6

کشمیر کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں , آخری گولی ,آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے : جنرل قمر باجوہ

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نا مکمل ایجنڈا ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق نہیں ہوجاتا،پاکستان کبھی بھی کشمیریوں کو تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا،پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ، کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے ، پاکستان کے بہادر عوام اور افواج کشمیری بہن بھائیوں کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں ،آخری گولی ،آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ جی ایچ کیو میں یوم دفاع و شہدا کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاآپ سے بات چیت کرنا میرے لئے باعث فخر ہے ،جب شہیدوں کی دستاویزی فلم دیکھ رہے تھے ،جہاں آنکھیں نم ہوئیں ،وہیں میرا سر فخر سے بلند ہوا،اپنے شہیدوں اور ان کے بہادر خاندانوں کے احساسات دیکھ کر میرے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ، پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ جب بھی مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیاوجہ ہے پاکستان اور اس کی افواج نے وہ کام کیا جو کوئی اور ملک یا افواج اتنی کامیابی سے نہیں کر پائے ؟ تو میرا جواب ہوتا ہے کہ جب تک ہمارے پاس آپ جیسے والدین ہیں ، جو ایسے بہادر جوان پیدا کرتے ہیں جو ملک پر جان نچھاور کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں ،تب تک پاکستان کودنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی اور یہی ہماری اصل طاقت ہے ،قیام پاکستان سے بقائے پاکستان کا سفر ہمارے شہدا کی عظیم اور لازوال قربانیوں سے سجا ہوا ہے ،پاکستان کی بنیادوں میں شہیدوں کا لہو شامل ہے ،1947 سے آج تک خواہ وہ روایتی جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف آپریشن ،ہمارے شہدا نے جانیں دے کر ملکی سلامتی کو یقینی بنایا ،جب بھی ضرورت پڑی وطن کے بیٹوں نے لبیک کہا،ماؤں نے اپنے لعل ،بیویوں نے اپنے سہاگ ،بہنوں نے اپنے بھائی اور بچوں نے اپنے سر کی چھت پاکستان پر نچھاور کر دی،دھرتی کے بیٹوں کا خون کل بھی وطن کے تحفظ کا ضامن تھا اور آج بھی ہمارے جری سپوت ملک و قوم پر قربان ہونے کو تیار ہیں ، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اور نہ جائیں گی،حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیابیاں باقی دنیا کے لئے مثال ہیں ، یہ بہت لمبی اور مشکل جنگ تھی لیکن ہمارے بہادر افسر اور جوان چٹان کی طرح ڈٹے رہے ،وطن کی خاطرسینوں پر گولیاں کھائیں ،اپنے اعضا کی قربانی دی اور اپنا کل ہمارے آج کے لئے قربان کردیا ،مگر پاکستان کے دشمنوں کو ان کے ناپاک ارادے میں کامیاب نہیں ہونے دیا،آج پاکستان میں امن کی بہتر فضا ہے ، آج کا پاکستان امن وسلامتی کا پیغام دیتا ہے ، جو خطے اور پوری دنیا کے لئے بھی ہے ،ان کے لئے ہمار ی لازوال قربانیاں اور تعاون ایک مثال ہے ، پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے پوری کی ہیں ، اب اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو عملی طور پر رد کر ے ، ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور روشن مستقبل دیں ،آج کا پر امن اور بدلتا ہوا پاکستان دنیا کے لئے امن ،ترقی اور رواداری کا پیامبر ہے ،ایک پر امن ،مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان ہماری منزل ہے ،ہم اس منزل کی طرف پوری حکمت عملی اور استقامت سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ، دہشت گردی کے عفریت سے کامیابی سے لڑنے کے بعد ہماری جنگ غربت، بے روزگاری ،جہالت اور معاشی پسماندگی کے خلاف ہے تاکہ ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں ،آج جب ہم روشن پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمارے دل مقبوضہ کشمیر میں اپنے بہنوں بھائیوں کی تکلیفوں ، مصیبتوں اور بڑھتی ہوئی مشکلات کی وجہ سے بے چین ہیں،آج کا کشمیر ہندوتوا کی پیروکار بھارتی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار بن چکا ہے ، ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے ،کشمیریوں کا خون ارزاں ہو چکا اور جنت نظیر کشمیر ظلم کی آگ میں جل رہا ہے ، بھارتی قیادت نے جنونیت ،تنگ نظری ، نفرت اور طاقت کے زعم میں کشمیریوں پر حملہ کیا ، جو بلا شبہ ہمارے اور پورے عالم انسانیت کے لئے چیلنج ہے ،کشمیر کے بے بس عوام کی تکالیف اور آئے روز کی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانی ضمیر کے لئے لمحہ فکریہ ہیں،پاکستان ایک پر امن ملک ہے ،خطے کے حالات پر نظر دوڑاتے ہیں تو جنگ اور بے چینی کے بادل بھی نظر آتے ہیں اور امن و سلامتی کی امید بھی ، مگر تمام حالات میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ، اس عمل میں بھی ہمارے شہدا اور غازیوں کی قربانیاں شامل ہیں ،ہم نے ہمیشہ امن و سلامتی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ،افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ، ہم نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن کے لئے کوششیں کی ہیں اور آئندہ بھی جاری رکھیں گے ، افغان مفاہمتی عمل میں ہمارا بھرپور تعاون ہماری سوچ کا عکاس ہے ، تنازع کے تمام فریقین کی شرکت اور اتفاق رائے سے ہی افغان قوم کے لئے امن ،سلامتی اور خوشحالی لائی جاسکتی ہے ،پاکستان نے ہمیشہ افغان سربراہی میں افغانوں پر مشتمل امن عمل کی حمایت کی ،کئی ماہ کی سرگرم سفارتی کوششوں کی وجہ سے آج امن کی منزل نزدیک نظر آرہی ہے ، اس عمل کے حتمی نتیجے تک پہنچنے تک ہمارا با مقصد تعاون جاری رہے گاکیونکہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے ،افواج پاکستان اورقوم کی طرف سے تمام غازیوں اورشہدا کے خاندانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں،آپ کے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں ،خون کی کوئی قیمت نہیں مگر آپ کا حوصلہ لازوال ہے ، پوری قوم آپ کی قربانیوں اور عزم کو سلام پیش کرتی ہے ،آپ ہمارے مان ہیں،شہید ہماری پہچان ہیں ،جن کی قربانیاں آپ کے حوصلے اور پوری قوم کی بے مثال جدوجہد پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ،یوم دفاع و شہدا اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم کوئی شہادت نہیں بھولے ، زندہ قومیں اپنے شہیدوں پر ناز کرتی ہیں ،ان کے کارناموں اور قربانیوں سے اپنے جذبوں کو جلا بخشتی ہیں ،آج کے دن بحیثیت قوم ہمارا ہر شہید کے گھر جانا نہ صرف شہدا اور ان کے خاندانوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے بلکہ اس بات کی بھی گواہی ہے کہ پاکستان ایک زندہ و تابندہ قوم ہے ،ہم نے مادر وطن کی حفاظت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور نہ آئندہ کریں گے ۔ قبل ازیں تقریب کے آغاز پر قومی ترانہ پڑھا گیا اور بگل بجائے گئے ،تمام شرکا نے کھڑے ہوکر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا، مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی،تقریب میں ڈی جی آئی ایس پی آر، فوجی افسروں ،شہدا کے لواحقین اور دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی ، اس موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے تیار کی گئی دستاویزی فلم میں شہدا کی گھروں سے محاذ پر جانے اور جسد خاکی واپس آنے پر والدین ،بیوی بچوں پر کیا گزرتی ہے ؟سب فلم میں دکھایا گیا، جنہیں دیکھ کر ہر ایک کی آنکھیں نم ہو گئیں،مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے بھارتی مظالم کو بھی اجاگر کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں