12

نیب کے اختیارات کو محدود کرنا ملک و قوم سے سنگین دشمنی اور بد دیانتی کے مترادف ہو گا۔الطاف شکور

کراچی  (امجد حسین پیر زادہ   )  پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہ اہے کہ نیب کے اختیارات کو محدود کرنا ملک و قوم سے سنگین دشمنی اور بد دیانتی کے مترادف ہو گا۔پڑوسی ملک چین سے 12ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کا پاکستان کسٹم میں ریکارڈ  6ارب ڈالر امپورٹ کے معاملے پر” نیب” کوتحقیقات کے مکمل اختیارات دیئے جائیں۔ کرپٹ تاجروں اور سرکاری افسران کی ملی بھگت کو توڑا جائے۔ اس اسکینڈل کے موقع پر ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کہاں سو رہے تھے؟ لوٹ مار کی اربوں کھربوں روپے کی رقم کی قومی خزانے میں واپسی اور کرپٹ عناصر کو قرار واقعی سزا اس ملک کے کروڑوں عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ اس کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ دور کی جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کرہ بیان میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ حکومتی سطح پر یہ انکشاف حیران کن اور پریشان کن ہے کہ برادر ملک چائنا کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی تاجروں نے 12 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کی لیکن پاکستانی کسٹم حکام نے اسے 6ارب ڈالر کی امپورٹ قرار دیا ہے۔ یہ ایک نیا میگا کرپشن اسکینڈل ہے۔ کسٹم افسران اور رشوت خور مفاد پرست تاجروں کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگا دیا گیاہے۔ اس پر پی ٹی آئی حکومت نے چپ کیوں سادھ لی ہے؟ اس واقعے کے بعد نیب کے اختیارات کو محدود کرنے اور میگا اسکینڈل کی تحقیقات سے نیب کو روک دینے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جو ایک اورمجرمانہ سازش ہے۔ نیب، سپریم کورٹ اور دیگر اداروں کو مزید با اختیار اور مجرم مافیاؤں سے نمٹنے کے لئے مضبوط بنانا ضروری ہے نہ کہ ان کے اختیارات محدود کئے جائیں۔سی بی آر اور ایف بی آر جیسے اداروں کو بھی نیب سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور قومی خزانے میں لوٹ مار کی رقم واپس حاصل کرنے کے لئے متحرک کردار ادا کرنا چاہئے۔ الطاف شکور نے کہا کہ بلڈرز مافیا نے بے گناہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ ملک کے لاکھوں شہری ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے ڈسے ہوئے ہیں، اپنے کھربوں کی پونجی لٹا چکے ہیں۔ کرپٹ بلڈرز مافیا نے یتیموں، بیواؤں اور ضعیف پنشنرز کو بھی نہیں بخشا اور انہیں برباد کر دیا۔ اب ایک بلڈر نے 480ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں اور مزید کروانے ہیں تو اسے کس طرح بے گناہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی جیبوں سے لوٹی ہوئی رقم متاثرہ عوام کو کب ملے گی؟اور اس لوٹ مار میں جو سرکاری افسران بلڈرز مافیا کے ساتھ ملوث ہو کر قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے تھے انہیں کب سزا ملے گی؟ ملک کی بڑی تاجر برادری کو عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی استحکام کے لئے اداروں کے ساتھ ایک پیج پر آنا چاہئے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کو اب کرپٹ افسران اور کرپٹ تاجروں کی سرپرستی ختم کر دینی چاہئے۔ نیب اور دیگر ادارے اس بات کاخیال رکھیں کہ گھن کے ساتھ گیہوں کو نہ پیسیں اور خوف و ہراس کے بجائے باہمی اعتماد کی فضاء قائم کر کے کاروائیاں کی جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں