17

ڈینگی کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے اقبال ہاشمی

کراچی :  پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ ڈینگی کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے اور حکومت کرپشن کیسز کے دفاع میں لگی ہوئی ہے۔ ڈینگی نے سندھ کے عوام پر حملہ کر دیا اور عوامی نمائندے عوام کو مچھروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بنکروں میں چھپ گئے ہیں۔ 2000 سے زائد مریض اسپتال پہنچ چکے ہیں، 8 کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔سندھ کی وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی کو کرپشن سے فرصت نہیں، صحت کے نام پر اربوں روپے کابجٹ کہا ں جا رہا ہے؟ڈینگی مچھر حکمرانوں کے بیڈ روم میں چھوڑدئے جائیں تاکہ انہیں عوام کی اذیت کا اندازہ ہو۔ ڈینگی کے مرض کو بے قابو ہونے سے پہلے کنٹرول کیا جائے۔ سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی وارڈز کے قیام اور اس ضمن میں درکار ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ڈینگی وائرس پر قابو پانے میں نااہلی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری عہدیداروں اور اہلکاروں کے خلاف ڈینگی سے فوت ہو جانے والے مریضوں کے لواحقین کی جانب سے قتل کے مقدمات درج کئے جائیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ رواں برس ڈینگی کے سندھ بھر میں 2000 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد سرکاری اسپتالوں کی ہے جبکہ نجی اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کی آمد اور اموات اس تعداد سے 5 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ صرف ماہ ستمبر کے ابتدائی پندرہ دنوں میں کراچی میں 480 مریض لائے جا چکے ہیں۔ گذشتہ بارشوں کے بعد کراچی میں کچرے اور غلاظت کے ڈھیروں کو صاف کرنے میں سستی، غفلت اور بد انتظامی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت عوام کو بتائیں کہ صوبہء سندھ کے بجٹ میں صحت عامہ کے لئے کتنی رقم رکھی گئی ہے اور وہ کہاں خرچ کی جارہی ہے؟ ڈینگی سے بچاؤ کے لئے عوام میں شعور پیدا کرنے کے لئے حکومت سندھ کی ٹیمیں اسپتالوں اور دفاتر سے باہر نکل کر عوام میں نہیں جا رہیں اور سارا دن وقت گذاری کر کے اپنے گھروں کو چلی جاتی ہیں۔ صحت کے نام پر مختص بجٹ کے اربوں روپے مختلف جعلی کاموں کے ذریعے ہڑپ کئے جارہے ہیں۔ مچھر مار اسپرے کا شہر میں کوئی وجود نہیں۔ اقبال ہاشمی نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بد انتظامی، بے روزگاری اور کرپشن سے تنگ آچکے ہیں اور اب رہی سہی کسر ڈینگی وائرس کے حملے نے پوری کر دی ہے۔ تینوں بڑے سرکاری اسپتالوں جناح اسپتال، سول اسپتال اور عباسی اسپتال میں ڈینگی کے بارے میں تسلی بخش علاج کا انتظام نہیں جبکہ پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کی کھال اتاری جا رہی ہے۔ ڈینگی وائرس سے بچاؤ اور افزائش کے مقامات کو تلف کرنے میں حکومت اور سٹی انتظامیہ کی جانب سے غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو عوام کو جیتے جی موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں