26

مقبوضہ کشمیر: کرفیو توڑ کر نماز جمعہ کی ادائیگی, مظاہرے, کشمیری پولیس اور بھارتی فوجیوں میں بھی جھڑپیں, مسئلہ کشمیر پر پاکستان کو انصاف دلائیں گے: چین

سرینگر,بیجنگ,اسلام آباد : چین نے مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ اقدامات سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی، چین عالمی سطح پر انصاف کے حصول کیلئے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ بیجنگ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور انکے چینی ہم منصب وانگ ژی کے مابین ملاقات اور بات چیت کے بعد چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی وفد کو کشمیر میں تازہ صورتحال اور حالیہ پیشرفت کے رد عمل میں پاکستان کے تحفظات،موقف اور اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ چین کو مقبوضہ کشمیر میں حالیہ کشیدگی میں اضافے پر انتہائی تشویش ہے ،کشمیر کا معاملہ نو آبادیاتی دور کا تنازع ہے اور یہ مسئلہ یو این چارٹر ،متعلقہ یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ چین اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ یکطرفہ اقدامات صورتحال کومزید پیچیدہ بنا دیں گے ،انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے ہمیشہ اہم معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کی ہے جو ایک اچھی روایت ہے اور روایت ہم جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین عالمی سطح پر انصاف کے حصول اور جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔وانگ ژی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں چین کے ہمسایہ اور اہم ترقی پزیر ملک ہیں۔انہوں نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ اقدامات سے پرہیز کریں اور پر امن بقائے باہمی کا نیا راستہ اپنائیں۔ دونوں قومی ترقی اور جنوبی ایشیا میں قیام امن کو اولیت دیں، تاریخی تنازعات مناسب طریقے سے ڈیل کریں، ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی سوچ سے باہر نکلیں ، یکطرفہ اقدامات سے گریز کریں اور امن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کریں۔شاہ محمود قریشی نے بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ میری مفید اور بروقت نشست تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے جو فیصلے کیے ہیں اور سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے تو چین، پاکستان کی مکمل حمایت کرے گا اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون رکھے گا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین نے بھارت کی جانب سے حالیہ اقدامات کے بعد پاکستانی فیصلوں اور موقف کی مکمل تائید کی ہے اور کہا کہ بھارتی اقدامات سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ وانگ ژی سے میری اڑھائی گھنٹے ملاقات ہوئی ہے ، چینی ہم منصب نے کہا کہ اپنی تمام تر مصروفیات اور شارٹ نوٹس کے باوجود میں یہ نشست ، صدر شی کے حکم پر کر رہا ہوں،کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی کی نوعیت مختلف ہے اور ہمارا رسپانس لیول بھی مختلف ہے ۔مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ چین نے آج ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا با اعتماد دوست ہے یہ دوستی آج بھی لازوال ہے اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے ۔میرے چینی ہم منصب نے اتفاق کیا کہ حالیہ بھارتی اقدامات سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس سے بھی اتفاق کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ تھا اور ہے اور اقوام متحدہ نے اسے متنازعہ تسلیم کیا ہے اور اس کا حل بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہونا چاہیے ۔چین کی خواہش ہے کہ اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے انہیں آگاہ کیا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جب کرفیو اٹھایا جائے گا تو وہاں ظلم و بربریت کا دور شروع ہو سکتا ہے جس سے مزید خون خرابے کا اندیشہ ہے اور اس کا ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے اور اس ردعمل کو آڑ بنا کر کوئی پلوامہ جیسی حرکت دوبارہ کی جا سکتی ہے ۔چینی ہم منصب نے کہا کہ پاکستان نے جو سکیورٹی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے چین اس کی مکمل حمایت کریگا اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون رکھے گا۔ہماری وزارتیں اور مشنز آپس میں روابط جاری رکھیں گے تاکہ ہماری اپروچ اور حکمت عملی مشترکہ ہو اور ہم یکسوئی سے آگے بڑھ سکیں۔قبل ازیں وزیرخارجہ کا چینی ہم منصب سے ملاقات کیلئے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس پہنچنے پر شاندار استقبال کیا ،ہال کا فی دیر تک پاک چین دوستی زندہ باد کے نعروں سے گونجتارہا۔ادھر وزیر اعظم عمران خان نے بحرین کے بادشاہ عظمت شیخ حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے انہیں بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بھارتی خلاف ورزی سے آگاہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کی۔وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت یو این کی قرارداد کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دے کر کہا عالمی برادری کو خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے بھارت کو اس غیر ذمہ دارانہ اور یکطرفہ کارروائی سے روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔اس موقع پر بحرین کے بادشاہ عظمت شیخ حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے کہا بحرین کی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر تشویش ہے تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وادی میں پانچویں روز بھی لاک ڈاؤن جاری رہا، نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے شہری کرفیو کو توڑکر مساجد پہنچے ، وادی کے کئی علاقوں میں ہنگامے ،کشمیری پولیس اور بھارتی فوجیوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں، نماز جمعہ کے بعد سری نگر میں دس ہزار سے زائد افراد نے بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ کیا، مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا۔ ایک پولیس اہلکار اور عینی شاہدین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پانچ روز ہ لاک ڈاؤن کے بعد یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ عینی شاہد نے بتایا کہ سب سے زیادہ مظاہرین سری نگر کے سورا چوک میں جمع ہوئے ، پولیس نے انہیں ایوا پل کی جانب دھکیل دیا، جس کیلئے پولیس نے آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا۔ پیلٹ گن کے متعدد زخمیوں کو شیر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کر دیا گیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پیلٹ گنوں سے بچنے کیلئے کچھ خواتین اور بچوں نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس نے ان پر دونوں طرف سے حملہ کیا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ پیلٹ گن سے زخمی ہونیوالے 12افراد کو دو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے ۔ قابض انتظامیہ نے مزید سینکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ وادی میں سخت ترین کرفیو کے باعث شہریوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا ختم ہو گئی ہیں۔ بھارتی فوج کے ہزاروں اہلکار سڑکوں پر گشت کررہے ہیں جبکہ دکانیں بند ہیں، گزرگاہوں پر جگہ جگہ خاردار تاریں لگا کر علاقے کو دوسرے علاقے سے علیحدہ کیا گیا ہے اور وادی میں ایسی خاموشی طاری رہی کہ صرف سکیورٹی اداروں کی گاڑیوں کے سائرن کے علاوہ کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔وادی کی طرف آنے والے راستوں کو بھارتی قابض افواج نے خار دار تاریں لگا کر بند کیا ہوا ہے ، جموں، کٹھوعہ، سامبا، پونچھ، ڈوڈا، ادھمپور سمیت دیگر علاقوں میں زیادہ سختی ہے ۔ شہریوں کو باہر آنے سے منع کیا جا رہا ہے ۔مسلسل پانچویں روز میڈیا بھی بلیک آؤٹ ہے ، اخبارات کی ترسیل بند ہے ۔ بھارتی افواج نے خوف کے باعث انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند کر رکھی ہیں۔ سکولوں اور کالجوں سمیت تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔اُدھر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں شدید کرفیو کے باعث ایک ماں اپنے بیٹے سے رابطہ نہ ہونے پر دہائیاں دے رہی ہے کہ پانچ دن سے میرا بیٹے سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ لوگ کرفیو کی وجہ سے گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ممکنہ مظاہروں سے نمٹنے کیلئے بھارتی فورسز ہائی الرٹ رہیں۔ اسی طرح مظاہروں کا گڑھ سری نگر کی مرکزی جامع مسجد بند رہی جبکہ وادی کی دیگر جامع مساجد بھی بند رکھی گئیں ۔ نماز جمعہ ادا کرنیوالے ایک شہری نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے ، ہر طرف بھارتی فوجی دکھائی دیتے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوپور میں کشمیری بڑی تعداد میں نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر نکل آئے جس سے ہنگامے پھوٹ پڑے ، قابض انتظامیہ کیخلاف احتجاج کرنے پر فورسز نے فائرنگ اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس پر مظاہرین نے پتھرائو کیا، ہنگاموں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ کارگل میں بھی شہریوں نے بھارت کی طرف سے خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد احتجا ج کیا ، شہریوں نے مطالبہ کیا کہ وادی کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے ۔کارگل میں ہنگاموں کے بعد دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے ۔وادی میں ایسی خاموشی طاری رہی کہ صرف سکیورٹی اداروں کی گاڑیوں کے سائرن کے علاوہ کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا ۔ اطلاعات کے مطابق گلی محلوں کی کریانے اور دودھ دہی کی دکانیں بھی بند ہیں جس کے باعث محصور مکینوں کے گھروں میں کھانے پینے کی اشیا ختم ہوچکی ہیں اور نیا انسانی المیہ سر اٹھارہا ہے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بے حس بھارتی قوم میں کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ کشمیری کس حال میں ہیں۔ ان کی بستیوں میں کیا ہو رہا ہے ؟۔ جس طرح کی پراسرارخاموشی کشمیر میں چھائی ہوئی ہے اسی طرح کا سناٹا یہاں میڈیا میں کشمیریوں کے بارے میں چھایا ہوا ہے ۔برطانوی میڈیا نے خبر دار کیاہے کہ کرفیو کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آتش فشاں پھٹ سکتا ہے ، عید کے دنوں میں بارونق نظر آنے والا لال چوک ویران پڑا ہے ۔ سرینگر میں کرفیو کاشکار شہریوں نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں، بھارت نواز سیاستدان اب ہمارے رہنما نہیں ہیں۔ شہریوں نے کہا کہ ہم آزادی کیلئے لڑنے والوں کی حمایت کریں گے ، ہمارے بچے کھڑکیوں سے جھانکتے ہیں تو فوجی اورہتھیار نظر آتے ہیں۔شہریوں کا کہنا تھا کہ بھارت طاقت اور ہتھیار سے کشمیریوں کونہیں جیت سکتا ۔کشمیریوں کے خیالات اور گفتگو کے تناظر میں برطانوی میڈیانے دعویٰ کیاہے کہ سرینگر کا لال چوک جو عید کے دنوں میں بہت بارونق ہوتا تھا ۔ اس وقت ویرانے کامنظر پیش کررہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیوکے بعد ایک آتش فشاں پھٹ سکتا ہے ۔ تاجرریاض نے بتایا کہ سری نگر کے اس سکیورٹی حصار میں دس لاکھ سے زائد افراد رہ رہے ہیں، جس کی سختیاں بتدریج شہریوں پر اثر انداز ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ انہیں غذائی اجناس اور ضررویات زندگی کی قلت کا سامنا ہے ، دکانیں بند ہیں، نقل وحرکت انتہائی محدود ہے ، سکول بند ہونے کی وجہ والدین کیلئے تمام دن بچوں کو سنبھالنا مشکل ہورہا ہے ، مریضوں کی ادویات کی کمی کا سامنا ہے ، بینک بند جبکہ اے ٹی ایم کیش سے خالی ہیں۔ ایک بار پھر پوری آبادی کو قیدی بنا دیا گیا ہے ۔ ترکھان محمد اکبر نے کہا کہ اس اجتماعی سزا پر بھارت کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ سخت سکیورٹی حصار کے باوجوداحتجاجی مظاہرے روزانہ ہو رہے ہیں، شام کے وقت جب فوجی واپس جانا شروع کرتے ہیں، نوجوان کشمیری ان پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ بھارت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق فورسز کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2درجن سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں ایک کی حالت تشویش ناک ہے ۔ادھر کشمیر کی صورتحال بھارتی فوجیوں اور کشمیر پولیس کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہی ہے ، پولیس کا اصرار ہے کہ انہیں بھارتی منصوبوں سے بے خبر رکھا گیا تھا۔ پولیس اور پیرا ملٹری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ تین مقامات پر پولیس اور پیراملٹری فورسز کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑے ہوئے ، جن میں دونوں اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ۔ اے پی کے مطابق گزشتہ روز 5سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ادھر نئی دہلی کی جامعہ مسجد میں نماز ادا کرنے والے بیشتر مسلمانوں نے کشمیر سے متعلق بھارتی حکومت کے فیصلے پر نا پسندیدگی کا اظہارکیا۔ایک بھارتی ویب سائٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے جموں کی میونسپل حدود سے دفعہ 144ختم کر دی، جس کے بعد آج 10 اگست سے تمام تعلیمی ادارے کھل جائینگے ۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں مختلف کالجوں اور یونیورسٹیز کے سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی۔ ریلی کے دوران طلبہ سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے صدائیں بلند کیں۔ ان میں ‘‘ہم آزادی چاہتے ہیں’’، ‘‘ہماری زمینوں کو آزاد کرو’’ اور کشمیر میں آپریشنز بند کیے جائیں، کے نعرے شامل تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں