13

عراق میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہروں میں 34 افراد ہلاک

بغداد: عراق میں حکومت مخالف احتجاج میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 34 افراد ہلاک ہوگئے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کرفیو کے نفاذ کے باوجود عراق میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف مظاہروں میں شدت برقرار رہے، تین دن سے جاری احتجاجی مظاہروں میں پولیس سے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں 34 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ درجنوں زخمی ہیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک ہفتے قبل کرپشن، بے روزگاری اور بدانتظامی کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے تاہم مظاہروں میں شدت اس وقت آئی جب عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی المنتفكي نے کرفیو نافذ کر کے مظاہرین کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی۔ادھر وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے مظاہرین سے کہا ہے کہ اُن کے مطالبات سُن لیے گئے ہیں اور اب وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ کرفیو کے نفاذ جیسے مشکل اور کڑے فیصلے ملک کی سلامتی کے تناظر میں کیے گئے جس کا مقصد مظاہرین سے سیاسی پرخارش نکالنا ہرگز نہیں تھا۔دوسری جانب سے مظاہرین نے کرپشن کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور کرپٹ وزرا کی برطرفی تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات سُن لینا کافی نہیں، مطالبات کی منظوری تک سڑکوں پر احتجاج جاری رہے گا۔واضح رہے کہ پیشے کے لحاظ سے ماہر معیشت وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گزشتہ برس اکتوبر میں منصب سنبھالا تھا وہ اس سے قبل عبوری حکومت میں وزیرخزانہ بھی رہے اور 2005 سے 2011 تک عراق کے نائب صدر اور 2014 سے 2016 تک وزیر تیل کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں