33

پاکستان کا مقابلہ خود پاکستان سے ہے, رکی پونٹنگ

کراچی: سابق آسٹریلین کپتان رکی پونٹنگ کا کہنا ہے کہ عالمی کپ کے سیمی فائنل میں رسائی کیلئے پاکستان کا مقابلہ خود پاکستان سے ہے ،گرین شرٹس کا سامنا دراصل کسی حریف سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ہی ہے ،وہ جس سے چاہیں جیت جائیں اور جس سے چاہیں ہار بھی سکتے ہیں،بھارتی وکٹ کیپر بیٹسمین پارتھیو پٹیل کا بھی یہی خیال ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنی سب سے بڑی حریف خود ہی ہے ،لاسٹ فور میں پہنچنے کیلئے آئندہ دونوں میچوں میں کامیابی کے ساتھ پاکستان کو دیگر حریفوں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔ بھارتی فلم ’’سلطان‘‘ کا مقبول ڈائیلاگ ’’سلطان کو صرف ایک آدمی ہرا سکتا ہے جو خود سلطان ہی ہے ‘‘ پاکستانی ٹیم پر بھی چسپاں کردیا گیا اور دو مرتبہ عالمی کپ جیتنے والے سابق آسٹریلین کپتان رکی پونٹنگ کا بھی 1992ء کی چیمپئن ٹیم پاکستان کے بارے میں یہی کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم جسے چاہے ہرا سکتی ہے اور جس سے چاہے ہار بھی سکتی ہے کیونکہ پاکستان کا مقابلہ کسی حریف سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے ہی ہے جو دنیا کی سب سے زیادہ ناقابل پیشگوئی ٹیم ہے ۔قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کا ناقابل پیشگوئی ہونا ان کیلئے کسی حد تک مفید ہے کیونکہ حریف ٹیمیں ان سے خوفزدہ رہتی ہیں۔واضح رہے کہ رواں عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم نے 1992ء کے نتائج کا حیران کن ری پلے پیش کر کے اپنے مداحوں کے ساتھ کھیل کے عالمی پرستاروں کو بھی حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے پر مجبور کردیا جب اس نے بھارت کیخلاف ناکامی کے بعد جنوبی افریقہ اور ایونٹ کی ناقابل شکست ٹیم نیوزی لینڈ کو بھی ٹھکانے لگا کر مضبوط کم بیک کیا کیونکہ27 برس قبل بھی عالمی کپ میں اس کے حاصل شدہ نتائج کی یہی ترتیب تھی اور اسی وجہ سے پاکستانی شائقین اس کی دوسری ٹائٹل کامیابی کی توقعات بھی کرنے لگے ہیں۔اگرچہ پاکستانی ٹیم کو لاسٹ فور میں رسائی کیلئے اگلے دونوں میچوں میں افغانستان اور بنگلہ دیش کیخلاف کامیابی درکار ہے جبکہ اسے دعا کرنا ہوگی کہ آٹھ پوائنٹس کی بدولت چوتھے نمبر پر موجود انگلش ٹیم کو بھارت اور نیوزی لینڈ کیخلاف میچوں میں سے کم از کم ایک میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے جبکہ مقابلے کی دوڑ میں شامل بنگلہ دیش اور سری لنکا بھی آئندہ میچوں میں ایک،ایک مرتبہ ناکام رہیں۔اگر کل پاکستانی ٹیم افغانستان کو ہرا دیتی ہے اور 30 جون کو بھارت کے ہاتھوں یا تین جولائی کو نیوزی لینڈ کیخلاف انگلش ٹیم کا صفایا ہوجاتا ہے تو پانچ جولائی کو بنگلہ دیش کیخلاف پاکستان کا معرکہ عملی طور پر کوارٹر فائنل کی شکل اختیار کر جائے گا تاہم دو جولائی کو بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت کیخلاف بھی میچ کھیلنا ہے جہاں جیت کی صورت میں اس کے پوائنٹس کی تعداد 9ہو جائے گی۔بات اسی جگہ ختم نہیں ہو جاتی کیونکہ چھ میچوں میں چھ پوائنٹس کی مالک سری لنکن ٹیم کے پاس بھی آگے بڑھنے کا موقع موجود ہے جو آج جنوبی افریقہ کیخلاف میدان سنبھالے گی جبکہ اسے یکم جولائی کو ویسٹ انڈیز اور چھ جولائی کو بھارت کیخلاف بھی میچ کھیلنا ہے اور یہ ممکن تو نہیں کہ وہ اپنے تینوں میچوں میں مضبوط حریفوں کو ٹھکانے لگا دے البتہ اس کی دو میچوں میں کامیابی بھی پاکستان کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے ۔پاکستانی ٹیم کیلئے آگے بڑھنے کی راہیں ہموار ہو چکی ہیں اور اگر یا مگر کے گورکھ دھندے کے باوجود امکان روشن ہے کہ اسے آخری چار ٹیموں میں جگہ مل سکتی ہے لیکن رکی پونٹنگ کی طرح اسٹار اسپورٹس پر کمنٹری کرنے والے بھارتی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل کا بھی یہی خیال ہے کہ پاکستان کا اہم ترین حریف خود پاکستان ہی ہے جس کو اپنے دن کوئی اور نہیں ہرا سکتا اور یہی سب سے اہم پہلو بھی ہے کیونکہ گرین شرٹس کو سب سے پہلے اپنے باقی دو میچز جیتنا ہوں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں