15

شہبازشریف نے زلزلہ متاثرین کی امداد خورد برد کی : برطانوی اخبار , شرم سے جھک گئے : فردوس عاشق

لندن: برطانوی اخبار نے الزام عائد کیا ہے کہ شہبازشریف نے 2005کے زلزلہ متاثرین کیلئے بھجوائے گئے برطانوی امدادی ادارے (ڈیفڈ) کے فنڈز میں خورد برد کی ہے ، پاکستان میں سرکاری منصوبوں سے کک بیکس اورکمیشنز کے ذریعے حاصل رقوم منی لانڈرنگ کے ذریعے برمنگھم منتقل کی گئیں ،جہاں سے یہ رقوم سابق وزیر اعلیٰ کے دونوں بیٹوں ا ور اہلیہ کے اکائونٹس میں منتقل کی گئیں۔پاکستان کی جانب سے گرفتار کیے گئے آفتاب محمود نامی برطانوی منی چینجر نے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ۔شریف خاندان نے دولت کے لالچ میں پاکستان کو بدنام کردیا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق برطانوی امدادی ادارے ڈیفڈ نے 2005سے 2012کے دوران پنجاب حکومت کو زلزلہ متاثرین، صحت عامہ اور دیگر منصوبوں کیلئے 5کروڑ 40لاکھ پائونڈ دیئے ،شہبازشریف اس وقت وزیر اعلیٰ تھے ،اس رقم میں سے لاکھوں پائونڈ منی لانڈرنگ کی نذر ہوگئے ۔وزیر اعظم عمران خان کے ایسٹس ریکوری یونٹ نے شہباز شریف کے خاندان کے اثاثوں میں سلسلہ وار مشتبہ ٹرانزیکشنز کاپتہ لگایا، اقتدار کے دوران ان کے اثاثوں میں کئی گنااضافہ بھی دیکھاگیا۔برطانوی اخبار کے مطابق گزشتہ ہفتے عمران خان کے ایسٹس ریکوری یونٹ کی جانب سے کی گئی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے نتائج تک ہمیں خصوصی رسائی دی گئی اور برطانوی شہری آفتاب محمود سمیت دیگراہم ملزموں سے انٹرویوز کی بھی سہولت فراہم کی گئی۔اخبار کو ایک تفتیشی رپورٹ بھی دکھائی گئی جس میں کہاگیا کہ2003 میں شہباز شریف کے خاندان کے اثاثے ڈیڑھ لاکھ پائونڈ تھے لیکن 2018 میں یہ اثاثے 20کروڑ پائونڈ سے بڑھ گئے ۔اس طرح شہبازشریف کی فیملی کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا۔رپورٹ کے مطابق ڈیفڈ کی دیہی افراد کیلئے صحت عامہ اوردیگرسکیموں سے کروڑوں روپے چرائے گئے اور انہیں منی لانڈرنگ کے ذریعے برمنگھم پہنچایاگیا جہاں سے یہ رقم مبینہ طورپر شہبازشریف کے خاندان کے برطانوی بینکوں بارکلیز اور ایچ ایس بی سی میں واقع اکائونٹس میں منتقل ہوئی۔منی لانڈرنگ کی یہ رقم شہبازشریف کے بچوں،بیوی اور داماد علی عمران کودی گئی، اس منی لانڈرنگ سے سب سے زیادہ فائدہ شہباز شریف نے حاصل کیا ، انہوں نے اس رقم سے لندن میں اپنی جائیدادوں میں اضافہ کیا اور کئی نئی جائیدادیں خریدیں جن میں سے ایک عالی شان گھر ہے جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے شہباز شریف کی بیگم ، دو بیٹوں اور دوبیٹیوں کے بینک اکاؤنٹس میں 202 مرتبہ ذاتی ٹرانزیکشنز سے رقم منتقل کی گئی ، پاکستانی قوانین کے تحت اس طرح کی رقوم موصول کرنے سے قبل انہیں یہ بات لکھ کر دینا ہوتی ہے کہ وہ رقوم بھیجنے والوں سے ذاتی طور پر واقف ہیں اور انہوں نے سرمایہ کاری کیلئے رقم بھیجی ہے ،اس طرح شہباز شریف کے اہل خانہ نے بھی اعتراف کیا ہے تاہم تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ حقیقت کچھ اور ہے ،تفتیش کاروں کے مطابق منظور احمد نامی ایک شخص نے برمنگھم سے سابق وزیر اعلیٰ کی اہلیہ نصرت،دونوں بیٹوں حمزہ اور سلمان کو سلسلہ وار12لاکھ پائونڈ کی13 ادائیگیاں کیں،اس شخص کی شناخت اس کے شناختی کارڈ سے ہوئی جس سے پتہ چلا کہ وہ پاکستان کا ایک دیہاتی ہے جو پرچون کی دکان چلاتاہے ۔وہ شخص کبھی انگلینڈ گیاہی نہیں، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک اور پھیری والے محبوب علی نامی شخص نے شہبازشریف کی فیملی کو ایچ ایس بی سی بینک کے ذریعے ساڑھے 8لاکھ پائونڈ بھیجے ،برطانوی اخبارکے نمائندے کے مطابق جب میں گرفتارشخص سے لاہور میں ملا تو وہ بہت خوفزدہ تھا، اس نے بتایاکہ میں ان لوگوں سے کبھی نہیں ملا، میرے ایک گاہک نے کہا کہ تم نے ضرور کوئی غلط کام کیاہے جس کی وجہ سے تم سے تفتیش ہورہی ہے ،اس شخص نے بتایا کہ اب میں لیموں پانی بیچ کر گزارہ کرتاہوں،ان غربت کے مارے سرمایہ کاروں نے برمنگھم میں عثمان انٹرنیشنل منی چینجر فرم کے ذریعے پیسے سابق وزیر اعلیٰ کی فیملی کو بھجوائے ،اس فرم کا پروپرائیٹر آفتاب محمود ہے ۔ وہ شخص جب اپریل میں پاکستان آیا تو اسے گرفتار کرلیاگیا، لاہور کی جیل میں اس سے ملاقات بھی ہوئی۔اس نے اعتراف کیا کہ مجھے پاکستان سے ایک فیکس ملی جن پر ان لوگوں کے نام تھے جن کے ذریعے رقم بھیجنی تھی۔مجھے پتہ تھا کہ یہ لوگ کون ہیں،لیکن میں نے صرف رقم ٹرانسفر کی اور وہ بھی جائزطریقے سے ،منی لانڈرر آفتاب محمود نے اخبار کو بتایا کہ اس کے اکائونٹس کی برطانوی ریونیو اینڈ کسٹمر ڈیپارٹمنٹ ہر تین ماہ بعد آڈٹ کرتاتھا لیکن اسے بھی معاملے کا علم نہ ہوسکا۔تفتیش کاروں کے مطابق یہ سب رقم حکومتی منصوبوں سے لیے گئے کک بیکس اورکمیشنز سے حاصل کی گئی۔ جسے بوریاں بھر کر آفتاب محمود کے لاہور دفتر میں کام کرنیوالے شاہد رفیق کے پاس لایا جاتارہا۔اس حوالے سے گرفتار شاہد رفیق نامی بندے نے بتایاکہ جب بھی مجھے ایک لاکھ پائونڈ دینے کیلئے کہاجاتا تو میں انتظار کرتا، جب بھی برطانیہ سے کوئی شہری اس کے مساوی رقم اپنے رشتے داروں کیلئے آفتاب محمود کے ذریعے پاکستان بھیجتا تو آفتا ب محمودشہریوں کے جائز پیسے جعلی ناموں سے شہبازشریف کی فیملی کے اکائونٹس میں منتقل کردیتا تو ادھر لاہور میں شاہد رفیق برطانوی شہری کی جانب سے رشتے داروں کیلئے بھیجی رقم کک بیکس کے کالے دھن سے نکال کر ان کے رشتے داروں کو اداکردیتا۔تفتیش کاروں کے مطابق اس طریقے سے تقریباً 2کروڑ پائونڈ سے زیادہ کی منی لانڈرنگ ہوئی،تفتیشی حکام نے اس حوالے سے مزید 91لاکھ پائونڈ کا سراغ لگایا ہے کہ جو جعلی ناموں سے بھیجے گئے ۔اس کے علاوہ جعلی قرضوں اور فیملی کمپنیز میں سرمایہ کاری کے نام پر بننے والی اس رقم کا کل تخمینہ 16کروڑ سے زائد ہے ،منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا یہ عمل دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکاہے ۔اس حوالے سے ایک کیس عدالت پہنچ چکا ہے جس میں ارتھ کوئیک ریلیف اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ایرا) کے سابق فنانس ڈائریکٹر اکرام نوید جو کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران کا فرنٹ مین تھا،اس نے ڈیفڈ کے زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں سے 15لاکھ پائونڈ کے غبن کا گزشتہ سال نومبر میں اعتراف کیا۔جس میں سے اس نے 10لاکھ پائونڈ سابق وزیر اعلیٰ کے داماد کو دیئے ۔اکرام نوید نے بتایا کہ اس حوالے سے آدھی رقم براہ راست ایرا کے ا کائونٹس سے منتقل کی گئی جس کی بینکنگ ریکارڈ سے بھی تصدیق ہوچکی ہے ،علی عمران کو اس حوالے سے تفتیش کیلئے بلایا گیا لیکن وہ برطانیہ آگیا۔پاکستان کے نیشنل کیش ٹرانسفر پروگرام کیلئے بھی ڈیفڈ نے 2012تک 30کروڑ پائونڈ دیئے ، اس حوالے سے غریب ماں اور بچوں کو ماہانہ فنڈز دیئے جاتے تھے ،عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے قبل بوگس ادائیگیوں کی انکوائری شروع ہوئی جسے بند کروادیاگیا۔اب انکوائری دوبارہ شروع کی گئی ہے ۔ماں او ربچے کی صحت کے پروگرام کے فنڈز مبینہ طور پر چرانے کی بھی تفتیش کی جارہی ہے ۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی پاکستانی تفتیش کاروں کیساتھ اس حوالے سے مل کر کام کررہی ہے ،سیکرٹری د اخلہ ساجد جاوید شہبازشریف کی فیملی کے ارکان جو لندن میں پناہ لیے ہوئے ہیں ان کی ممکنہ پاکستان کو حوالگی کے معاملے پر غور کررہے ہیں۔ایسٹس ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاداکبر نے کہاکہ ہم نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں ،ہمیں یقین ہے کہ اس نوعیت کی منی لانڈرنگ دوبارہ نہیں ہوگی۔ ڈیفڈ کی سابق سیکرٹری پریٹی پاٹیل نے اس حوالے سے انکوائری کا مطالبہ کیا۔یہ افسوسناک ہے کہ برطانوی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال کیاگیا۔ اس لیے برطانوی حکام پاکستانی تفتیش کاروں کیساتھ تعاون کررہے ہیں تاکہ ان ذمہ داروں کو سزا دی جاسکے ۔رپورٹ کے مطابق ڈیفڈ کی جانب سے بھی مبینہ منی لانڈرنگ پر اظہار تشویش کیا گیا ۔ برطانوی ادارے نے بتایا فنڈز فراہم کرتے وقت جانتے تھے کہ پاکستان میں کرپشن بہت زیا دہ ہے ،اس کے باوجود پاکستان کو دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ فنڈز فراہم کئے گئے ،پاکستان کو سالانہ 46کروڑ پائونڈ کی رقم بطور فنڈز دی گئی۔شہبازشریف کے صاحبزادے سلما ن شہبازنے کہاکہ ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے ،الزامات غلط ہیں، مجھے جو بھی رقم ملی وہ قانونی بینکنگ ذرائع سے ملی،ہم نے سب کچھ قانون کے مطابق کیا۔برطانوی اخبار کی رپورٹ پر ردعمل میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ شہبازشریف نے برطانوی امداد پر بھی ہاتھ صاف کیے ،اس سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے ۔ شریف خاندان نے دولت کے لالچ میں پاکستان کو بدنام کردیا، شہباز شریف اینڈ سنز کے کالے دھن اور منی لانڈرنگ کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں،برطانوی اخبارات میں ایک ایک لفظ کی چھان بین کے بعد رپورٹ شائع کی جاتی ہے ، مریم صفدر اب اسے حکومت کی انتقامی کارروائی نہیں کہہ سکیں گی ،فردوس عاشق اعوان نے نوازشریف دور میں مشعل اوباما کی طرف سے تعلیم کیلئے دئیے گئے فنڈز کی تحقیقات کرانے کا بھی اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں