12

مزاحمت کچلنے کیلئے کشمیر میں قتل عام کابھارتی منصوبہ ہے :شاہ محمود

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے بھارت کشمیریوں کی مزاحمت کچلنے کیلئے قتل عام کے منصوبے بنا رہاہے ،دنیا مودی سرکارکو اس اقدام سے روکنے کیلئے خاموشی توڑ دے ۔عالمی تنظیم جینو سائید واچ کی کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاجینوسائیڈ واچ انتہائی گھمبیر صورتحال میں الرٹ جاری کرتی ہے ، کشمیرمیں صورتحال بہت بگڑ چکی ہے وہاں کے لوگ مجبوراً حالات اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل عام کی جانب بڑھ رہا ہے اسے روکنا ہوگا،دنیا کو اپنی خاموشی توڑنا ہوگی، ہمارے پاس جو ممکنہ راستے ہیں وہ اختیار کررہے ہیں۔وادی میں نوجوان بچوں اور بچیوں کو اٹھایا جارہا ہے جس کی وجہ سے پوری وادی میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے ۔ قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوئٹزر لینڈ کے ہم منصب ایگنازیو کاسیس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔شاہ محمود قریشی نے اپنے سوئس ہم منصب کو بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اقدامات اور ان کے مضمرات سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا ہندوستان نے 5 اگست سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کر رکھا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے آنیوالی رپورٹس انتہائی تشویشناک ہیں۔ بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے صریحاً منافی ہیں۔سوئٹزر لینڈ کے وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم اس ساری صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے تمام فریقین کو تصفیہ طلب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔شاہ محمود قریشی نے آئیوری کوسٹ کے وزیر خارجہ مارسل آمون تاانو سے دوسری مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ دونوں وزراء خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ شاہ محمود نے نیپالی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے مقبوضہ کشمیرکی کشیدہ صورتحال پرتبادلہ خیال کیا ،وزیرخارجہ نے کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا، نیپالی وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکی کشیدہ صورتحال پرتشویش ہے ۔ادھرانسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزارت خارجہ میں شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ، جس میں مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیاگیا۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا بھارت نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیاہے ، نو لاکھ سے زائد بھارتی فوج وادی میں مظالم میں مصروف ہے ، ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے ، ہم عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہیں، کشمیر کے حوالے سے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں، کرفیو 18روز سے جاری ہے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قابض فوج نے 4کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں، ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے کشمیر یوں کیلئے آواز اٹھانے پر شکرگزار ہیں، کشمیر کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف میں جانے پر وزارت قانون اور وزارت خارجہ میں کوئی اختلاف نہیں ،اس معاملے پر نہایت فعال مشاورت جاری ہے ،وزیر خارجہ نے بہت سے ملکوں کے ہم منصبوں سے رابطہ کیا ہے ،بہت سے ممالک کی جانب سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش آ رہی ہے ، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت رواں برس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ،اسی وجہ سے اس نے پاکستان کو ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ کرتار پور وقت پر کھل جائے ،پاکستان میں داعش کا کوئی منظم وجود نہیں ، ہمسایہ میں داعش کی موجودگی پر شدید تحفظات ہیں، جو بھارتی پاکستان میں پھنس گئے وہ واہگہ سے واپس جا سکتے ہیں، دفتر خارجہ ان کی واپسی میں امداد کو تیار ہے ۔ انہوں نے کہاحکومت پاکستان کا افغانستان میں امن و مفاہمت کیلئے موقف واضح ہے ۔امریکہ کی جانب سے جواد ظریف پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، یکطرفہ پابندیوں کیخلاف ہیں۔ دریں اثنا شاہ محمود قریشی سے تحریک انصاف کے سیکرٹری او آئی سی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے ملاقات کی،وزیر خارجہ نے کہا دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں