72

برقی پیوند جو نابیناؤں کے لیے روشنی کی نئی کرن بن سکتا ہے

اٹلی:سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کے سائنسدانوں نے ایک برقی پیوند بنایا ہے جو نابینا افراد کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہوسکتا ہے۔ ای پی ایف ایل سوئزرلینڈ اور اٹلی کے اسکولا سوپیریئرسانٹ اینا انسٹی ٹیوٹ نے ایک ایسی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جو آنکھ کے ڈیلے کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست دماغ سےرابطہ کرتی ہے۔ اس کے لیے آنکھ کے بصری اعصاب (آپٹک نرَو) میں برقیروں (الیکٹروڈٌ) سے بھرا ایک پیوند (امپلانٹ) لگایا گیا ہےجسے آپٹک سیلائن کا نام دیا گیا ہے اور خرگوشوں پر اس کی کامیاب آزمائش کی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات بایومیڈیکل انجینیئرنگ میں شائع ہوئی ہے۔ یہ پیوند نظر کےاعصاب کو تقویت دیتا ہے جس سے کچھ نہ کچھ بصارت بحال ہوجاتی ہے۔ ’ہمارا یقین ہےکہ اس سے قبل کئی قسم کےاعصابی اور حرکیاتی افعال کوعین اسی طریقے سے کامیابی سے بحال کرایا جاچکا ہے۔ اس سے قبل انٹرانیورل الیکٹروڈز کی بدولت معذور افراد میں مصنوعی بازو نصب کرکے انہیں حرکت دی گئ ہے اور دیگر اہم افعال یقینی بنائیں گئے ہیں۔ یہ طریقہ مکمل طور پر نابینا افراد کے لیے امید کی ایک کرن بن سکتا ہے۔‘ ڈاکٹر ای پی ایف ایل کے ڈاکٹر سلویسٹرو مائی سیرا نے کہا۔ اس تکنیک میں روشنی کو براہِ راست دیکھے بنا مریض کو سفید خدوخال (پیٹرن) دکھائے جاتے ہیں۔ اس میں آنکھ کے ریٹینا پر مصنوعی پیوند لگائے جاتےہیں اور وہی روشنی کو محسوس کرتی ہے نا کہ آنکھ ،اور اس کے سگنل براہِ راست دماغ تک جاتے ہیں اور آنکھ کو مکمل طور پر بائی پاس کردیا جاتا ہے۔ اس نئی تکنیک میں ایک پیوند پر 12 چھوٹے الیکٹروڈ لگائے گئے ہیں اور یہ بصارت کے اعصاب کو سرگرم کرتے ہیں۔ اس طرح ماہرین دماغ میں بصارت ممکن بنانے والے حصے یعنی ’وژول کارٹیکس‘ کی سرگرمی کو نوٹ کرتے رہے ۔ اس دوران کورٹٰیکل سگنلز پر بھی دھیان رکھا گیا۔ آپٹک سیلائن کے عمل میں بصارت کے اعصاب پر الیکٹروڈ جوڑے گئے تھے۔ جب نابینا خرگوشوں پریہ طریقہ آزمایا گیا تو ان میں جزوی بصارت بحال ہوئی لیکن ماہرین نے اس ضمن میں بہت کم الیکٹروڈ استعمال کئے تھے۔ اگلے تجربات میں زیادہ الیکٹروڈ والے پیوند استعمال کئے جائیں گے لیکن اب بھی انسانوں میں اس کی آزمائش میں ایک عشرہ لگ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں