68

وزیر اعظم صاحب گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی بن کر دکھائیں الطاف شکور

کراچی  :   پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیر اعظم صاحب گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی بن کر دکھائیں۔قوم کی بہادر بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے انہوں نے جن عزائم کا اظہار کیا تھا، جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کریں۔قدرت نے ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے لئے آپ کو دو بہترین مواقع دیئے جنہیں آپ نے گنوا دیاہے۔، قوم کو امید تھی کہ آپ عافیہ کو وطن واپس لائیں گے لیکن آپ نے قوم کو مایوس کیا۔ بستر علالت پر پڑی ایک ضعیف ماں جسے آپ نے کبھی امید دلائی تھی کہ میں اقتدار میں آیا تو عافیہ کو واپس لانا میری پہلی ترجیح ہو گی، وہ وعدے کیا ہوئے؟ آپ کو محمد بن قاسم سمجھ کر پوری قوم نے  سپورٹ کیا، آپ کا ساتھ دیا، آپ کو منتخب کر کے اقتدار کی کرسی تک پہنچایا، لیکن آپ کے وعدے فقط وعدے ہی رہ گئے۔ کیا یہ وعدے، دعوے اور بڑی بڑی باتیں صرف کرسی حاصل کرنے کے لئے تھیں؟ ان خیالات کا اظہارالطاف شکور نے گذشتہ رات ضعیفوں کے عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی علیل والدہ کی ان کے گھر جا کر عیادت کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی، نائب صدر طارق چاندی والا اور دیگرمرکزی ذمیداران و عہدیداران بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کی والدہ نے پوری قوم کا شکریہ اداکیا کہ ا نہوں نے ڈاکٹر عافیہ کو اپنی بیٹی اور اپنی بہن سمجھ کر اس جنگ میں ان کا ساتھ دیا۔الطاف شکور نے کہا کہ اپنی بے گناہ بیٹی کے لئے 86 سال قید کی سزا سننا کسی ماں کے لئے آسان بات نہیں ہے، میں سلام پیش کرتا ہوں اس ماں کو جس نے بڑے حوصلے سے یہ خبر سنی اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ وزیر اعظم صاحب آپ بھی گذشتہ حکمرانوں والی روش اپنانے سے پہلے سوچ لیں کہ قدرت نے ان کا کیا حشر کیا، آج وہ کہاں ہیں؟ عافیہ  نہ صرف قوم کی بیٹی ہے بلکہ سچی محب وطن بھی ہے جسے قوم کے نوجوانوں کا مستقبل سدھارنے کی پاداش میں آج امریکی جیل میں 17 سال گذر چکے ہیں۔ عافیہ سچی پاکستانی ہونے کی سزا کب تک بھگتے گی؟ عافیہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے چہروں کو بے نقاب کرنے کی کسوٹی ہے جو الیکشن کے وقت سب کو یاد آجاتی ہے لیکن کرسی پر بیٹھتے ہی سب بھول جاتے ہیں۔الطاف شکور نے اس موقع پر خاتون اول پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ آپ تو اپنے شوہر کے کتے کی تکلیف دیکھ کر بھی بے قرار ہو جاتی ہیں تو کیا بستر علالت پر پڑی ایک ماں کی تکلیف کو محسوس نہیں کرسکتیں جو اپنی بیٹی کی منتظر ہے؟ جس کی نگاہیں ہمہ وقت دروازے کو تکتی رہتی ہیں، جو گھر سے کہیں نہیں جاتی کہ نجانے کب اس کی بیٹی گھر واپس لوٹ آئے؟ آپ بھی تو ایک ماں ہیں، خدارا وزیر اعظم صاحب کو عافیہ کے لئے ان کا فرض یاد دلائیں۔ الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاسبان سچائی اور ایمانداری کی اس جنگ میں عافیہ اور ان کی فیملی کے ساتھ ہے اورعافیہ کی بخیریت واپسی کے لئے آخری  لمحات تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں