60

تھانہ گگو پولیس ضلع وہاڑی کا انوکھا کارنامہ جنات کی مدد حاصل کرلی

گگومنڈی :  تھانہ گگو پولیس ضلع وہاڑی نے جنات کی مدد حاصل کر لی۔ عبدالستار گجر ایس ایچ او گگو ضلع وہاڑی اور خالد جٹ اے ایس آئی نے ایس پی انویسٹی گیشن ضلع وہاڑی کی ہدایت پر مقدمہ درج کرنے کے سلسلہ میں مبینہ طور پر جنات کی مدد حاصل کرلی۔انسانی عقل ان کے کارنامے پر حیران ۔مدعی عبدالغفار سکنہ 245 ای۔بی تھانہ گگو کے بیٹے کے ساتھ 3 جون 2019 کو ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ایس ایچ او  گگو عبدالستار گجر نے اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کے لیے ٹال مٹول سے کام لیا۔کیونکہ ڈکیتی کے مقدمات کے اندراج سے پولیس کی کارکردگی ناقص ظاہر ہوتی ہے۔اس لیے پولیس افسران کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کے تھانہ میں ڈکیتی کا مقدمہ درج نہ ہو۔یا اگر درج کرنا بھی پڑ جائے تو فورا” اس کو خارج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یا کسی غریب پر ڈال کر فورا” اس کو نمٹایا جاتا ہے۔یہ پریکٹس پنجاب بھر میں عام ہے۔ سائل عبدالغفار نے ۔ایس ایچ او گگو کے رویہ سے دل برداشتہ ہو کر ڈسٹرکٹ کمپلینٹ آفیسر/ ایس پی انویسٹی گیشن ضلع وہاڑی کے دفتر میں درخوست نمبر 149 سی سی مورخہ 12-6-2019 گزاری ۔جس پر 26-6-2019 کو ایس پی صاحبہ نے سائل عبدالغفار کو سماعت کرنے کے بعد ۔ایس ایچ او  گگو کو مقدمہ درج کرنے کے احکامات بھیجے۔ایس ایچ او نے آرڈر چھپا لیے۔دوبارہ ایس پی صاحبہ کو شکایت گزاری گئی تو ایس ایچ او شدید ناراض ہوا۔اور سائل کو درخواست فرنٹ ڈیسک پر جمع کروانے کا حکم دیا۔سائل نے ای۔ٹیگ نمبر Gaggo-7/11/2019-2260 کے تحت شام 7 بجے تھانہ گگو کے فرنٹ ڈیسک پر درخواست آن لائن کروائی۔ جو قیصر عباس اے ایس آئی کے سپرد ہوئی۔ایس ایچ او نے اس سے درخواست چھین کر غیر قانونی طور خالد جٹ اے ایس آئی کو دے دی۔جس نے 7 بجے شام کو آن لائن ٹیگ لگی درخواست پر پولیس کاروائی لکھی کہ عبدالغفار نے 225 ای۔بی من اے ایس آئی  کو 6 بجکر 5 منٹ پر درخواست پیش کی ہے اور 6 بجکر 30 منٹ پر ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے۔154 ض ف کی کاروائی میں روانہ موقعہ کا ہوتا ہوں کا کچھ ذکر نہ ہے۔اور نہ ہی موقع پر جا کر نقشہ بنایا اور نہ ہی گواہان کے بیانات زیر دفعہ 161 ض ف درج کیے۔اس طرح 154 ض ف کے تحت کاروائی کی شدید ترین خلاف ورزی کی گئی۔154 ض ف کی کاروائی میں موقع پر جاکر ضابط کی کاروائی ضروری ہوتی ہے۔ مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔اور مقدمہ 6 بجکر 45 منٹ پر خارج بھی کر دیا گیا۔اب خالد جٹ اے ایس آئی اور عبدالستار گجر ۔ایس ایچ او نے نامعلوم افراد کے خلاف 7 بجے جمع ہونے والی درخواست پر ایک گھنٹہ پہلے کیسے کاروائی کر لی؟ ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پولیس نے جنات کے ذریعے ایک گھنٹہ قبل ہی ساری کاروائی مکمل کرکے مقدمہ خارج کر دیا ۔ایس ایچ او نے جنات کے ذریعے درخواست کا پتہ چلایا کہ درخواست برخلاف نامعلوم ملزمان 7 بجے آن لائن ہوکر ٹیگ لگنا ہے۔اس لیے اسی درخواست پر مدعی کے آنے سے پہلے ہی ساری کاروائی مکمل کرلی۔مدعی عبدالغفار نے ایس ایچ او گگو اور خالد جٹ کے فراڈ کی بابت پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 155 سی کے تحت ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ہے۔اور ایف آئی آر کی میرٹ ہر تفتیش کرنے کی استدعا کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں