28

تاجروں کی بجٹ کیخلاف ملک گیر ہڑتال, کہیں مکمل, کہیں جزوی طور پرکاروبار بند مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہیگا: تاجر رہنما,بلیک میل نہیں ہونگے: حکومت

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور ، کوئٹہ: وفاقی بجٹ کیخلاف تاجروں نے ملک گیر ہڑتال کی ،کہیں مارکیٹیں مکمل کہیں جزوی طورپر بند رہیں ،تاجر برادری دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ،بعض تاجر تنظیموں نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا،لاہور میں 200 سے زائد چھوٹے بڑے بازار وں میں کاروبار بند رہا ،پشاور میں مکمل شٹر ڈاؤأن ہڑتال کی گئی ،کراچی آدھا کھلا رہا اور اسلام آبادکی بڑی مارکیٹوں میں کاروبار ی سرگرمیاں معطل رہیں، تاجر رہنماؤں نے کہا مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا ۔ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت میں مکمل شٹرڈاؤن رہا ، بلیو ایریا ، آبپارہ، سپر، جناح سپر،میلوڈی، کراچی کمپنی، ایف الیون،جی ٹین،جی الیون ، آئی نائن، آئی ٹین اور ستارہ مارکیٹ بند رہیں جبکہ شہر کی مختلف مارکیٹوں میں سبزی ،پھل ، دودھ دہی،مو بائل فون کی دکانیں ، میڈیکل سٹورز ، ریسٹورنٹ اور تندور کھلے رہے ،جن پر خریداروں کا رش رہا ، دو بڑے شاپنگ مال صفا گولڈ اور سنٹورس میں تجارتی سرگرمیاں دن بھر جاری رہیں،صباح نیوز کے مطابق ریڈ زون کے کھوکھے اور ٹک شاپس بھی بند رہیں، ان کھوکھوں پر پولیس اہلکار ڈیوٹی سے تھک ہار کر چائے پینے آتے ہیں،بنی گالہ میں بھی بازار بند رہا، ہڑتال کے دوران حکومت کے کسی عہدیدار نے مذاکرات کیلئے تاجروں سے رابطہ نہیں کیا،اسلام آباد چیمبر کے صدر احمد مغل نے بتایا کاروباری افراد اور حکومت کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں ،ملک کے تمام چیمبرز ملکرآئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے ،آل پاکستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر اجمل بلوچ نے کہا حکومت نے صرف ایوان صنعت سے بات چیت کی ،41 لاکھ رجسٹرڈ چھوٹے تاجروں کو نظرانداز کیا گیا، مرکزی تنظیم تاجران کے صدر کاشف چودھری نے کہا 50ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ سمیت دیگر شرائط ناقابل عمل ہیں،حکومت نے متنازعہ ٹیکس واپس نہ لئے تو غیرمعینہ مدت کیلئے دکانیں اور صنعتیں بند کردیں گے ۔ لاہور صوبائی دارالحکومت میں بھی معیشت کاپہیہ جزوی طور پر جام رہا، تاجربرادری ہڑتال کے معاملے پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، انجمن تاجران اور پاکستان ٹریڈرز الائنس نے علیحدہ علیحدہ دھڑے بنا لئے ، 200سے زائد چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہی ، مال روڈ، نیلا گنبد ،اردو بازار، شاہ عالم ،اعظم کلاتھ مارکیٹ، پاکستان کلاتھ مارکیٹ، بادامی باغ سٹیل مارکیٹ،مصری شاہ لوہا مارکیٹ ، لنڈا بازار ،لوہا مارکیٹ ریلوے روڈ ، کیمیکل مارکیٹ سرکلر روڈ ،برانڈرتھ روڈ ، رحمن گلیاں اور دل محمد روڈ سمیت تمام ملحقہ مارکیٹس بند رہیں ،شہر کی سب سے بڑی موبائل فون مارکیٹ ہال روڈ پر دکانوں کو تالے لگے رہے ، اکبری منڈی ،دہلی دروازہ سے ملحقہ مارکیٹوں میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ،میکلوڈ روڈ موٹر سائیکل مارکیٹ میں بھی کاروبار معطل رہا، بانو بازار ، پیرس مارکیٹ ، بخشی اور بابر مارکیٹ بھی بندرہیں، مون مارکیٹ میں بھی ہڑتال کی گئی، جیل روڈ ، ڈی ایچ اے ،سمن آباد ،مولانا شوکت علی روڈ کی کار مارکیٹیں بھی بند رکھی گئیں ،لبرٹی مارکیٹ ،حفیظ سنٹر ، گلبرگ سنٹر ، مین مارکیٹ میں بھی شٹر ڈاؤن رہا ،بلال گنج میں آٹو پارٹس کی تمام مارکیٹیں بند رہیں ، میڈیسن مارکیٹ لوہاری گیٹ بھی بند رہی ، داروغہ والا جی ٹی روڈ پر سٹیل ری رولنگ سمال ملز کے ما لکان اور مزدور سراپا احتجاج بنے رہے جبکہ حکومت سے مذاکرات کے حامی تاجروں نے دکانیں کھلی رکھیں،کریم مارکیٹ،عابد مارکیٹ،ٹولنٹن مارکیٹ،برکت مارکیٹ اورصدیق سنٹر کھلے رہے ،سبزی اور فروٹ منڈی بادامی باغ اور سبزی منڈی سنگھ پورہ میں کاروبار ہو تا رہا ، مانگا منڈی اور چوہنگ کے بازاروں میں بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں ، انفنٹری روڈ سے ملحقہ مین بازار کھلا رہا ،ایل پی جی کی تمام دکانیں اور ٹریول ایجنٹس کے تمام دفاتر بھی کھلے رہے ،کیمسٹ اینڈ ریٹیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا ،میو ، جناح ، جنرل ، سروسز ، گنگارام اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت شہر کے تمام بڑے ہسپتالوں کے باہر میڈیکل سٹور کھلے رہے ، پاکستان کیمسٹ اینڈ ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اسحاق میو نے کہا ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے ،میڈیکل سٹورز کے مالکان ہڑتال کا حصہ نہیں بنیں گے ،لاہور کے مختلف مقامات پر تاجر برادری نے احتجاجی مظاہرے کئے اور تاجر دشمن بجٹ کے خلاف نعرے بازی کی،رائے ونڈ مین بازار اور ملحقہ مارکیٹوں میں علی الصبح جزوی ہڑتال کے بعد مارکیٹیں کھل گئیں،آل پاکستان انجمن تاجران کے سیکرٹری نعیم میر نے کہا تاجروں نے ہڑتال کرکے بجٹ کے خلاف ریفرنڈم کردیا،حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے ،مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاج ہی واحد راستہ ہوگا اور ٹیکس ریٹرنز بھی جمع نہیں کرائیں گے ، اس کے علاوہ کمرشل بل کی عدم ادائیگی،اسلام آباد کی طرف مارچ اور غیر معینہ مدت تک شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جانب بھی جا سکتے ہیں،ہڑتال سے بھاگنے والے تاجر غدار ہوں گے ، یہ ہڑتال اب ہماری نہیں ملک بھر کے 31 لاکھ تاجروں کی ہے ۔انجمن تاجرا ن کے صدر اشرف بھٹی نے کہا حکومت فوری طور پر ہمارے مسائل حل کرے ۔لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا حکومت ماں کی طرح ہوتی ہے ، شناختی کارڈ اور دیگر شرائط ختم کی جائیں۔پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن نے بھی بابو صابو پر احتجا جی کیمپ لگایا ۔ڈی سی لاہور صالحہ سعید کی ہدایت پر تمام اسسٹنٹ کمشنر متحرک رہے اورزبردستی دکانیں بند کرانے والوں کا جائزہ لیتے رہے ،ڈپٹی کمشنر سے ہڑتال کرنے والے اور ہڑتال مخالف تاجروں نے ملاقات کی،ہڑتالی تاجروں نے ڈی سی لاہور کو تحفظات سے آگاہ کیا تاہم ملاقات بے نتیجہ رہی۔ راولپنڈی میں بھی تمام بڑے تجارتی مراکز اوربازار بند رہے ،راجا بازار،کمرشل مارکیٹ،صدر،ٹینچ بھاٹا ،چوہڑپڑپال اور مری روڈ کی مار کیٹوں میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا،گلی محلوں میں دکانیں اوربازار کھلے رہے ،ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلئے تاجر رہنماؤں نے مختلف بازاروں کے دورے کئے ، تاجر تنظیموں کے رہنماؤں شاہد غفور پراچہ،شرجیل میر ،ارشد اعوان ،شیخ حفیظ اور ظفر بختاوری نے کہا تاریخی ہڑتال ہوئی،ایف بی آر اور حکمرانوں تک پیغام پہنچ گیا ، ہر شہر کے بڑے چوک کو بند کیا جا سکتا ہے ،کہوٹہ میں بھی تاجر برادری نے 80فیصد د کانیں بند کر کے مہنگائی اور ٹیکسوں کے خلاف ریلی نکالی۔ فیصل آباد کے بیشتر بازار اور مارکیٹیں بند رہیں ، کارخانہ بازار، ریل بازار ، منٹگمری بازار، امین پوربازار ،چنیوٹ بازار اور کلاتھ مارکیٹیں بند رہیں جبکہ بھوانہ بازار ، جھنگ بازار اور کچہری بازار میں دکانیں کھلی رہیں ،ستیانہ روڈ ، جڑانوالہ روڈ ، آئرن مارکیٹ ، کباڑ مارکیٹ اور اقبال سٹیڈیم میں بھی کاروباری مراکز بند رہے ،صرف کھانے پینے کی دکانیں کھلی رہیں۔ سرگودھا میں جزوی ہڑتال کی گئی ، تاجر دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ، ایک تاجر تنظیم نے ریلی نکال کر دھرنا دیا ، دوسرے گروپ نے ہڑتال کو ناکام بنانے کے لئے کئی علاقوں میں دکانیں کھلی رکھیں۔چنیوٹ میں بھی مسلم بازار،ریل بازار،صرافہ بازار،چوک جتھوتھان،مندر بازار،مندر روڈ،فرنیچر مارکیٹ،موبائل فون مارکیٹ،چوڑی مارکیٹ،انارکلی مارکیٹ،قذافی مارکیٹ،رفیق پلازہ،عمرحیات محل روڈ،فرخ مارکیٹ،الاصلاح سکول مارکیٹ بند ر ہیں جبکہ جھنگ روڈ،سرگودھا روڈ،لاہور روڈ،بادشاہی مسجد ایریا،منڈی باوا لال،چوک شوری پیپلی،ڈاک خانہ روڈ،چھتے والی مسجد روڈ کھلے رہے ،لالیاں اور بھوآنہ میں بھی مین بازار بند رہے جبکہ دوسری مارکیٹس کھلی رہیں،ضلع بھر میں گلی محلوں میں تمام دکانیں کھلی رہیں۔ گوجرانوالہ گوجرانوالہ کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں، کمرشل پلازوں اور بازاروں میں شٹر ڈاؤن رہا ،کلاتھ بورڈ مارکیٹ ،ریل بازار ،صرافہ بازار،سید نگری بازار،سٹیل مارکیٹ ،لوہا مارکیٹ سرکلر روڈ سمیت الیکٹرونکس اور موبائل فون کی مارکیٹیں بند رہیں تاہم سیٹلائٹ ٹاؤن ،پیپلز کالونی اور ماڈل ٹاؤن مارکیٹ میں دکانیں شام کو کھل گئیں۔ ملتان ملتا ن کی 300سے زائد مارکیٹوں میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتا ل کی گئی،کلاتھ مارکیٹ چونگی نمبر 14، غلہ منڈی ، سبزی منڈی، صرافہ بازار، چوک بازار، حسین آگاہی، گھنٹہ گھر، میڈیسن مارکیٹ، شریف پلازہ ، حسن آرکیڈ ، سلاٹر ہاؤس ،کینٹ، گلگشت کالونی، ٹمبر مارکیٹ ، گلشن مارکیٹ ،چوک کمہاراں والا، شاہین مارکیٹ، نشاط روڈ ، سرکلر روڈ حسین آگاہی ، لوہاری گیٹ،بوہڑ مارکیٹ، حرم گیٹ، پاک گیٹ، دہلی گیٹ ، دولت گیٹ ، پرانا خانیوال اڈا، چونگی نمبر 14، چونگی نمبر 9، بوسن روڈ ، ابدالی روڈ، پرانا شجاع آباد روڈ، چوک شاہ عباس ، ممتاز آباد، سورج کنڈروڈ، چوک بی سی جی، معصوم شاہ روڈ ، شاہ شمس روڈ ، رشید آباد چوک ،اڈا بوسن، شجاع آباد ،جلال پور،مخدوم رشید،قادر پور راں سمیت تمام مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ گلگشت میں گردیزی مارکیٹ مکمل اور نیو ملتان میں گلشن مارکیٹ میں نصف دکانیں کھلی رہیں،انجمن تاجران انصار کالونی بدھلہ روڈ کے صدر ارشد رحمن انصاری کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، ٹرانسپورٹ کا کاروبار متاثر ہونے سے سرکاری ڈاک بھی تقسیم نہ ہو سکی ۔ ساہیوال ساہیوال میں لیاقت چوک،کمپیوٹر مارکیٹ ،فرنیچر بازار،بیری والا چوک، صدر بازار، سبزی منڈی، جوگی چوک، عارف والا روڈ ،پاکپتن چوک، اندرون و بیرون لاری اڈا مار کیٹوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی،تاجروں کی ایک انجمن نے حکومت کے حق میں اور دوسری نے حکومت مخالف بینرز بازاروں میں آویزاں کررکھے تھے ۔ پاکپتن پاکپتن میں تاجر دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ،ایک گروپ نے دکانیں بند کیں تو دوسرے نے ہڑتال مسترد کرتے ہوئے کاروباری مراکز کھول دیئے ، جس کی وجہ سے آدھا شہر کھلا آدھا شہر بند رہا ۔ اوکاڑہ اوکاڑہ شہر کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں ، تاجروں نے احتجاجی ریلی نکالی ۔ نارووال نارووال میں کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن،قصاب، کھاد اینڈ پیسٹی سائیڈ ، کریانہ ،صرافہ اور دیگرتنظیموں نے ہڑتال کی جبکہ شہر کے گرد و نواح میں دوسرے کاروبار معمول کے مطابق چلتے رہے ،ظفروال میں تما م کاروباری مرکز اور مارکیٹیں کھلی رہیں ،شکرگڑھ اور چک امرو میں کاروبار معطل رہا۔ پنجاب کے دیگر شہر چشتیاں شہر میں تمام کاروباری مراکز بند رہے ،ریڑ ھی بانوں ، خوانچہ فروشوں نے ہڑتال کی ، میڈیکل سٹور بھی بند رہے ،بورے والا میں د کا نیں اور کا روباری مرا کز بند رہے ،گگومنڈی میں تاجروں نے ہڑتال مسترد کر دی ،تمام بازاراورکاروباری مراکزکھلے رہے ،حجرہ شاہ مقیم میں مین بازار ،حویلی روڈ ،چونیاں روڈ،سرکلر روڈ،اٹاری روڈ ،ڈھلیانہ روڈ پر کاروباری مراکز بند رہے جبکہ چوک حجرہ شاہ مقیم میں دکانیں کھلی رہیں،فورٹ عباس میں غلہ منڈی، مین بازار ،چمن بازار،تحصیل بازار،سکول بازار اور تمام مارکیٹیں بند رہیں ،چیچہ وطنی میں بھی ہڑتال کی گئی ،میاں چنوں میں مین بازار،مغل بازار،جناح بازار،انار کلی بازار،تلمبہ روڈ،شاہ عالم بازار بند رہے جبکہ ملحقہ علاقوں تلمبہ اور محسن وال میں کاروباری مراکز جزوی بند رہے ، دوپہر ایک بجے کے بعد دکانیں کھل گئیں، چند افراد نے دکانیں زبردستی بند کرانے کی کوشش کی جس پر ان کی دکانداروں کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی ،عارفوالا میں جزوی ہڑتال کی گئی ، محمدنگر میں سبزی منڈی ، قبولہ بازار، جناح چوک ، ریشم گلی ، گرلز سکول روڈ ، کارخانہ بازار ، سٹی روڈ، کشمیر چوک ، تحصیل روڈ سمیت شہر بھر کے بازاروں میں جزوی ہڑتال کی گئی ،غلہ منڈی میں 11بجے دن تک ہڑتال رہی ،تلہ گنگ میں منصور مارکیٹ ،قاضی مارکیٹ ،غلہ منڈی ،سبزی منڈی ،رشید مارکیٹ ،گلی سیٹھاں ،چینجی چوک بازار بند رہے تاہم مین روڈ پر چند دکانیں کھلی رہیں،ڈھڈیال میں مین بازار ،مین چوک، چک بیلی خان روڈ ،مغل مارکیٹ، پنڈی روڈ بند جبکہ کچھ دکانیں کھلی رہیں،مین بازار پوسٹ آفس والی گلی میں آدھا دن گزرنے کے بعد تمام دکانیں کھل گئیں ،اٹک شہرمیں تاجروں نے ہڑتال کی کال مستردکردی، ڈیرہ غازی خان میں صدر بازار ،گھنٹہ گھر بازار ،گولائی کمیٹی ،لیاقت بازار ،موبائل فون مارکیٹ ، صرافہ مارکیٹ ،رانی بازار،ہول سیل کلاتھ مارکیٹ ، ہو ل سیل موبائل مارکیٹ ،ہول سیل شو ز مارکیٹ ، فرنیچر مارکیٹ ،لوہا مارکیٹ ،موٹر سائیکل مارکیٹ، ٹائر مارکیٹ،آٹو ڈیلرز ،کارشورومز،ورکشاپس ،ریلوے پلی،سبزی منڈی ،غلہ منڈی اور دیگر بازاروں میں شٹر ڈاؤن رہا ،راجن پور میں تمام چھوٹے بڑے بازار مکمل بندرہے ،لیاقت پور اور گردونواح میں تاجروں نے مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی،صادق آباد میں مرکزی بازار،پیسٹی سائیڈ مارکیٹ،غلہ منڈی،موبائل مارکیٹ،شاہراہ قائد اعظم اورستار شہید روڈ میں ہڑتال کی گئی ،رحیم یارخان میں تمام مارکیٹیں بازار مکمل طور پر بند رہے ،بہاولپور میں یونیورسٹی چوک، فرید گیٹ، چوک فوارہ، احمد پوری گیٹ، ملتان روڈ گری گنج بازار، شکارپوری گیٹ، عیدگاہ روڈ کے کاروباری مراکز کھلے رہے ،کوٹ ادو میں مکمل شٹرڈاؤن رہا ،وہاڑی میں مرکزی انجمن تاجران نے بلدیہ آفس کے سامنے کیمپ لگاکر احتجاجی مظاہرہ کیا ، جلال پور پیروالہ میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی،کبیروالا میں فوارہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی گئی،پنڈدادنخان، گجرات، مظفرگڑھ ،میانوالی، تونسہ شریف، نور پور تھل ،خانقاہ ڈوگراں ، لیہ، چکوال، خانیوال، ہڑپہ،خان پور ،ہارون آباد ،احمدپورشرقیہ،بہاولنگر اور شورکوٹ میں بھی ہڑتال کی گئی۔ پشاور پشاورمیں تاجروں نے مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی ،شہر کے تقریباً124 چھوٹے بڑے بازار بند رہے ، ہشت نگری،لاہوری،شادی پیر،گاڑی خانہ،کریم پورہ،گھنٹہ گھر،صرافہ بازار،جھنڈا بازار،مینا بازار،شاہین بازار،کوچی بازار،بازار مسگراں،نمک منڈی،پیپل منڈی،قصہ خوانی،خیبر بازار بند رہے ، ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلئے تاجر رہنماؤں نے مختلف بازاروں کے دورے کئے ،تاجر رہنماؤں نے کہا وفاقی بجٹ نے غریب عوام اور تاجر برادری کی چیخیں نکال دی ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے دیگر شہر صوابی، مردان، نوشہرہ، سوات، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر، بنوں اور لوئردیر میں بھی تمام تجارتی اور کاروباری مراکز بند رہے ، شانگلہ کوہستان، بٹگرام، طورغر میں مکمل ہڑتال کی گئی ،مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں بھی شٹر ڈاؤن رہا ، ایبٹ آباد، ہری پور میں بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں،نوشہرہ کینٹ، پبی، اکوڑہ خٹک، نوشہرہ کلاں، رشکئی، رسالپور، خیرآباد، شیدو، جہانگیرہ، حکیم آباد، تاروجبہ میں چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں، اوگی میں بھی ہڑتال کی گئی ،حویلیاں میں تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کراچی کراچی میں جزوی ہڑتال رہی ،ہڑتال کی حامی تاجر تنظیموں کے زیر اثر مارکیٹیں بند رہیں جب کہ ہڑتال کی مخالف تاجر تنظیموں کی مارکیٹوں میں کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا،کراچی تاجر اتحاد ،کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن ،آل پاکستان سمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز اور آل کراچی صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا ،جس کے نتیجے میں جوڑیا بازار ،بولٹن مارکیٹ ، ایمپریس مارکیٹ، زینب مارکیٹ ،طارق روڈ ،لیاقت آباد ،ناظم آباد گول مارکیٹ سمیت شہر کی اہم مارکیٹوں میں جزوی طور پر دکانیں بند رہیں جبکہ ایم اے جناح روڈ پر الیکٹرانکس اور موبائل مارکیٹیں ،موٹر سائیکل سپیئر پارٹس مارکیٹ ،جامع کلاتھ ،آرام باغ فرنیچر مارکیٹ ،موتن داس ،اردو بازار ، میٹھادر صرافہ مارکیٹ بند اور لنڈا بازار ،میڈیسن مارکیٹ ،موٹر سائیکل مارکیٹ،کھارادر ،کلفٹن اورڈیفنس کی مارکیٹیں کھلی رہیں ، ہڑتال کے حامی عتیق میر ،محمود حامد ،رضوان عرفان ،محبوب اعظم ،حاجی ہارون چاند سمیت دیگر تاجر رہنمائوں نے ہڑتال کامیاب ہونے کا دعوی ٰ کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی اہم مارکیٹوں میں تاجروں نے ظالمانہ ٹیکسوں کو مسترد کرتے ہوئے کاروبار بند رکھا، انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ تاجروں کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا ،جب کہ ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرنے والے جمیل پراچہ ،شرجیل گوپلانی ،حماد پونا والا ،حکیم شاہ اور دیگر تاجر رہنمائوں نے دعویٰ کیا کہ تاجروں نے ہڑتال کی کال مسترد کر دی، کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا ،ہڑتال مخالف تاجر رہنماؤں نے کہا حکومت نے ہمارے 11 میں سے 10 مطالبات تسلیم کرلئے ہیں، 50 ہزارسے زائد مالیت کی خریداری پرشناختی کارڈ کی شرط صرف رجسٹرڈ تاجروں کے لئے ہے ۔ سندھ کے دیگر شہر حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص، ٹنڈوالہیار، ٹھٹھہ، پڈعیدن، جیکب آباد، نواب شاہ، نوشہرو فیروز، شہدادپور اور ٹنڈوآدم سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں بھی ہڑتال کی گئی ، ہڑتال کے باعث کراچی، حیدرآباد اور سکھر جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی متاثر رہی۔ کوئٹہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی ،کوئٹہ کی منی مارکیٹ، نواں کلی،سریاب روڈ،جوائنٹ روڈ،باچا خان چوک ، لیاقت بازار، سورج گنج بازار اور دیگر کئی مارکیٹیں بند رہیں ، تاجروں نے ریلی بھی نکالی۔ بلوچستان کے دیگر شہر حب، چمن، گوادر، کچلاک، سبی، قلات، زیارت ،قلعہ عبداللہ،پشین، خضدار، پنجگور، تربت، ژوب، لورالائی، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ ، خاران ، ڈیرہ مراد جمالی، قلات، مسلم باغ، دکی، سنجاوی، خانوزئی، دالبندین، نوشکی، تفتان ، مچھ سمیت دیگر شہروں میں بھی مکمل شٹر ڈاؤن رہا ۔ گلگت بلتستان بلتستان ڈویژن کے تمام اضلاع میں تاجروں نے حکومتی اقدامات پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا اور ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ٹیکسوں اور مہنگائی کے خلاف بھر پور ہڑتال کی ۔ تاجر ہڑتال اسلام آباد، لاہور (سپیشل رپورٹر، ایجوکیشن رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ملک اب قرضوں پر نہیں ٹیکس سے چلے گا،تاجر سیاسی جماعت کا ایندھن نہ بنیں ، جائز مطالبات سنیں گے ، بلیک میل نہیں ہو نگے ،اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا ملک ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتا، ’’سٹیٹس کو‘‘ کوجب چیلنج کریں گے تو مزاحمت تو ہو گی، 20 ہزار میں سے 600 دکاندار صرف ٹیکس فائل کرتے ہیں، جو تاجر کسی سیاسی جماعت کو آکسیجن دینا چاہتے ہیں وہ اس سے باز رہیں، تاجر برادری کو ہڑتالوں کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں، حکومت جائز مطالبات پر بات چیت کیلئے تیار ہے ،ایک تاجر پیشہ جماعت نے سیاست کو تجارت سمجھ کر کیا، اصل تاجر حکومت کے پارٹنر ہیں، ان کے مسائل حل کرینگے ۔ تاجروں کی ہڑتال پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا تاجربرادری کی اکثریت نے ہڑتال مسترد کر کے حب الوطنی کاثبوت دیا،بات چیت سے تمام خدشات دور کریں گے ، جزوی اور منقسم ہڑتال کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔وزیر قانون وبلدیات پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہڑتال کی ناکامی درحقیقت حکومت کی کامیابی ہے ،ہڑتال میں حصہ نہ لینے والی محب وطن تاجر برادری کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم باشعور ہو چکی ہے اور وہ تخریب کار عناصر کے جھانسے میں آنے والی نہیں۔وزیرہاؤسنگ پنجاب میاں محمودالرشید نے کہا تاجربرادری نے بعض نام نہاد تاجرتنظیموں کی ہڑتال سے لاتعلق رہ کر ملکی معیشت کے خلاف سازش کو ناکام بنادیا،ہڑتال کو ناکام بنانے پر تاجربرادری مبارکبادکی مستحق ہے ۔ وزیر صنعت و تجارت پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا تاجربرادری نے سیاسی جماعتوں کے چند آلہ کاروں کی ہڑتال سے لاتعلق رہ کر ثابت کر دیا کہ وہ ملک میں معاشی و تجارتی سرگرمیوں کا فروغ چا ہتی ہے ، حکومت قومی معیشت کے استحکام کے لئے کوشاں ہے ، ایسے میں ہڑتال مناسب نہیں، اسی لئے تاجربرادری نے ہڑتال کی کال پر کان نہیں دھرے اور مارکیٹیں کھلی رہیں،رجسٹریشن کے عمل سے صرف انہی لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے جنہوں نے کبھی ٹیکس نہیں دیا اور نہ ہی وہ ٹیکس کے نظام میں آنا چاہتے ہیں اب ایسا نہیں ہوگا، چھوٹے دکانداروں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا تاہم جو مین ڈیلر ملوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ۔ فردوس عاشق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں