59

اسرائیل کی کارروائی:فلسطینیوں کے درجنوں گھر مسمار

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں فلسطینیوں کے درجنوں گھر مسمار کر دیئے ۔قابض فورسز نے موقف اختیار کیا کہ یہ عمارتیں مغربی کنارے کو علیحدہ کرنے والی باڑ کے بہت نزدیک ہیں اور یہ غیر قانونی طور پر بنائی گئی تھیں ۔مقامی رہائشیوں نے کہا اب ان کے پاس گھر بنانے کی کوئی جگہ نہیں ، مزید یہ کہ علاقے میں گھر بنانے کیلئے صہیونی حکام سے تعمیراتی اجازت نامہ حاصل کرنا تقریباًناممکن ہوتا ہے ۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سر بحر کے علاقے میں اسرائیلی پولیس اور فوجی حکام نے گزشتہ روزمبینہ طورپر غیر قانونی تعمیرکی جانے والی عمارتوں کوگھیر ے میں لے کر ظالمانہ کارروائیوں کاآغاز کیا تو فلسطینی باشندے سراپااحتجاج بن گئے ۔اسماعیل نامی ایک مکین کو جب زبردستی گھر سے بے دخل کیاگیاتو اس نے چیختے ہوئے کہامجھے یہاں سے نہ نکالیں میں یہیں مرنا چاہتا ہوں۔فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کے مکانات کی مسماری کے ظالمانہ اقدامات کیخلاف عالمی فوجداری عدالت کادروازہ کھٹکھٹایاجائے گا ۔ اس ضمن میں فلسطین نے عالمی عدالت انصاف سے بھی رابطہ کیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سر بحر کے رہائشی فلسطینیوں نے قبل ازیں 16 گھروں کی مسماری کے خطرے کے باعث اسرائیل کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جسے مسترد کردیا گیا ۔وزارت خارجہ نے کہا اسرائیل کے عدالتی نظام نے ثابت کیا ہے کہ وہ صہیونی استعماری نظام کا ایک حصہ ہے جو انصاف اور قانون نہیں بلکہ صہیونی ریاست کے جرائم کو تحفظ دینے کیلئے قائم کیا گیا ہے ۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ صہیونی فورسز کو ظلم سے روکاجائے ۔ادھراسرائیلی حکام کی ظالمانہ کارروائیوں پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے ،فرانس اور یورپی یونین نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی صہیونی سازش کی مذمت کی ہے ۔واضح رہے کہ یورپی یونین کے سفیروں نے حال ہی میں اس علاقے کا دورہ بھی کیا تھا۔اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ گھروں کی مسماری کو روک دیا جائے لیکن صہیونی حکام نے عالمی ادارے کی اپیل کی پروا کئے بغیر ظالمانہ کارروائیوں کاآغاز کردیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں