19

نیشنل اسٹیڈیم اور ایکسپو سینٹر کے اطراف کے علاقے میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہے ہیں الطاف شکور

کراچی  ( عزیز فاطمہ سے)  پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ نیشنل اسٹیڈیم اور ایکسپو سینٹر کے اطراف کے علاقے میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ کھیل اور تجارتی سرگرمیاں ضروری ہیں لیکن اذیت ناک قیمت پر نہیں۔ کراچی کو چارٹر سٹی کا آئینی درجہ دے کر رش والے علاقوں اور کاروباری علاقوں کے لئے نئے ٹریفک پلان کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ پورا شہر میچ کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہو چکا ہے۔ طلبہ و طالبات، اسکولوں و کالجوں اور یونیورسٹیوں سے گھروں تک5,5 گھنٹوں کی تاخیر سے پہنچتے رہے، مریض ایمبولینسوں میں تڑپتے رہے اور اسپتالوں تک نہیں پہنچ سکے جبکہ روزگار کے لئے گھر سے نکلنے والے بھی سڑکوں پر کئی گھنٹے دھواں اور خاک سونگھتے سونگھتے بے حال ہو گئے۔ وقت گذاری، ذاتی مفاد اور مستقبل کے لئے وژن نہ رکھنے والی لیڈر شپ نے کراچی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے مزید کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم سے متصل خالی قطعہ زمین پر پلاٹنگ کر کے ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر اربوں اور کھربوں روپے کما لئے گئے، کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ نیشنل اسٹیڈیم کے سامنے نیشنل کوچنگ سینٹر بنا کر اطراف کی جگہ نجی اسپتال کو اونے پونے داموں دے دی گئی، کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی جبکہ ایکسپو سینٹر کے برابر میں خالی قطعہ زمین پر سندھ  ریزرو پولیس نے قبضہ جما لیا،انتظامیہ اور عدلیہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ بڑے شہروں میں آئندہ 100 اور200 سالوں کے لئے منصوبہ بندی ہوتی ہے جبکہ اہل کراچی کے حصے میں ایسی لیڈر شپ آئی جس نے وقت گذاری اور ذاتی مفاد دیکھا اور شہر کی قیمتی زمین کی بندر بانٹ ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ 2 دنوں سے نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف میں بری طرح ٹریفک جام ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس صورت حال کا اعلی سطحی نوٹس لیا جائے۔ عوام کو ان مقامات سے وقت ضائع کئے بغیر با سہولت گذرنے اور نیشنل اسٹیڈیم یا ایکسپو سینٹر آنے جانے والوں کے لئے مین یونیورسٹی روڈ، کارساز روڈ، اسٹیڈیم روڈ اور سر شاہ سلیمان روڈ کے علاوہ عقبی سڑکیں یا فلائی اوور بنا کر مختص کئے جائیں۔ وفاقی، صوبائی اور سٹی حکومت ٹریفک ماہرین اور ٹاؤن پلانرز کی مدد سے شہر میں نیا ٹریفک پلان وضع کریں۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو نیشنل اسٹیڈیم اور ایکسو سینٹر کو شہر سے باہر لے جایا جائے تا کہ کراچی کے لاکھوں شہری اذیت ناک ٹریفک جام سے نجات حاصل کر سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں