17

رہائی کی درخواست ہو تو نواز شریف کیلئے ویڈیو فائدہ مند ہو گی، چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد: احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی رہائی اور سزا کے خاتمے کے لیے ویڈیو فائدہ مند تب ہو گی جب کوئی درخواست دائر کی جائے گی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل انور منصور خان اور ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 3 ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں 2 ویڈیوز کا معاملہ تھا، ایک ویڈیو وہ تھی جس کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا اور دوسری ویڈیو وہ تھی جو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ ارشد ملک کو انہوں نے تعینات کرایا اور کیا وہ مبینہ شخص سامنے آیا جس نے ارشد ملک کو تعینات کرایا تھا۔ اٹارنی جنرل عدالت کو بتایا کہ ارشد ملک کی تعیناتی والا مبینہ شخص سامنے نہیں آیا اور اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے اس وقت کی حکومت نے پاناما فیصلے کے بعد ارشد ملک کی تعیناتی کی اور رپورٹ کے مطابق ناصر جنجوعہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ارشد ملک کو اس نے تعینات کرایا۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ارشد ملک کی ویڈیو کا فارنزک تجزیہ کیا گیا۔ اس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کیا کہ ویڈیو ہمارے پاس نہیں۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویڈیو سوائے ایف آئی اے کے پورے پاکستان کے پاس ہے۔ سارا پاکستان اور عدالت ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے اور کیا وہ ویڈیو صحیح ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس ویڈیو کا فارنزک نہیں ہوا جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو ویڈیو کے فارنزک کی بھی یقین دہانی کرائی۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ سے ابہام پیدا ہوا ہے۔ غالباً 2 ویڈیوز تھیں اور قابل اعتراض ویڈیو وہ تھی جس سے جج کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ دوسری ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا قانونی فائدہ اٹھانے کیلئے کسی عدالت میں کوئی درخواست دی گئی۔ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف کی رہائی اور سزا کے خاتمے کے لیے ویڈیو فائدہ مند تب ہو گی جب کوئی درخواست دائر کی جائے گی۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ ویڈیو کی کاپی کا فارنزک ہو سکتا ہے یا نہیں، یہ بھی دیکھنا ہے کہ یوٹیوب ویڈیو کا فرانزک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جنہوں نے یہ کہانی بنائی وہ اس سے لاتعلق ہو گئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سب سے پہلے یہ ویڈیو اصل ثابت ہو گی تو کافی اثرانداز ہو گی اور جج ارشد ملک کا ایک ماضی ہے جسے وہ مان رہے ہیں انہیں تو کوئی بھی بلیک میل کر سکتا ہے جسے سزا دی اس کے گھر چلے گئے۔ اس کے بیٹے سے ملنے سعودیہ چلے گئے اور کیوں؟ ارشد ملک کی حرکت سے ہزاروں دیانتدار اور محنتی ججوں کے سرشرم سےجھک گئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ اس سارے معاملے کو ہلکا لے رہے ہیں۔ ہمارا تعلق اپنے جج سے ہے، اس کے کردار پر بہت سے سوالیہ نشان آ گئے ہیں۔ جج نے بہت سی چیزیں حلف نامے اور پریس ریلیز میں بتائیں اور معلوم نہیں جج صاحب کو کس نے مشورہ دیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ویڈیو کو اصل ثابت کرنا بہت مشکل کام ہو گا اور اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ قابل اعتراض ویڈیو پر تو جج نے بھی اعتراف کیا ہے لیکن جو پریس کانفرنس میں دکھائی وہ اصل ثابت کیسے ہو گی؟۔ ویڈیو معاملہ ماہرین سے کلیئر کرائیں کہ فارنزک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ آڈیو رکارڈنگ الگ کی گئی۔ پریس کانفرنس کے دوران ویڈیو کا سب ٹائٹل بھی چل رہا تھا اور لگتا ہے ویڈیو کے ساتھ کسی نے کھیلا ہے۔ واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نوازشریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی تھی۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں