی ہیں ،اس کے لئے مشترکہ اپوزیشن کی حکمت عملی کیا ہے ؟ جس کاکسی نے جواب نہیں دیا،انہوں نے تجویز کیا کہ پہلے آپس میں معاملات طے ہونے چاہئیں،چیئرمین سینیٹ،ڈپٹی چیئرمین کون ہوگا، ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار کون ہوگا جب اتفاق رائے ہوجائے تو پھر اس کا اعلان کیا جائے ،مریم نواز نے کہا عوام اور میڈیا کو آج کے اجلاس سے بہت توقعات ہیں،ٹھوس اور واضح پیغام جانا چاہیے ،مریم نواز نے تمام مقررین کی تقاریر کے نوٹس لئے ،جن کی روشنی میں انہوں نے 4سے 5 منٹ میں اپنی بات مکمل کی،مریم نوازنے بلاول بھٹو کی تقریر کو سراہا،اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا پی پی پارلیمان کو چلتے دیکھنا چاہتی ہے ،پارلیمنٹ اور جمہوریت کے لئے میرے نانا، ماں،دو ماموں شہید ہوئے ،پارلیمان اور جمہوری نطام کیخلاف کسی اقدام کی حمایت نہیں کر سکتے ،اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے تجویز دی کہ 25جولائی کو صرف یوم سیاہ کافی نہیں بلکہ اس دن ہمیں پارلیمنٹ،نیب، الیکشن کمیشن کا گھیراؤ اور احتجاج کرنا چاہیے ،جمعیت ا ہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میرنے کہا کہ فوج کا نام ہم بندکمروں میں تو کھل کر لیتے ہیں جبکہ باہر فوج کا نام لینے سے گریز کیاجاتا ہے ،ہمیں کھل کر فوج کا نام لینا چاہیے ،محمود خان اچکزئی، میر حاصل بزنجو نے عسکری قیادت،اسٹیبلشمنٹ کیخلاف طویل تقریریں کیں،حاصل بزنجو نے انکشاف کیا کہ بلوچستان میں ثنا اللہ حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے مجھے کوئٹہ میں مقتدر حلقوں نے قبل از وقت آگاہ کر دیا تھا اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بزنجو صاحب آپ کچھ بھی نہیں کر پائیں گے ، اعلامیہ کی تیاری میں سینئر رہنماؤں راجہ ظفرالحق،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، فرحت اللہ بابر اورمولانا فضل الرحمن نے کلیدی کردار ادا کیا ،راجہ ظفرالحق کی نشاندہی پر آخر میں نواز شریف سے جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا ذکر اور مذمت شامل کی گئی،بلاول بھٹو نے اپنے والد زرداری کی نیب حراست میں علاج کی سہولت کی عدم دستیابی کا گلہ کیا، رپورٹ کے مطابق شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے دومرتبہ اجلاس سے اٹھ کر الگ مشاورت کی، ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا 99 میں نواز حکومت گرانے میں میری جدوجہد شامل تھی جس پر شرکا نے ا زراہ مذاق کہا کہ سٹیرنگ پر آپ تھے حکومت گرانے والے کوئی اور تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں