133

ضلع شانگلہ میں جاری خود ساختہ مہنگگالی کو روکنے کیلے جلدازجلد دور رست اقدامات اٹھایں گے

شانگلہ الپوری ( رضاشاہ سے ) شانگلہ کے عوامی سماجی حلقوں نے مقامی ضلعی انتظامیہ سے پور زور مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ ضلع شانگلہ میں جاری خود ساختہ مہنگگالی کو روکنے کیلے جلدازجلد دور رست اقدامات اٹھایں کیونکہ اس وقت ضلع شانگلہ میں اشیا خورد نوش کی قیمتیں اسمان سے باتیں کرنے لگی ہے غریب عوام فاقعہ کشی پر مجبور ہو گیے ہیں اور مقامی دوکانداران نے خود ساختہ اشیا کی نر خیں مقرر کر کے عوام کی چمڑی اودھڑنا شروع کردیا ہے اٹے کی بیس کیلو کی بوری کی قیمت سات سو اسیی سے بڑا کر اٹھ سو اسیی کر دی گیی ہے جبکہ چینی کی پانچ کیلو کا ریٹ دو سو ساٹ سے بڑا کر تین سو ستتر مقر کر دی گیی ہے خورد نی تیل پانچ لیٹر کا ریٹ نو سو چالیس سے بڑا کر ایک ھزار پچاس پر فروخت کرنا شروع کردیا ہے ایسا معلوم ہو رہا ہے جسے مقامی ضلعی انتظامیہ اور فوڈ انسپکٹر شہھرے خاموشاں میں چلے گیے ہوں او ر ضلع شانگلہ میں کولی قانون کا نام اونشان ہی نہ ہو مقامی کاروباری لوگ بے لگام گھڑوں کی طراح ازاد گم پیر رہے ہیں اور جب کسی دوکاندار سے حالیہ مہنگگالی کہ بارے میں پوچھا جاے تو واپسی میں جواب ملتا ہے کہ تبدیلی ای ہے یاد رہے کے کسی بھی دوکاندار کے ساتھ کولی بھی سرکاری نرخ نامہ تک موجود نہیں ہے اور اپنی مرضی سے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں غریب عوام جائیں تو کہاں اور کس کے پاس جائیں اسطراح ٹرانسپوٹروں نے بھی اپنے کرایوں میں بغر کسی سرکاری حکم نامے کہ اضافہ کردیا ہے اور ایک سٹاف سے دوسرے سٹاف تک بیس سے تیس روپے تک اپنی مرضی سے اضافہ کیا ہوا ہے اور ایسا معلوم ہو رہا ہے جسے اس ملک میں نہ کولی قانون ہے اور نہ قانون کے رکھوالے کیونکہ ان من مانیوں کو روکھنے کیلے حکومتی اداروں نے ابھی تک کسی قسم کی کو اقدامات نہیں کیے ہیں جو موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے عوامی حلقوں نے حکومتی ذمداران سے مطالبہ کیا ہے کہ ناجایز منافع خور ان کالی بیھڑوں سے جتنی جلدی ہو سکیں عوام کو ازاد کیا جاے اور ملوث افراد کو قرار واقعہ سزا دی جاے تاکہ ایندہ کیلے کوی اسطراح قانون کو اپنی ہاتھونں میں لینے کی کو شش نہ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں