43

لین دین کے مقدمات پر نیب قانون کا اطلاق نہیں ہوتا : چیف جسٹس

اسلام آبا: سپریم کورٹ نے مالی بے ضابطگیوں کے ایک مقدمے میں ملزم کو بری کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ دیوانی مقدمات پربھی نیب قانون کااطلاق شروع کردیا گیا ہے ۔چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سزا کیخلاف ملزم حشمت اللہ شاہ کی اپیل منظور کرکے انہیں مالی بے ضابطگیوں کے الزام سے بری کردیا اورریما رکس دیئے کہ نیب قانون کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے جیسے چاہیں استعمال کریں،قانون کا استعمال مرضی سے نہیں ہوتا۔چیف جسٹس نے کہا پہلے سنتے تھے کہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے نیب قانون استعمال کیا جاتا ہے لیکن اب سول مقدمات بھی فوجداری قوانین کے ذریعے ڈیل کیے جا تے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا نیب نے تو سول کیسز کو بھی نیب قانون کے ذریعے ڈیل کرنا شروع کردیا ہے ، نیب قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔ کیس کی سماعت ہوئی تو ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا ان کے موکل کیخلاف نیب قانون کے تحت مقدمہ دائر کرنا غیر قانونی ہے ، کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان کے موکل کو رقم دی ،یہ سول نوعیت کا ایک کیس ہے لیکن نیب نے مداخلت کرکے نیب قانون کے تحت کیس قائم کردیا۔انہوں نے کہا حشمت اللہ 1986 سے کاروبار کر رہا تھا ،2003 سے 2007 کے دوران 24 افراد نے بزنس میں شراکت کیلئے سرمایہ لگایا۔نیب کے وکیل نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزم نے لوگوں سے بزنس کے نام پر پیسے لئے ،ملزم نے لوگوں کو دعوت دی کہ اس بزنس میں پیسے لگائیں۔چیف جسٹس نے کہا امانت کے طور پر پیسے دینے اور بزنس میں لگانے میں فرق ہوتا ہے ، ہر بزنس ضروری نہیں کامیاب ہو،اکثر بزنس ناکام ہو جاتے ہیں۔اس دوران عدالت نے نیب قانون کے غلط استعمال اور لوگوں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے اہم ریما رکس بھی دیئے اور کہا کہ لین دین کے مقدمات پر نیب قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم حشمت اللہ شاہ کی سزا کالعدم کرکے انہیں بری کردیا ۔ ملزم حشمت اللہ پر شراکتی کاروبار کے نام پرلوگوں سے دوکروڑ 70 لاکھ روپے لیکر ہڑپ کرنے کاالزام تھا،ٹرائل کورٹ نے ملزم کو چار سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جو بلوچستان ہائیکورٹ نے بھی برقراررکھی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں