3

نیب :چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اور یوسف عباس گرفتار

لاہور: نیب نے چودھری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے چچا زاد بھائی یوسف عباس کو کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر لیا ، دونوں کو جسمانی ریمانڈ کے لئے آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا ،نیب لاہور نے دونوں کو طلب کیا تھا،مریم نوازنے پیش ہونے سے معذرت کرلی اور نیب کو خط میں کہا کہ نیب کو مطلوبہ ریکارڈ کی فراہمی کے لئے کچھ وقت دیا جائے ،آئی این پی کے مطابق مریم نواز والد سے ملاقات کیلئے مختص دن کی مناسبت سے اپنے شوہر کیپٹن (ر)صفدر کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل پہنچیں ، نیب ٹیم پہلے سے وہاں موجود تھی، جس نے کارکنوں کی مزاحمت سے بچنے کیلئے جیل کے اندرخواتین اہلکاروں کے ساتھ وارنٹ دکھا کر انہیں حراست میں لے لیا ، دونوں کو گرفتاری کے بعد نیب دفتر لایا گیا اورطبی معائنہ کرایا گیا چونکہ نیب دفتر میں خواتین کی علیحدہ کوئی حوالات نہیں ، جس پر مریم نواز کو نیب دفتر میں قائم ڈے کئیر سنٹر کو سب جیل قرار دے کر وہاں منتقل کردیا گیا،مریم نواز کی سیکرٹری میٹرس، تکیے ،کپڑے اور کھانے پینے کی چیزوں سمیت دیگر ضروری استعمال کی اشیا لے کر نیب دفتر آئیں ، جنہیں نیب اہلکاروں نے وصول کر کے مریم نواز کے حوالے کردیا ، نیب حکام کے مطابق مریم نواز کی سکیورٹی کے لئے خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے ، نیب اعلامیہ کے مطابق مریم نواز اور یوسف عباس کو چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا گیا ،غیر ملکیوں کی جانب سے مریم نواز کو حصص کی منتقلی کی تفصیلات پر وضاحت مانگی گئی تھی،ذرائع کے مطابق غیر ملکی شہری سعید سیف بن جابر الساویدی نے 94 لاکھ 8 ہزار 90 ،شیخ ذکاالدین نے 20 لاکھ 21ہزار 760 اورہانی احمد جام نے 97ہزار 33 حصص مریم نواز کو منتقل کئے ،ان تمام حصص کی منتقلی 21 مئی 2008 کو کی گئی ،مریم نواز کے گارڈن ٹاؤن میں واقع بینک کے اکاؤنٹ میں 78 لاکھ 87 ہزار 914 روپے ،11 جون 2008 کو اسی بینک اکاؤنٹ میں 1 کروڑ 91 لاکھ کی خطیر رقم منتقل ہوئی جبکہ 20 جون 2008 کو ایک بار پھر اسی اکاؤنٹ میں 1 کروڑ 49 لاکھ 12 ہزار 280 روپے بیرون ملک سے منتقل ہوئے جبکہ جاتی عمرہ کے قریب شریف ایجوکیشن کمپلیکس میں واقع نجی بینک کے اکاؤنٹ میں بھی بیرون ملک سے 28 دسمبر 2016 کو 99 لاکھ 71 ہزار 17 روپے کی رقم منتقل ہوئی،مجموعی طورپر مریم نواز کے اکاؤنٹس میں 5 کروڑ 18 لاکھ 96 ہزار 135 روپے کی خطیر منتقل کی گئی، جس کے بارے میں ان سے وضاحت طلب کی گئی ،ذرائع کے مطابق بینک اکاؤنٹس کے علاوہ مریم نواز سینکڑوں ایکڑ زمین کی بھی مالک ہیں جبکہ یوسف عباس اور ان کے بھائی سے سال 2000 سے اب تک چودھری شوگر ملز کے تمام شیئر ہولڈرز کی تفصیلات، شیئر ہولڈرز میں تبدیلی، فروخت اور خریدے گئے شیئرز کی تفصیلات مانگی گئی ہیں ۔نیب نے مریم نواز سے ان حصص کی رسیدیں، رقم کی ادائیگی اور معاہدے کی تفصیلات ساتھ لانے کا کہا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئیں، نیب کے ایک ترجمان محمد بلال خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مریم نواز کو قانون کے مطابق اور تفتیش میں عدم تعاون پر گرفتار کیا گیا ، ادھر مریم نواز کی گرفتاری کے بعد نیب کی دو ٹیموں نے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی رہا ئش گاہ 96 ایچ پر ان کے 2 ذاتی ملازمین اور عباس شریف کے صاحبزادے عبدالعزیز عباس کی گرفتاری کیلئے الگ الگ چھاپے مارے ، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آ سکی اور ایک گھنٹے بعد نیب کی ٹیمیں واپس چلی گئیں ،عبدالعزیز ، چودھری شوگر ملز کیس میں نیب کو مطلوب ہیں، آئی این پی کے مطابق نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں ان کے بیمار والد کے سامنے گرفتار کیا گیا ، مریم نواز کی گرفتاری کی اطلاع ملنے پر لیگی کارکنوں نے جیل کی طرف جانے والے راستوں پر کھڑی رکاوٹیں ہٹا دیں اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے تاہم انہیں جیل سے کچھ فاصلے پرروک دیاگیا ،کارکنوں نے جیل کے باہر دھرنا دیا ، اس موقع پر کچھ کارکنوں نے احتجاجاً اپنے کپڑے بھی پھاڑ لئے ، بعد ازاں مسلم لیگ ن کے رہنما اور کارکن نیب دفتر کے باہر پہنچ گئے اور احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی ،اس موقع پر مریم نواز کی گرفتاری پر عظمیٰ بخاری کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، نیب دفتر کے باہر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی، مسلم لیگ ن لائرز ونگ نے بھی مریم نواز کی گرفتاری کے خلاف ہائیکورٹ بار کے احاطے میں احتجاج کیا ،گلگت میں بھی مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے مرکزی شاہراہ کو بند کرکے مظاہرہ کیا ۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کی گرفتار ی پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے شدید ہنگامہ آرائی کی ،ن لیگ کے ارکان نے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی ،پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے ، ایوان کے باہر پارلیمنٹ کا مرکزی دروازہ بھی اکھاڑہ بنا رہا ، تحریک انصاف اور ن لیگ کے کارکن گتھم گتھا ہو گئے ،لاتوں اور مکوں کا آزادانہ استعمال کیا ،ایک دوسرے کیخلاف سخت جملوں کا تبادلہ بھی کرتے رہے ۔ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن نے وقفہ سوالات کے دوران کورم کی نشاندہی کی ،جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس روک کر ارکان کی گنتی کرائی لیکن کورم پورا نکلا ، و قفہ سوالات کے بعد نکتہ اعتراض پربلاول بھٹو زر داری نے کہاابھی ٹی وی پر دیکھا کہ مریم نواز کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، آمریت کی طرح نئے پاکستان میں بھی عورتوں پر مقدمے ہورہے ہیں،میرا خاندان نسلوں سے سیاست کررہا ہے ، اس ملک میں سب کچھ دیکھا، آمر ضیا الحق سیاسی مخالفین کی عورتوں کے پیچھے پڑجاتے تھے ، نئے آمرانہ پاکستان میں ہم یہ پھر دیکھ رہے ہیں، لڑنا ہے تو مردوں سے لڑو، تاریخ یاد رکھے گی کہ انصاف کی بات کرنے والے عمران خان آمر بن گئے ۔ بلاول بھٹو زرداری کے واک آؤٹ کے بعد مسلم لیگ ن کے رکن احسن اقبال نے مائیک مانگا تو ڈپٹی سپیکر نے وزیر مواصلات مراد سعید کو دیدیا،جس پر ن لیگ کے ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور نعرے بازی کی ،اس دوران مراد سعید نے ہیڈ فون لگا کر خطاب جاری رکھا اور کہابلاول بھٹو پارٹی کے حادثاتی چیئرمین ہیں، خورشید شاہ اور احسن اقبال سمیت سب نے چوری کی ، انہوں نے ملک کو لوٹا ، ان میں وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو گیس اور بجلی چور ہیں، یہ مودی کے یار ہیں، سجن جندال کو اپنے گھر کس نے بلایا؟ آپ میں بات سننے کا حوصلہ نہیں ، آپ کی سیاسی تربیت نہیں ہوئی، اس دوران اپوزیشن نے شور شرابا جاری رکھا ،جس پر ڈپٹی سپیکر کو کارروائی چلانا مشکل ہو گئی، ڈپٹی سپیکر نے ن لیگ کے ارکان کو باربار وارننگ دی کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں لیکن وہ نہ مانے جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج صبح 11بجے تک ملتوی کر دیا۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا یہ وقت مودی پر تنقید اور مذمت کا ہے لیکن اپوزیشن سے انتقام لیا جارہا ہے ، اس ماحول میں بھی سلیکٹڈ وزیراعظم اپنی انا پر قابو نہیں کرپا رہے ،مریم نواز کی گرفتاری سے غلط وقت پر غلط پیغام جا ئے گا۔مریم نواز کی گرفتاری کے ردعمل میں مسلم لیگ ن کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کا اعلان کیا، میڈیا کے نمائندے لیگی رہنماؤں کا انتظار کر رہے تھے کہ وفاقی وزیر مراد سعید اور اعظم خان سواتی سمیت دیگر حکومتی ارکان ڈائس پر پہنچ گئے ،پریس کانفرنس شروع ہونے لگی تو ن لیگی ارکان ایوان سے احتجاج کرتے ہوئے گیٹ پر پہنچ گئے ،میا ں جاوید لطیف ، احسن اقبال ،مریم اورنگ زیب، شیزہ فاطمہ خواجہ ، زیب جعفر اور مصدق ملک میڈیا ڈائس پر جاری پریس کانفرنس میں چلے گئے اور لیگی کارکن بھی وہاں جمع ہو گئے اور شدید دھکم پیل ہوتی رہی ، دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی ، کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پارلیمنٹ کی انتظامیہ نے پولیس بلالی ، جنہوں نے لیگی ارکان کو حصار میں لے لیا ،جس پر لیگی خواتین نے پھر احتجاج کیا کہ نیب کے بعد اب ہمیں پولیس سے ڈرایا جا رہا ہے ، پریس کانفرنس کے دوران مراد سعید نے کہا مریم نواز پہلے جعل سازی میں پکڑی گئیں،اب کرپشن پر گرفتار کیا گیا ،جتنی مرضی لاتیں چلا لیں احتساب ہوگا ، اس موقع پر اعظم سواتی نے کہا جمہوریت کے دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ بعدازاں پر یس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا مقبوضہ کشمیر پر منظور کی گئی قرار داد کو 24 گھنٹے نہیں ہوئے کہ اس خاتون کو گرفتار کیا گیا جس نے دو روز پہلے سرگودھا میں کشمیری عوام کو مضبوط پیغام دینے کیلئے ایسی تقریر کی جس نے بھارت کے اندر آگ لگا دی ،بزدل حکومت نے مریم نواز کو گرفتار کر کے قوم کو تقسیم کر دیا ،گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے ،منی لانڈرنگ کا حساب عمران خان اور تحریک انصاف نے دینا ہے ، ایک ایک کو گرفتار کر لیں لیکن جیل سے بھی کشمیر اور عوام کی حکمرانی کا مقدمہ لڑیں گے ۔سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا مریم نواز کے پاس اس شوگر ملز کا کوئی عہدہ نہیں جس پر انہیں گرفتار کیا گیا ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا تنویر حسین نے کہا ن لیگ مضبوط دیوار کی طرح کھڑی ہے ۔ رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف نے کہا حکمران امریکہ میں پاکستان کے مفادات کا سودا کر کے آئے ،جس کو چھپانے کیلئے انتقامی کارروائیا ں کی جا رہی ہیں ، مریم نواز کا قافلہ نہیں رکے گا ، تحریک کی قیادت ان کے بچوں کو کرنا پڑی توکریں گے ۔ خواجہ آصف نے کہا اداروں کو استعمال کرنے کی روایت اچھی نہیں ، مریم نواز کے جلسوں کو پذیرائی مل رہی تھی، ظاہر ہو گیا حکومت ان سے کتنی خوفزدہ ہے ، ن لیگ کے تمام رہنما بھی گرفتار ہو جائیں تو خاموشی کی بھی ایک آواز ہو گی، ان ہتھکنڈوں سے عوامی رائے کا رخ نہیں موڑا جا سکتا،مریم نواز کا سفر جاری و ساری رہے گا، وہ دن دور نہیں جب ووٹ کی عزت بحال ہوگی ۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہماری ثقافت کسی کی ماں ، بہن اور بیٹی کے آنچل پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی ۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے کہا جمہوریت اور پارلیمان کو گرفتار کیا گیا ،ملک کو غلام بنایا جارہا ہے ،جو بھی پاکستان کے مفادات اور عوام کی بات کرے گا، اسے مریم نواز بنادیاجائے گا،مریم نواز کو نہیں غلام وزیراعظم نے پاکستان کے مفادات کی بات کرنے والے کو گرفتار کیا، غلام وزیراعظم ایک سال سے اس ملک کے عوام اور پارلیمان کو غلام بنانا چا ہتے ہیں،میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ہم چور ، ڈاکو ہیں لیکن ہمارا موقف نہیں لیا جارہا ، ملک کو تالا لگانے کی سازش کی جارہی ہے ۔ایک بیان میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا حکومت سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ،مریم نوازکی گرفتاری سراسرغلط ہے ،حکومت اوچھی حرکتوں سے نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو نہیں جھکا سکتی،اگر آپ کو کرپشن یا کسی غلط کام کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو کیا گھر کے بچوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا؟ یہ کیسا احتساب اور انصاف ہے کہ گرفتاری بعد میں ہوتی ہے اور خبر پہلے آجاتی ہے ،ہم سب کو کالا پانی بھجوا دیں لیکن جھوٹ کے پردے میں قومی مفادات نیلام نہیں ہونے دیں گے ۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج صبح 10بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا جس میں مریم نواز کی گرفتاری اور چھاپوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے مریم نواز کی گرفتاری پر پنجاب اسمبلی میں چار مذمتی قرار دادیں جمع کرا دیں ، رابعہ فاروقی،حنا پرویز بٹ،عظمیٰ بخاری اور عنیزہ فاطمہ کی جانب سے جمع کرائی گئی قراردادوں میں کہا گیا کہ حکومت کشمیر ،مہنگائی، امن و امان اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایسے اقدامات کر رہی ہے ،اپوزیشن رہنماؤں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،حکومت فی الفور گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرتے ہوئے گرفتار رہنماؤں کو رہا کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں