11

نوازشریف یااپوزیشن سےکوئی ڈیل نہیں ہوئی،وزیرداخلہ

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نواز شریف سمیت کسی بھی اپوزیشن رہنما کیساتھ کوئی ڈیل نہیں کر رہی، مقبوضہ وادی میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا مشکل ہوگا۔ عرب نیوز کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں بریگیڈیر ریٹائرڈ اعجاز احمد شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت نواز شرییف سمیت کسی رہنما کے ساتھ کوئی ایمنسٹی ڈیل نہیں کر رہے، اگر ایسی کوئی ڈیل ہوئی بھی تو وہ وزارت داخلہ کے ذریعے ہوگی، تاہم ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں، تاہم اگر نیب کی جانب سے ایسی کوئی ڈیل زیر غور ہے تو ہمیں اس بات کا علم نہیں۔ کشمیر کے موضوع پر کیے گئے سوال کے جواب پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا مشکل میں پڑ جائے گا، کشمیر میں کشیدگی خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچائے گی، اگر وہ افغانستان سے نکلنا چاہیئں گے اور کشمیر کی صورت حال جوں کی توں رہے گی تو یہ امریکی فوجیوں کیلئے مشکل ہوگاْ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمير کي صورت حال پر تشويش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرفیو ختم ہونے کے بعد بھارتي وزيراعظم مودی اورکشمیریوں کا اصل امتحان ہوگا۔ عالمی برادری کو مسئلہِ کشمیر پر ردعمل دکھانا ہوگا۔ وزيرداخلہ نے يہ بھي کہا کہ جتنا وزیر اعظم نے کشمیر کاز کیلئے کام کیا اتنا کسی رہنما نے نہیں کیا۔ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر کام کرنا ہے جو دیانتدارہو۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معالی معاونت سے متعلق ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے اقدامات پاکستان کے مفاد ميں ہيں ليکن بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دینے کيلئے زور لگا رہا ہے، حکومت پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے خلاف پہلے ہی کافی اقدامات کرچکي ،ضرورت پڑی تومزید اقدامات بھی لیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے کچھ اقدامات پاکستان کيلئے فائدہ مند ہیں، ليکن بھارت ایف اے ٹی ایف کے ذريعے پاکستان کو بلیک لسٹ قراردلانے کيلئے کوشاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں